Saturday , January 20 2018
Home / مضامین / تلنگانہ این آر آئیز کیا چاہتے ہیں

تلنگانہ این آر آئیز کیا چاہتے ہیں

کے این واصف

کے این واصف
کوئی نصف صدی قبل علاقہ تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کے خلاف جو صدائے احتجاج بلند ہوئی تھی اسے اب جاکر انصاف حاصل ہو۔ تلنگانہ بل منظور ہوکر مرکزی حکومت نے اس آواز کو ہمیشہ دبانے کی کوشش کی ۔ کبھی طاقت کے بل پر ، کبھی علاقے کے عوام کو جھوٹی تسلیاں دیکر اور کبھی قائدین کو خرید کر لیکن 2001 ء میں یہ احتجاج ’’تلنگانہ راشٹریہ سمیتی (ٹی آر ایس) کی شکل میں پھر ایک بار شدت کے ساتھ اٹھا۔ 13 سال کے اس طویل عرصہ میں مرکز نے پھرایک بار اس احتجاج کو دبانے کے تمام حربے استعمال کئے ۔ مگر پارلیمنٹ میں بیٹھے سیاسی قائدین نے جب آسمانِ سیاست پر خطرے کے بادل منڈلاتے دیکھے تو آخر کار تلنگانہ والوں کی دیرینہ مانگ پوری کرنے کی طرف مائل ہوئے اور 18 فروری 2014 ء کو تلنگانہ کا یہ تاریخی بل منظور کیا گیا ۔ اطلاعات کے مطابق علاقہ تلنگانہ اور خصوصاً حیدرآباد شہر میں خوشیوں کی لہر ہے، ہر طرف جشن کا منظر دکھائی دے رہا ہے۔

مملکت سعودی عرب میں بھی کوئی ڈھائی لاکھ باشندے ہیں جن کا تعلق علاقہ تلنگانہ سے ہے۔ ا پنے وطن علاقہ تلنگانہ کے تئیں ان کے بھی اپنے جذبات ہیں جو انہوں نے یہاں مقامی اخبارات کے سروے اور سوشیل میڈیا پر ظاہر کئے ہیں۔ علحدہ ریاست تلنگانہ کے قیام پر ملے جلے احساسات ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ نصف صدی ناانصافی کی چکی میں پسنے کے بعد اور علحدہ ریاست کے حصول کی جدوجہد میں ایک ہزار سے زائد نوجوان طلباء کی جانیں گنواں کر ہم نے علحدہ ریاست حاصل کی ہے ۔ اب سنجیدگی کے ساتھ ہمیں اس کی تعمیر و ترقی میں جٹ جانا چاہئے ۔ گلف این آر آئیز میں علاقہ تلنگانہ کے باشندوںکی ایک بڑی تعداد ہے ۔ یہ لوگ سیما آندھرا کے باشندوں کی علاقہ تلنگانہ پر غاصبانہ قبضہ اور ملازمتوں میں علاقائی تعصب سے تنگ آکر تلنگانہ علاقے کے باشندوں نے خلیجی ممالک کا رخ کیا۔ اب ہمیں اپنی علحدہ ریاست حاصل ہوئی ہے لیکن اس کے ساتھ ہم این آر آئیز کو یہ خوف بھی ستانے لگا ہے کہ کہیں فرقہ پرست طاقتیں علاقے میں اپنے قدم نہ جمالیں اور علاقہ تلنگانہ میں امن و اتحاد اور بھائی چارہ کی قدیم روایتوں کو تہس نہس نہ کردیں۔ گلف این آر آئیز کی پہلی ترجیح وطن کا امن و امان ہوتی ہے کیونکہ یہاں رہنے والوں کی اکثریت کے بیوی بچے وطن میں رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے ماں باپ ، بہن بھائی اور قریبی رشتہ دار جو وہاں مقیم ہیں، ان کی سلامتی ان کیلئے سب سے اہم شئے ہے۔ یہاں برسرکار اہل تلنگانہ اس بات پر بھی خوش ہیں کہ اب ان کی زبان کا مخصوص لہجہ جو پچھلے پچاس سال میں آلودہ ہوگیا ، تلنگانہ کی تہذیب ، روایتیں پھر سے ابھریں گی جو آندھرائی لہجہ اور تہذیب کے پیچھے دب کر رہ گئی تھیں۔

علاقہ تلنگانہ اور خصوصاً حیدرآباد کی ایک خاص تہذیب تھی جسے سیما آندھرا کے باشندوں کی اس علاقہ میں بھاری تعداد میں آمد سے تباہ ہوگئی اور آندھرائی گھس پیٹھیوں نے علاقے نے تلنگانہ کے اوقافی جائیدادوں پر ناجائز قبضے کر کے ان مواقع کو ختم کردیا جن کے ذریعہ محکمہ اوقاف فلاحی اور منفعت بخش اسکیموں کو روبعمل لاکر اس کے حقداروں کو فائدہ پہنچا سکتا تھا ۔ این آر آئیز کی خواہش ہے کہ تلنگانہ اپنے روایتی جذبہ اتحاد کو قائم رکھے جس کی بنیاد قلی قطب شاہ نے رکھی تھی ۔ این آر آئیز چاہتے ہیں کہ تلنگانہ میں جو بھی حکومت قائم کر ے وہ عوام کو ایک صاف و شفاف حکومت دے جو ملک میں گڈ گورنس کی مثال قائم کرے۔ حکومت صرف عوام کے ووٹ نہیں ان کا اعتماد حاصل کرے اور اسے قائم رکھے ۔ اہل تلنگانہ کا علحدہ ریاست کے حصول کا جو مقصد تھا اس کو پورا کرے ۔ تلنگانہ ریاست کے حصول کی تاریخی کامیابی کے ثمر تلنگانہ میں بلا تفریق ہر اس فرد تک پہنچے جو پچھلی نصف صدی سے ناانصافی کا شکار رہا ہے ۔ ریاست کے اقلیتوں کو اپنے ہم قدم رکھیں۔ انہیں ان کا حق و جائز مقام عطا کریں کیونکہ علحدہ ریاست کی جدوجہد مذہبی بنیاد پر نہیں کی گئی تھی۔

تلنگانہ میں حکومت قائم کرنے والی سیاسی جماعت کو یہ سوچ کر چلنا چاہئے کہ علاقہ کے پچھڑے ہوئے اور معاشی طور پر پسماندہ افراد کے ساتھ پھر ناانصافی نہ ہو تاکہ پھر کوئی اسی طاقت کو ریاست میں جنم لینے کا موقع ملے جو ریاست کی اقلیتوں اور کمزور طبقات کی مدد کیلئے مسیحا بن کر سامنے آئیں۔ تلنگانہ کو اپنے بھائی چارہ اورانسانیت کی روایت کو قائم رکھنا چاہئے جو اہل تلنگانہ نے اپنے اس طویل احتجاج کے دوران قائم رکھا۔ ہم اپنے احتجاج میں کبھی کسی آندھرائی باشندے کو نقصان نہیں پہنچایا جو 50 سال سے ہم پر مسلسل مظالم ڈھا رہا تھا بلکہ ہمارے نوجوانوں نے اپنے احتجاج میں شدت پیدا کرنے کیلئے خودسوزی کر کے اپنی جان قربان کی مگر کسی سیما آندھرا کے باشندے کی جان نہیں لی۔ سیما آندھرا کے ایم پیز نے پارلیمنٹ ہاؤز میں بے شرمی اور غیر انسانی حرکتوں کی انتہا کردی ۔ لوک سبھا کی کارروائی درہم برہم کرنے کیلئے مرچ پاؤڈر کا اسپرے استعمال کیا ۔ راجیہ سبھا میں اسپیکر پر حملہ کردیا لیکن تلنگانہ کے کسی ایم پی نے اخلاقی حدود پار نہیں کئے ۔ لہذا تلنگانہ قائدین کو اپنے صبر و تحمل ، اخلاق و انسانیت کے جذبہ کو قائم رکھنا چاہئے ۔ عدل و انصاف اور بھائی چارے کے شعار کو مضبوطی سے تھامے رکھنا چاہئے۔ تب جاکر ہم ایک ایسی حکومت کا قیام عمل میں لاسکیں گے جو سابق متحدہ آندھرا حکومت سے مختلف ہو۔ ورنہ یہ جدوجہد ، ا پنی علحدہ ریاست کا حصول بے معنی ہوکر رہ جائے گا۔

محکمہ کسٹم کے نئے احکام
ہندوستان کے محکمہ کسٹم کے اعلان کردہ نئے قوانین نے ہندوستان سے باہر رہنے والوں یا این آر آئیز میں ایک تشویش پیدا کردی ۔ نئے کسٹم قوانین کے مطابق ایسے مسافر جن کے پاس دس ہزار روپئے (605) ریال ہوں گے ۔ انہیں ہندوستان پہنچنے پر کسٹم حکام کے سامنے ظاہر کرنا ہوگا ۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ان قواعد پر یکم مارچ 2014 ء سے عمل درآمد ہوگا۔ مسافروں سے ان کے سامان کی تعداد اور ہینڈ بیگ کے بارے میں بھی پو چھا جائے گا ۔ کسٹمز پیکیج ڈکلیریشن (ترمیمی) ریگولیشنز نظریہ 2014 ء کے تحت ہندوستانی شہری کو وطن سے جاتے ہوئے امیگریشن فارم بھرنا ہوگا ۔ بیرون ملک سے وطن آنے والوں کو یہ فارم بھرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔ ہندوستان آنے والے تمام مسافروں کو ایک نئے ’’انڈین کسٹمز ڈکلیریشن فارم‘‘ پُر کرنا ہوگا جو اس فارم کے ساتھ منسلک ہوگا اور جو اس سے مختلف ہوگا ۔ اس فارم میں ایسی اشیاء کو ظاہر کرنے کیلئے کہا گیا ہے جس پر ڈیوٹی عائد ہوگی یا جو ممنوعہ اشیاء میں ہیں تاکہ کسٹم افسر انہیں چیک کرسکے ۔ اس کے علاوہ سونے کے زیورات کا ریکارڈ بھی درج کرنا ہوگا ۔ اخبار کے مطابق مسافروں سے کہا جائے گا کہ وہ کسی بھی ممنوعہ اشیاء ، سونے کے زیورات (جو فری الاؤنس سے زیادہ ہوں) ڈکلیر کریں۔ مسافر کو ان ممالک کا بھی ذکر کرنا ہوگا جہاں کا اس نے پچھلے 6 دنوں میں دورہ کیا ہے۔

ان نئے کسٹم قوانین کے بارے میں شائع اطلاع میں وضاحت طلب بات یہ ہے کہ دس ہزار ہندوستانی روپئے سے زیادہ رکھنے والے کو اپنے ساتھ موجود رقم جو ڈکلیر کرنی پڑے گی کیا مسافر کو اس زائد رقم پر ٹیکس دینا ہوگا یا کوئی پابندی اس پر عائد ہوگی ۔ اس اعلان میں وضاحت نہیں کی گئی ہے کیونکہ آج کے دور میں اگر کوئی مسافر صرف دس ہزار روپئے Value کی بیرونی کرنسی ساتھ لائے تو وطن چھٹی پر جانے والے کیلئے یہ رقم بہت معمولی ہے۔ مثال کے طور پر کوئی مسافر حیدرآباد ایرپورٹ پر پہنچتا ہے اور اسے وہاں سے اپنے ضلع یا دور دراز کوئی گاؤں جانا ہو تو دس ہزار روپئے کی اس رقم کا بڑا حصہ تو ٹیکسی سے گھر پہنچنے میں خرچ ہوجائے گا۔ لہذا کسٹم حکام کو میڈیا کے ذریعہ اس بات کی وضاحت کرنی چاہئے کہ دس ہزار روپئے کی Value سے زیادہ کی کرنسی مسافر اپنے ساتھ رکھتا ہے جسے وہ کسٹم فارم میں ڈکلیر کرے گا کیا اس زائد رقم پر اسے کوئی ٹیکس ادا کرنا ہوگا ؟ سیاست نیوز نے اس سلسلے میں وضاحت کیلئے ریاض ایمبسی سے بھی رابطہ کیا ۔ ا یمبسی ذرائع نے بتایا کہ فی الحال سفارت خانے کے پاس بھی اس سلسلے میں کوئی تفصیلات موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسٹم کے اس اعلان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت ملک میں آنے والے مسافروں کے سا تھ آنے والے سونے ، دیگر اشیاء اور کرنسی کا حساب رکھنا چاہتی ہے جس کا ڈکلیریشن مسافر اپنے کسٹم فارم پر کریں گے۔

[email protected]

TOPPOPULARRECENT