Sunday , September 23 2018
Home / Top Stories / تلنگانہ اور آندھرا سے وعدوں کی تکمیل کی جائے

تلنگانہ اور آندھرا سے وعدوں کی تکمیل کی جائے

تلگودیشم و وائی ایس آر کانگریس کے احتجاج کی تائید، لوک سبھا میں بجٹ پر کویتا کی تقریر
حیدرآباد۔ 8 فبروری (سیاست نیوز) ٹی آر ایس رکن پارلیمنٹ کے کویتا نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ آندھراپردیش تنظیم جدید قانون کے تحت تلنگانہ اور آندھراپردیش سے کئے گئے وعدوں پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے۔ کویتا نے آج لوک سبھا میں مرکزی بجٹ پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے آندھراپردیش کے تلگودیشم اور وائی ایس آر کانگریس ارکان کے احتجاج کی تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی حلیف جماعت ہونے کے باوجود تلگودیشم ارکان کے پارلیمنٹ میں احتجاج سے ملک کو غلط پیام جارہا ہے لہٰذا مرکز کو اس مسئلہ کی یکسوئی کرنی چاہئے۔ کویتا نے کہا کہ ریاست کی تقسیم کے وقت تنظیم جدید قانون میں تلنگانہ اور آندھراپردیش سے کئی وعدے کیے گئے۔ ان کا احترام ہونا چاہئے۔ حکومت ایک جاریہ عمل ہے، کانگریس حکومت ہو یا بی جے پی حکومت، ایوان کے وعدوں کی تکمیل ان کی ذمہ داری ہے۔ کویتا نے کہا کہ گزشتہ تین دن سے تلگودیشم اور وائی ایس آر کانگریس ارکان احتجاج کررہے ہیں۔ ہم ان کے احتجاج کی تائید کرتے ہیں۔ کویتا نے کہا کہ ارون جیٹلی کا پیش کردہ بجٹ حکومت کی میعاد کا آخری بجٹ ہے۔ بجٹ پر ملک بھر کی نظریں تھیں اور عوام نے کئی توقعات وابستہ کی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو بھی بجٹ سے کافی امید تھی لیکن کسان مرکزی بجٹ سے ناامید ہوچکے ہیں کیوں کہ ان کیلئے بجٹ میں کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کاروبار کو آسان بنانے جو اقدامات کیے ہیں وہ لائق ستائش ہیں۔ دنیا بھر میں تجارت کے شعبہ میں ہندوستان کو 41 واں رینک حاصل ہوا ہے۔ مرکز نے تجارت کو آسان بنانے انکم ٹیکس میں رعایت دی، جی ایس ٹی متعارف کیا ۔ تمام ریاستوں سے تعاون حاصل کرکے جی ایس ٹی کونسل کا قیام عمل میں آیا۔ ان ا قدامات کے سبب تجارت کو آسان بنانے میں مدد ملی اور حکومت کی پالیسی کامیاب رہی لیکن افسوس کہ زراعت کے معاملہ میں حکومت نے ایسی کوئی حکمت عملی تیار نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار برسوں میں تجارت سے متعلق 31 بلس پارلیمنٹ منظور کیے گئے لیکن زراعت کے سلسلہ میں صرف 2 بلس کو منظوری دی گئی جس سے حکومت کی اس شعبہ سے عدم دلچسپی کا اظہار ہوتا ہے۔ کویتا نے کہا کہ حکومت کو درپیش تمام اہم مسائل پر ٹی آر ایس نے تائید کی ہے۔ جی ایس ٹی اور نوٹ بندی کی ٹی آر ایس نے تائید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارت کے شعبہ میں پیداوار سے لے کر فروخت تک جب حکومت صنعت کاروں سے تعاون کرسکتی ہے تو پھر کسانوں کو فصلوں کی تیاری سے پیداوار کی فروخت تک تعاون کیوں نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ 2016-17 بجٹ میں فرٹیلائزر پر سبسیڈی 70 ہزار کروڑ بتائی گئی تھی جو فوڈ سبسیڈی کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ حکومت نے اعلان کیا تھا کہ فرٹیلائزر کی سبسیڈی کمپنیوں کو دینے کے بجائے کسانوں کو فراہم کی جائے لیکن ابھی تک اس پر عمل آٓوری نہیں کی گئی۔ انہوں نے وزیر فینانس سے وضاحت کا مطالبہ کیا۔ کویتا نے کالیشورم پراجیکٹ کو قومی پراجیکٹ کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس سلسلہ میں مرکز سے اپیل کی جاچکی ہے۔

TOPPOPULARRECENT