Tuesday , November 21 2017
Home / اداریہ / تلنگانہ بجٹ

تلنگانہ بجٹ

تیری دولت لیکے بھی ہم کیا کریں
بے سہاروں کو سہارا چاہئے
تلنگانہ بجٹ
تلنگانہ کے دکھیارے اور بیچارے عوام بجٹ کی آس میں باغ میں چلے گئے تو وہاں سبز تو کیا کالا باغ بھی نہ تھا بلکہ بجٹ نے ہر ایک کی امیدوں پر پانی پھیردیا ہے۔ اقلیتوں کیلئے مختص کردہ بجٹ ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے تیار کردہ بجٹ کے ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ پرائمری تعلیم کو یعنی کے جی تا پی جی کا نعرہ بجٹ سے دور دیکھا گیا۔ اس کے بعد اقلیتوں کو سبز باغ کا خمار توڑ دینا چاہئے۔ بس اپنے خیال میں یا خواب میں ٹی آر ایس حکومت کے وعدوں کو ٹٹولا جائے۔ ماباقی بجٹ پر مختلف رائے ظاہر ہورہی ہے۔ بجٹ پیش کرنے والی حکومت کو شاید یہ نہیں معلوم کہ سانپ کے کتنے راستے ہوتے ہیں۔ جس بجٹ پر انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں اس کا جواب دینے کیلئے فی الحال حکمران پارٹی کے پاس وقت نہیں ہے۔ بجٹ میں آبپاشی کو ترجیح دی گئی ہے تو اس کے نتائج بھی بہتر ہونے چاہئے۔ درج فہرست ذاتوں کی بہبود کے لئے 7,122 کروڑ روپئے خرچ کئے جائیں گے۔ درج فہرست قبائیل کیلئے 3752 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔ پسماندہ طبقات کو بھی ان کے حق میں بہتر فنڈس مختص کئے گئے ہیں۔ 2538 کروڑ روپئے سے پسماندہ طبقات کا خیال رکھا جائے گا۔ ریاست کی آبادی کا سب سے زیادہ حصہ رکھنے والی اقلیت کو صرف 1,204 کروڑ کا بجٹ دیا گیا ہے۔ برہمنوں پر 100 کروڑ روپئے خرچ ہوں گے۔ گریٹر حیدرآباد و میونسپل کارپوریشن انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کرنے کے بعد ٹی آر ایس کا فرض تھا کہ شہر کی ترقی اور بلدی سہولتوں کیلئے زیادہ سے زیادہ پراجکٹس کا اعلان کرتی مگر شہری ترقی کی مد میں 4815 کروڑ روپئے خرچ کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اس رقم میں سے کئی انتخابی وعدے بھی پورے کئے جائیں گے۔ ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد سے اپنا تیسرا بجٹ پیش کرتے ہوئے ریاستی وزیرفینانس ایٹالا راجندر نے سال 2016-17ء کیلئے 1.38 لاکھ کروڑ کا بجٹ پیش کیا جو گذشتہ سال کے مقابل 13 فیصد زائد ہے۔ ریاستی حکومت نے ترقیات کے بے شمار دعوؤں کے باوجود ریاست کی پیداور کے اعتبار سے خسارہ میں 62,785.14 کروڑ روپئے یعنی 3.5 فیصد خسارہ بتایا ہے۔ تلنگانہ کا فاضل مالیہ 3718.37 کروڑ روپئے ہے۔ چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے ریاست میں تعلیم کی ترقی کیلئے ہر دم دعوے کئے تھے مگر اس بجٹ میں کے جی تا پی جی اسکیم کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ تعلیم کے شعبہ کیلئے مجموعی طور پر 478 کروڑ روپئے گذشتہ سال کے مقابل کم ہے۔ سال 2015-16ء کیلئے شعبہ تعلیم کو 11,216 کروڑ روپئے دیئے گئے تھے اس سال 10,738 کروڑ روپئے شعبہ تعلیم کو حاصل ہوں گے۔ البتہ اقلیتی اقامتی اسکولوں کیلئے حکومت نے 300 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں جس سے 70 اقلیتی اقامتی اسکولس قائم کئے جائیں گے۔ تعلیمی شعبہ کو بری طرح نظرانداز کردینے کا مطلب ریاست کو تعلیمی پسماندگی میں جھونک دینا ہے جبکہ تلنگانہ کی پڑوسی ریاست آندھراپردیش میں تعلیمی شعبہ کو ترقی دینے کے مؤثر اقدامات کئے جارہے ہیں۔ تلنگانہ کا بجٹ بھی آندھراپردیش کے بجٹ سے 5000 کروڑ روپئے کم ہی ہے۔ حکومت جب سیلز مین بن جاتی ہے تو عوام کو رجھانے اور دلجوئی کی حدیں پار کرلیتی ہے۔ اس کے بعد پراڈکٹ یا براڈکٹوتی کا رونا شروع ہوجاتا ہے۔ حیدرآباد کے مالیہ کے بارے میں تلنگانہ حکومت آنے والے دنوں میں عوامی اور سیاسی ردعمل کا سامنا کس طریقہ سے کرنا پڑے گا یہ حکومت کو اندازہ کرلینا چاہئے۔ چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ اور ان کی ٹیم نے حکومت کرنے کیلئے اسی حکمت عملی تیار کرلی ہے کہ اس سے آگے چل کر تلنگانہ کا امیج بہتر ہو اور آمدنی بھی بڑھے لیکن بجٹ اور حکومت کی حکمت عملی میں فرق دکھائی دے رہا ہے تو حیران کن اخراجات کی پابجائی بھی ایک مشکل امر بن جائے گی۔ کے سی آر حکومت کی اگلی منزل کا تعین بھی اسی بجٹ اور اقدامات کے ذریعہ ہی کیا جائے گا کہ یہ حکومت کون سی منزل کی سمت پیشرفت کررہی ہے۔ عوام بھی اپنا پیٹ اس بجٹ کے سہارے کب تک اٹھاتے پھرتے ہیں یہ بھی تسلی بخش نتیجہ ایک سال کے اندر معلوم ہوجائے گا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT