Sunday , June 24 2018
Home / Top Stories / تلنگانہ بل اسمبلی میں پیش نہیں کیا جاسکا، ارکان کی ہنگامہ آرائی، اجلاس پیر تک ملتوی

تلنگانہ بل اسمبلی میں پیش نہیں کیا جاسکا، ارکان کی ہنگامہ آرائی، اجلاس پیر تک ملتوی

حیدرآباد /13 دسمبر (پی ٹی آئی) آندھرا پردیش تنظیم جدید بل۔ 2013ء جس کا طویل عرصہ سے انتظار کیا جا رہا تھا، آج بھی ریاستی اسمبلی میں پیش نہیں کیا جاسکا، کیونکہ علاقائی خطوط پر منقسم ارکان اسمبلی نے اپنے متعلقہ منصوبوں کو کامیاب بنانے کی کوشش کے طورپر ایوان میں زبردست شور و غل اور ہنگامہ آرائی کی، جس کے نتیجے میں ایوان کی کارروائی پیر تک

حیدرآباد /13 دسمبر (پی ٹی آئی) آندھرا پردیش تنظیم جدید بل۔ 2013ء جس کا طویل عرصہ سے انتظار کیا جا رہا تھا، آج بھی ریاستی اسمبلی میں پیش نہیں کیا جاسکا، کیونکہ علاقائی خطوط پر منقسم ارکان اسمبلی نے اپنے متعلقہ منصوبوں کو کامیاب بنانے کی کوشش کے طورپر ایوان میں زبردست شور و غل اور ہنگامہ آرائی کی، جس کے نتیجے میں ایوان کی کارروائی پیر تک ملتوی کردی گئی۔ دن بھر کی کارروائی کے اختتام پر علاقہ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی جن میں وزراء بھی شامل ہیں ’تلنگانہ بل‘ کی عدم پیشکشی پر برہمی کا اظہار کیا، جب کہ ساحلی آندھرا اور رائلسیما سے تعلق رکھنے والے ارکان اور وزراء اپنے منصوبہ کی کامیابی پر خوش نظر آرہے تھے۔ ایوان کی کارروائی آج جیسے ہی دس بجے دن شروع ہوئی، تلنگانہ اور سیما۔ آندھرا علاقوں سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی، جو اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ تھامے ہوئے تھے، نعرہ بازی کرتے ہوئے اسپیکر کے شہ نشین کے قریب پہنچ گئے۔ تلنگانہ ارکان نے علحدہ ریاست کی تائید اور سیما۔ آندھرا ارکان نے متحدہ ریاست کی تائید کی۔ ایوان کی کارروائی کو نصف گھنٹے کے لئے دو مرتبہ ملتوی کیا گیا، جس کے باوجود نظم و ضبط بحال نہیں ہوسکا، چنانچہ دوپہر دو بجے اجلاس کو پیر تک ملتوی کردیا گیا۔ واضح رہے کہ صدر جمہوریہ ہند نے گزشتہ شب تلنگانہ بل کا مسودہ ریاستی حکومت کو روانہ کیا تھا اور دستور کی دفعہ 3 کے تحت ریاستی کی تقسیم پر اسمبلی کی رائے طلب کی تھی۔ انھوں نے اس بل کی واپسی کے لئے 23 جنوری تک وقت دیا ہے۔ اگرچہ یہ توقع کی جا رہی تھی کہ بل کا مسودہ آج ایوان میں پیش کیا جائے گا، لیکن ارکان مقننہ کے شور و غل نے رسمی ضابطہ کی تکمیل کی اجازت نہیں دی۔ مقننہ میں سرکاری ذرائع نے کہا کہ اس مسودہ کی پیشکشی کے بارے میں اسپیکر ہی قطعی فیصلہ کرسکتے ہیں، کیونکہ اس پر ’’رازداری‘‘ کا مہر ثبت کیا گیا ہے۔ ایوان میں مسودہ بل کی عدم پیشکشی پر ایک طرف تلنگانہ ارکان چراغ پا نظر آرہے تھے تو دوسری طرف سیما۔ آندھرا کے ارکان مقننہ کافی مسرور نظر آرہے تھے۔ اس مسئلہ پر تلنگانہ ارکان کی برہمی اپنی حد سے تجاوز کر گئی تھی۔ ڈپٹی چیف منسٹر دامودر راج نرسمہا نے مبینہ طورپر چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی دھمکی تک دے دی۔ باور کیا جاتا ہے کہ ڈپٹی چیف منسٹر نے اسمبلی لابی میں تلنگانہ کے کانگریس ارکان اسمبلی کے ایک گروپ سے کہا کہ ’’این کرن کمار ریڈی تلنگانہ کے مخالف ہیں اور وہ ہر قدم پر اس بل کو روک رہے ہیں، اب ہمیں ان پر کوئی بھروسہ نہیں رہا ہے‘‘۔ مسٹر دامود راج نرسمہا نے کانگریس لیجسلیچر پارٹی کا فی الفور اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا، تاکہ وہ چیف منسٹر پر اپنی برہمی اور ناخوشی کا اظہار کرسکیں۔ دوسری طرف ٹی آر ایس، تلگودیشم (تلنگانہ فورم)، بی جے پی اور سی پی آئی نے ایوان میں آج پیش کی جانے والی تلنگانہ بل کے مسودہ کی نقولات کی عدم فراہمی پر ریاستی چیف سکریٹری پرسنا کمار موہنتی کے خلاف تحریک مراعات پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔ سیما۔ آندھرا سے تعلق رکھنے والے تلگودیشم کے ارکان اسمبلی علحدہ طورپر اسپیکر سے ملاقات کی اور درخواست کی کہ جلد بازی میں تلنگانہ بل مسودہ کو ایوان میں پیش نہ کیا جائے۔ اس دوران چیف منسٹر نے سیما۔ آندھرا سے تعلق رکھنے والے اپنی پارٹی کے سینئر ارکان مقننہ سے اس مسئلہ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ سیما۔ آندھرا کیمپ کے معتبر ذرائع نے کہا کہ اس مسودہ کی ایوان میں پیشکشی کے لئے حکومت جلد بازی نہیں کرے گی اور چاہتی ہے کہ تقسیم کے مسئلہ پر تفصیلی بحث کی جائے۔ اگر ضروری ہو تو اس عمل کی تکمیل کے لئے آئندہ ماہ کے اوائل میں اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے اپنی پارٹی کے لیجسلیٹرس سے کہا کہ ’’ہمیں اس مسودہ قانون کے ہر فقرہ پر تفصیلی بحث کرنا ہوگا اور ہر فقرہ پر علحدہ رائے دہی بھی ضروری ہوگی۔ علاوہ ازیں اس بل سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ دستور کی دفعہ 371 ڈی میں ترمیم درکار ہوگی‘‘۔ ذرائع نے کہا کہ ایوان میں کی جانے والی بحث کو ملحوظ رکھتے ہوئے چیف منسٹر اس مسئلہ پر مزید وقت دینے کے لئے صدر جمہوریہ سے درخواست بھی کرسکتے ہیں۔ اس صورت حال کے پیش نظر ایوان میں تلنگانہ بل کی پیشکشی تعطل کا شکار ہو گئی ہے، کیونکہ دونوں علاقوں سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی ایوان کی کارروائی میں مسلسل خلل اندازی کر رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT