تلنگانہ بل پر مباحث کیلئے مہلت میں 30 جنوری تک توسیع

نئی دہلی 23 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے آج آندھرا پردیش اسمبلی کو مزید سات دن کے ساتھ 30 جنوری تک مسودہ تلنگانہ بل پر مباحث کی مہلت دیدی ہے اور 30 جنوری تک یہ بل مرکز کو واپس کردینے کو کہا ہے ۔ مرکز نے یہ بل پارلیمنٹ کے مجوزہ اجلاس میں جو 5 فبروری سے شروع ہونے والا ہے ‘ پیش کرنے کا عہد کیا ہے ۔ واضح رہے کہ ریاستی حکومت

نئی دہلی 23 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے آج آندھرا پردیش اسمبلی کو مزید سات دن کے ساتھ 30 جنوری تک مسودہ تلنگانہ بل پر مباحث کی مہلت دیدی ہے اور 30 جنوری تک یہ بل مرکز کو واپس کردینے کو کہا ہے ۔ مرکز نے یہ بل پارلیمنٹ کے مجوزہ اجلاس میں جو 5 فبروری سے شروع ہونے والا ہے ‘ پیش کرنے کا عہد کیا ہے ۔ واضح رہے کہ ریاستی حکومت نے صدر جمہوریہ سے درخواست کی تھی کہ اس بل پر مباحث کیلئے جو مہلت دی گئی ہے اس میں چار ہفتوں کی توسیع دی جائے ۔ صدر جمہوریہ نے یہ بل ریاستی اسمبلی کو روانہ کرتے ہوئے 23 جنوری تک کی مہلت دی تھی ۔ سرکاری ذرائع نے کہا کہ تنظیم جدید آندھرا پردیش بل ریاستی اسمبلی کی جانب سے 30 جنوری تک اپنی رائے یا کسی رائے کے بغیر مرکز کو روانہ کردیا جائیگا۔ تاہم ماہرین کی رائے یہ ہے کہ اسمبلی میں جو کچھ بھی ہو پارلیمنٹ علیحدہ ریاست کی تشکیل کے تعلق سے اپنے قانونی عمل کو پورا کرسکتی ہے ۔ ذرائع نے کہا کہ ریاستی حکومت نے یہ استدلال پیش کیا تھا کہ ایوان میں چونکہ اس بل پر چند ہی دن بحث ہوسکی اور کئی ارکان اسمبلی کو اظہار خیال کا موقع ملنا ہے اس لئے اس پر دی گئی مہلت میں اضافہ کیا جانا چاہئے ۔

اس سے قبل بھی تنظیم جدید ریاستوں کے بل پر مباحث کیلئے مہلت میں توسیع کی مثالیں موجود ہیں۔ اس وقت کے صدر جمہوریہ نے مدھیہ پردیش اسمبلی کو چھتیس گڑھ ریاست کی تشکیل کا بل منظور کرنے بھی مہلت میں توسیع دی تھی ۔ اس دوران وزیر داخلہ مسٹر سشیل کمار شنڈے نے میڈیا کو بتایا کہ مرکز کے ذہن میں یہ بالکل واضح ہے کہ تلنگانہ بل پارلیمنٹ کے مجوزہ سشن میں پیش کیا جائے ۔ یہ ایک وعدہ ہے جو ہم نے کیا تھا ۔ پارلیمنٹ اجلاس کا 5 فبروری سے آغاز ہونے والا ہے جو 21 فبروری کو ختم ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ آیا آندھرا پردیش اسمبلی30 جنوری تک یہ بل منظور کرتی ہے یا نہیں۔ مرکزی کابینہ نے 5 ڈسمبر کو فیصلہ کرتے ہوئے 10 اضلاع پر مشتمل تلنگانہ ریاست تشکیل دینے کی منظوری دی تھی اور ملک کی 29 ویں ریاست کے قیام کے عمل کو قطعیت دی تھی ۔ تلنگانہ ریاست 10 اضلاع پر مشتمل ہوگی جبکہ مابقی آندھرا پردیش 13اضلاع پر مشتمل ہوگا ۔ حیدرآباد دس سال کی مدت کیلئے دونوں ریاستوں کا مشترکہ دارالحکومت ہوگا ۔

چیف منسٹر آندھرا پردیش این کرن کمار ریڈی نے تقسیم ریاست کی شدت سے مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ تلنگانہ ریاست تشکیل دی جاتی ہے تو اس سے تینوں ہی علاقوں کو نقصان پہونچے گا ۔ کرن کمار ریڈی نے اسمبلی میں جاری تلنگانہ بل پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ان کی بدقسمتی ہے کہ انہیں چیف منسٹر کی حیثیت سے تقسیم ریاست کے موضوع پر اظہار خیال کرنا پڑ رہا ہے ۔ ان کی تقریر کے دوران تلنگانہ کے ارکان اسمبلی نے رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی تھی ۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہر کوئی چاہتا ہے کہ چیف منسٹر بن جائے ۔ یہ ان کی بد قسمتی ہے کہ وہ چیف منسٹر بنے ہیں اور انہیں تقسیم ریاست کے مسئلہ پر اظہار خیال کرنا پڑا ہے ۔ کرن کمار ریڈی کانگریس ورکنگ کمیٹی کی جانب سے تلنگانہ ریاست کی تشکیل سے متعلق قرار داد کی منظوری کی شدت سے مخالفت کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایوان اسمبلی میں بھی اسی خیال کا اظہار کیا تھا جو وہ ایوان کے باہر کرتے رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT