Sunday , September 23 2018
Home / ہندوستان / تلنگانہ بل پرعجلت پسندی مناسب نہیں: جئے رام رمیش

تلنگانہ بل پرعجلت پسندی مناسب نہیں: جئے رام رمیش

نئی دہلی۔/16فبروری، ( سیاست ڈاٹ کام )حکومت کی جانب سے تلنگانہ بل پر پیشرفت کی کوششوں کے تناظر میں مرکزی وزیر جئے رام رمیش نے کہا کہ ایسے وقت جبکہ پارلیمنٹ میں افراتفری کا عالم ہو، مجوزہ قانون سازی کے معاملہ میں عجلت پسندی کا مظاہرہ نہیں کیا جانا چاہیئے۔ جئے رام رمیش نے سی این این آئی بی این کے پروگرام ’’ ڈیولس ایڈوکیٹ‘‘ میں کرن تھا

نئی دہلی۔/16فبروری، ( سیاست ڈاٹ کام )حکومت کی جانب سے تلنگانہ بل پر پیشرفت کی کوششوں کے تناظر میں مرکزی وزیر جئے رام رمیش نے کہا کہ ایسے وقت جبکہ پارلیمنٹ میں افراتفری کا عالم ہو، مجوزہ قانون سازی کے معاملہ میں عجلت پسندی کا مظاہرہ نہیں کیا جانا چاہیئے۔ جئے رام رمیش نے سی این این آئی بی این کے پروگرام ’’ ڈیولس ایڈوکیٹ‘‘ میں کرن تھاپر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یقینا وہ پہلے شخص ہوں گے جو اس بات کی حمایت کرتے ہیں کہ ایسے دوررس اثرات کے حامل بل پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیئے۔ لیکن جب تشدد کا راستہ اختیار کیا جائے اور احتجاج و افراتفری کا عالم ہو تو اس بل کے معاملہ میں عجلت پسندی نہیں ہونی چاہیئے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر اس بل پر موثر مباحث نہ ہوں تو کیا حکومت اسے واپس لے لیگی؟۔ جئے رام رمیش نے کہا کہ جہاں تک ان کی شخصی رائے ہے وہ یہ ہے کہ ایسے اہم قانون پر مباحث اور مذاکرات ہونے چاہیئے اور اسے جلد بازی میں منظور نہیں کیا جانا چاہیئے۔ جئے رام رمیش تلنگانہ پر وزارتی گروپ کے اہم رکن ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی فورم میں بھی وہ اپنا موقف واضح کرچکے ہیں۔ جئے رام رمیش نے کہا کہ ہمیں ایوان میں یکطرفہ پیشرفت نہیں کرنی چاہیئے، ہمیں بی جے پی کو بھی اس میں شامل کرنا چاہیئے اور وسیع تر اتفاق رائے کا ماحول ضروری ہے جس میں بی جے پی کے ساتھ ساتھ دیگر جماعتیں بھی ہمارے ساتھ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس چار دن بچے ہیں اور توقع ہے کہ ہم ایسا کرسکتے ہیں۔

جئے رام رمیش کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جبکہ اپوزیشن نے حکومت کے اس دعویٰ کو مسترد کردیا کہ تلنگانہ بل پارلیمنٹ میں پیش کیا جاچکا ہے۔ جئے رام رمیش نے کہا کہ انہوں نے کل وزیر داخلہ سے بات کی تھی اور شنڈے نے کہا کہ بل متعارف کیا جاچکا ہے۔ اس تعلق سے متضاد رائے پائی جاتی ہے۔انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ سشما سوراج نے بالکل مختلف رائے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ اور وزیر پارلیمانی اُمور دونوں کا یہ موقف ہے کہ بل پیش کیا جاچکا ہے۔ کانگریس لیڈر نے چیف منسٹر آندھرا پردیش کرن کمار ریڈی پر بھی تنقید کی جنہوں نے ریاست کی تقسیم کی برسر عام مخالفت کی ہے۔ جئے رام رمیش نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ کرن کمار ریڈی کانگریس پارٹی کے وفادار نہیں ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ وہ کانگریس کے چیف منسٹر ہیں۔ مجھے افسوس ہے کہ وہ میرے ایک اچھے دوست ہیں لیکن ان کا یہ خیال ہے کہ ڈسپلن کے معاملہ میں وہ لکشمن ریکھا عبور کرچکے ہیں۔ جئے رام رمیش آندھرا پردیش سے راجیہ سبھا کے رکن ہیں۔

TOPPOPULARRECENT