Thursday , December 13 2018

تلنگانہ اور سیما آندھرا کانگریس کمیٹیوں میں اقلیتیں نظر انداز

حیدرآباد ۔12 ۔ مارچ (سیاست نیوز) کانگریس ہائی کمان کی جانب سے تلنگانہ اور سیما آندھرا کیلئے اعلان کردہ علحدہ کمیٹیوں میں اقلیتی طبقہ کو مناسب نمائندگی نہیں دی گئی جس کے باعث پارٹی کے اقلیتی قائدین اور کیڈر میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ ہائی کمان نے کل تلنگانہ کیلئے علحدہ پردیش کانگریس کمیٹی ، تشہیری کمیٹی اور انتخابی منشور کمیٹی کا اع

حیدرآباد ۔12 ۔ مارچ (سیاست نیوز) کانگریس ہائی کمان کی جانب سے تلنگانہ اور سیما آندھرا کیلئے اعلان کردہ علحدہ کمیٹیوں میں اقلیتی طبقہ کو مناسب نمائندگی نہیں دی گئی جس کے باعث پارٹی کے اقلیتی قائدین اور کیڈر میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ ہائی کمان نے کل تلنگانہ کیلئے علحدہ پردیش کانگریس کمیٹی ، تشہیری کمیٹی اور انتخابی منشور کمیٹی کا اعلان کیا۔ تلنگانہ کیلئے 22 رکنی اور سیما آندھرا کیلئے 20 رکنی الیکشن کمیٹیوں کا اعلان کیا گیا لیکن دونوں کمیٹیوں میں اقلیتی قائدین کے نمائندگی برائے نام ہے۔ تلنگانہ کی 22 رکنی کمیٹی میں دو سابق وزراء محمد علی شبیر اور محمد فرید الدین کو شامل کیا گیا جبکہ سیما آندھرا کمیٹی میں سابق وزیر احمد اللہ کا نام شامل ہے۔ کانگریس پارٹی تلنگانہ میں اقلیتی طبقہ کی تائید حاصل کرنا چاہتی ہے جو کہ تلنگانہ ریاست میں جملہ آبادی کا تقریباً 15 فیصد ہوں گے۔ اقلیتوں کی تائید کے بغیر کوئی بھی پارٹی تلنگانہ میں تشکیل حکومت کا خواب پورا نہیں کرسکتی لیکن انتخابات سے قبل ہی کمیٹیوں میں اقلیتی طبقہ کو نظرانداز کئے جانے سے اقلیتوں میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ ٹی آر ایس نے محبوب نگر اسمبلی حلقہ کے لئے اقلیتی طبقہ کے مضبوط دعویدار سید ابراہیم کو ٹکٹ سے محروم کردیا اور کانگریس پارٹی میں اپنی کمیٹیوں میں مناسب نمائندگی سے گریز کیا ہے۔ توقع کی جارہی تھی کہ اقلیتی قائدین کو پردیش کانگریس کمیٹی انتخابی مہم کمیٹی یا پھر انتخابی منشور کمیٹی میں سے کسی ایک کا صدرنشین مقرر کیا جائے گا لیکن تینوں کمیٹیوں کے صدور نشین کا تعلق دیگر طبقات سے ہے۔

پارٹی ہائی کمان نے اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ الیکشن کمیٹی کی صدارت کسی اقلیتی قائد کو دی جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ صرف انتخابی مہم کمیٹی کے معاون صدرنشین کی حیثیت سے محمد علی شبیر کو نامزد کیا گیا۔ الیکشن کمیٹی میں نمائندگی اس لئے بھی کوئی خاص اہمیت کی حامل نہیں کیونکہ انتخابات سے قبل صرف ایک مرتبہ ہی اس کمیٹی کا اجلاس ہوتا ہے اور امیدواروں کا انتخاب کانگریس ہائی کمان کرتا ہے جبکہ کمیٹی رسمی طور پر اس کی منظوری دیتی ہے۔ آندھراپردیش کی تاریخ میں اب تک چار مرتبہ مسلم اقلیت سے تعلق رکھنے والے قائدین پردیش کانگریس کی صدارت پر فائز کئے گئے۔ ان میں سید اسماعیل، محمد احمد اللہ، ایم اے عزیز اور کمال الدین احمد شامل ہیں۔ اقلیتوں کو توقع تھی کہ تلنگانہ کا پہلا پی سی سی صدر مسلمان ہوگا لیکن کانگریس ہائی کمان نے اس عہدہ کیلئے بی سی طبقے کو ترجیح دی ہے۔

محمد علی شبیر گزشتہ 14 برسوں سے پردیش کانگریس کمیٹی میں اہم عہدوں سے فائز رہے۔ وہ 2004 ء انتخابات میں انتخابی منشور کمیٹی کے معاون صدرنشین جبکہ 2009 ء میں انہیں الیکشن کمیٹی اور انتخابی تشہیر کمیٹی میں شامل کیا گیا تھا۔ وہ 2006 ء سے پارٹی کی 6 رکنی کوآرڈینیشن کمیٹی میں بھی شامل رہیں۔ وائی ایس راج شیکھر ریڈی ، کے روشیا اور کرن کمار ریڈی کے دور میں بھی وہ کوآرڈینیشن کمیٹی کے رکن رہے۔ اے آئی سی سی جنرل سکریٹری غلام نبی آزاد اور آندھراپردیش امور کے انچارج ڈگ وجئے سنگھ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ پردیش کانگریس کی صدارت کیلئے ان کے نام کے بارے میں سنجیدہ تھے لیکن لمحہ آخر میں فہرست تبدیل کردی گئی۔ کانگریس قائدین اور کارکن اس بات کو لیکر فکرمند ہیں کہ کیا ٹکٹوں کی تقسیم میں اقلیتوں کو مناسب حصہ داری مل پائے گی یا نہیں؟ ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT