Wednesday , December 19 2018

تلنگانہ اور آندھرا کیلئے چار ماہ کا بجٹ منظور

اقلیتی فینانس کارپوریشن کی سبسیڈی اسکیم پر عمل آوری کی راہ ہموار

اقلیتی فینانس کارپوریشن کی سبسیڈی اسکیم پر عمل آوری کی راہ ہموار
حیدرآباد ۔21 ۔ مئی ۔ (سیاست نیوز) ریاستی گورنر نے دو نئی ریاستوں کیلئے 2 جون کے بعد 4 ماہ کی مدت کیلئے بجٹ کو منظوری دیدی ہے۔ آندھراپردیش کیلئے 34,595 کروڑ جبکہ تلنگانہ کیلئے 26,516 کروڑ کی منظوری دی گئی ۔ اس بجٹ میں اقلیتی بہبود سے متعلق بجٹ بھی شامل ہے جس کا استعمال آئندہ چار ماہ کے دوران مختلف اسکیمات پر عمل آوری اور تنخواہوں کی ادائیگی پر کیا جائے گا ۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ مالیاتی سال اقلیتی بہبود کیلئے مجموعی بجٹ 1027 کروڑ تھا اور اسی کے مطابق گورنر نے تمام محکمہ جات کیلئے چار ماہ کا بجٹ جاری کردیا ہے۔ دونوں ریاستوں کی نئی حکومتیں جائزہ حاصل کرنے کے بعد متعلقہ اسمبلیوں میں باقاعدہ بجٹ پیش کریں گی۔ ذرائع نے بتایا کہ اقلیتی بہبود کیلئے چار ماہ کے بجٹ کی اجرائی کے بعد انتخابی ضابطہ اخلاق کے سبب جن اسکیمات پر عمل آوری کو روک دیا گیا تھا، اب دوبارہ ان اسکیمات کا آغاز ہوگا۔

اقلیتی فینانس کارپوریشن کی بینکوں سے مربوط سبسیڈی کی اسکیم پر عمل آوری کی راہ ہموار ہوچکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گورنر نے سبسیڈی کی رقم جاری کرنے کی اجازت دیدی ہے اور اس سلسلہ میں اقلیتی فینانس کارپوریشن کو تحریری طور پر مکتوب حاصل ہوا ہے۔ انتخابی ضابطہ اخلاق کے سبب سبسیڈی کی اجرائی سے متعلق اسکیم پر روک لگادی گئی تھی۔ کارپوریشن نے اسکیم کے استفادہ کنندگان کا انتخاب کرلیا اور اب صرف سبسیڈی کی اجرائی باقی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اندرون دو یوم استفادہ کنندگان کو منظورہ سبسیڈی کی رقم ان کے بینک کھاتوں میں جمع کردی جائے گی ۔ اس کے علاوہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کی دیگر اسکیمات اور اردو اکیڈیمی کی جاریہ اسکیمات میں بھی شدت پیدا کردی جائے گی ۔ سبسیڈی کی اسکیم کے تحت گزشتہ مالیاتی سال حکومت نے 100 کروڑ روپئے مختص کئے تھے۔ تاہم تین اقساط کا بجٹ جاری کیا گیا جبکہ آخری قسط انتخابی سرگرمیوں کی نذر ہوگئی۔

TOPPOPULARRECENT