Wednesday , December 13 2017
Home / ہندوستان / ’’تلنگانہ اور اڈیشہ میں ماؤنواز اپنا بدنما سر پھر اُبھار رہے ہیں ‘‘

’’تلنگانہ اور اڈیشہ میں ماؤنواز اپنا بدنما سر پھر اُبھار رہے ہیں ‘‘

کئی ریاستوں میں مخدوش صورتحال ، موثر پولیس نگرانی کی ضرورت ، سی آر پی ایف سربراہ کا بیان
نئی دہلی ۔ 19 ۔ فروری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : نکسلائٹ سرگرمیوں کے انسداد کی مہم کی قیادت کرنے والی سی آر پی ایف کے سربراہ نے انکشاف کیا ہے کہ ماؤنواز لعنت اڈیشہ اور نو تشکیل شدہ ریاست تلنگانہ میں کچھ عرصہ تک بے اثر رہنے کے بعد اپنا بدنما سر دوبارہ اٹھا رہی ہے جس کے نتیجہ میں بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ ریاستوں کی صورتحال غیر یقینی ہوگئی ہے ۔ سنٹرل ریزرو پولیس فورس کے ڈائرکٹر جنرل پرکاش مشرا نے کہا کہ ماؤنواز ۔ تشدد سے بدترین متاثرہ ریاستوں چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ کے علاوہ آندھرا پردیش ۔ اڈیشہ سرحد اور خود اڈیشہ کے اندرونی علاقوں میں جاری نکسلائٹ سرگرمیوں کے خلاف جاری مہم پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ پرکاش مشرا نے جو اڈیشہ کے سابق ڈائرکٹر جنرل پولیس بھی ہیں کہا کہ اس ریاست میں ماؤنواز سرگرمیوں کا مجموعی طور پر صفایا کردیا گیا تھا لیکن آندھرا پردیش سے متصلہ ضلع کوراپٹ کے نارائن پٹنا علاقہ میں ماؤنواز سرگرمیوں کا دوبارہ احیاء ہورہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ’ اس کی کئی وجوہات ہیں انسدادی کارروائیوں میں ضابطوں کا عدم استعمال یا پولیس نگرانی کا فقدان بھی شامل ہے ۔ چنانچہ حتی کہ آندھرا پردیش کے چند علاقوں اور تلنگانہ میں یہ خطرہ بدستور برقرار ہے ‘ ۔ ملک میں بائیں بازو کی انتہاء پسندی کی صورتحال سے متعلق ایک سوال پر سی آر پی ایف کے سربراہ نے کہا کہ ’فی الحال میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ صورتحال مشتبہ اور غیر یقینی ہے لیکن اب جس طرح ان علاقوں میں انسدادی مہم اور ترقیاتی کام جاری ہیں اس تناظر میں مئیں سمجھتا ہوں کہ اس ( نکسلائٹ تشدد ) سے نمٹنے کے بہتر نتائج برآمد ہوسکتے ہیں ۔ بالخصوص ماؤنواز تشدد سے متاثرہ علاقوں میں انسدادی مہم اور علاقائی و عوامی ترقیاتی کاموں کو نہیں روکا جانا چاہئے ‘ ۔ پرکاش مشرا نے جو ایک سال تک ملک کے سب سے بڑے نیم فوجی فورسیس کی قیادت کرنے کے بعد اس ماہ کے اواخر میں سبکدوش ہورہے ہیں اپنے ان احساسات کا ایک ایسے وقت اظہار کیا جب مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ آندھرا پردیش اور اڈیشہ میں ماونواز تشدد سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کررہے ہیں ۔ مرکزی وزارت داخلہ نے آندھرا پردیش حال ہی میں مزید 1000 بارڈر سیکوریٹی فورسیس کے اہلکاروں کی فراہمی کو منظوری دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 2014 کے دوران نکسلائٹوں کے خلاف کارروائیوں میں سی آر پی ایف کے 52 اہلکار ہلاک ہوئے تھے لیکن 2015 میں ایسی مہمات میں صرف پانچ اہلکار فوت ہوئے ۔۔

TOPPOPULARRECENT