Sunday , January 21 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ بل پر مباحث کے بعد وزرا کا اجتماعی استعفی ممکن

تلنگانہ بل پر مباحث کے بعد وزرا کا اجتماعی استعفی ممکن

حیدرآباد 18 جنوری ( پی ٹی آئی ) ساحلی آندھرا اور رائلسیما علاقوں سے تعلق رکھنے والے ریاستی وزرا بشمول چیف منسٹر کرن کمار ریڈی امکان ہے کہ ریاستی اسمبلی میں تنظیم جدید آندھرا پردیش بل 2013 پر مباحث کی تکمیل کے فوری بعد اجتماعی طور پر مستعفی ہوجائیں گے ۔ ریاستی وزیر سماجی بہبوود مسٹر پی ستیہ نارائنا نے آج شام اخباری نمائندوں سے بات چیت ک

حیدرآباد 18 جنوری ( پی ٹی آئی ) ساحلی آندھرا اور رائلسیما علاقوں سے تعلق رکھنے والے ریاستی وزرا بشمول چیف منسٹر کرن کمار ریڈی امکان ہے کہ ریاستی اسمبلی میں تنظیم جدید آندھرا پردیش بل 2013 پر مباحث کی تکمیل کے فوری بعد اجتماعی طور پر مستعفی ہوجائیں گے ۔ ریاستی وزیر سماجی بہبوود مسٹر پی ستیہ نارائنا نے آج شام اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے یہ بات بتائی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے عہدوں پر بنے نہیں رہیں گے ۔ جیسے ہی اس بل پر اسمبلی میں مباحث مکمل ہوجائیں گے ہم اپنے عہدوں سے کسی بھی وقت مستعفی ہونے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم وزیر سے سابق وزیر بن جائیں گے ۔ مسٹر پی ستیہ نارائنا نے کہا کہ چیف منسٹر بھی امکان ہے بل پر اسمبلی میں مباحث کی تکمیل کے بعد اپنے عہدہ سے مستعفی ہوجائیں گے ۔ پی ستیہ نارائنا ‘ چیف منسٹر کے قریبی رفیق کار سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیما آندھرا کے عوام چاہتے ہیں کہ تشکیل تلنگانہ کے بعد سیما آندھرا میں ایک نئی سیاسی جماعت قائم کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ آندھرا کے حق میں عوام کی خاطر خواہ تعداد چاہتی ہے کہ ایک نئی سیاسی پارٹی کا جنم ہو ۔

ابھی تک ہم نے تاہم ایک نئی سیاسی جماعت قائم کرنے کے تعلق سے غور نہیں کیا ہے ۔ وزیر موصوف نے کہا کہ ریاستی اسمبلی میں تنظیم جدید آندھرا پردیش بل پر مباحث کی تکمیل کے بعد صدر جمہوریہ سے اس بل کی واپسی کیلئے مزید 60 دن کا وقت طلب کیا جائیگا ۔ وزرا اور چیف منسٹر کے استعفے کے تعلق سے پی ستیہ نارائنا کا بیان اہمیت کا حامل سمجھا جارہا ہے کیونکہ مسٹر ستیہ نارائنا چیف منسٹر سے انتہائی قربت رکھنے والے چند وزیروں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ ریاست میں پہلے ہی سے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ چیف منسٹر مسٹر کرن کمار ریڈی متحدہ آندھرا کے نعرہ پر اپنی علیحدہ سیاست جماعت قائم کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں اور اس کی تیاری بھی شروع کرچکے ہیں۔ چیف منسٹر انتہائی شدت کے ساتھ ریاست کی تقسیم کی مخالفت کر رہے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ سیما آندھرا کے اضلاع میں ابھی سے ایک نئی سیاسی جماعت کے تعلق سے مہم شروع ہوگئی ہے حالانکہ ابھی اس جماعت کا نام نہیں لیا جا رہا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سیما آندھرا میں ایک سیاسی جماعت کے تعلق سے جو مہم چلائی جا رہی ہے اس میں چیف منسٹر کے اس بیان کو شامل کیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ متحدہ آندھرا ہمارا نعرہ نہیں بلکہ ہماری پالیسی ہے ۔

یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ چیف منسٹر نے گذشتہ دنوں کہا تھا کہ وہ 23 جنوری کے بعد ‘ جب اسمبلی میں اس بل پر مباحث مکمل ہوجائیں گے ‘ سیما آندھرا سے تعلق رکھنے والے پارٹی قائدین اور عوام کے ساتھ مشاورت کرکے مستقبل کے لائحہ عمل کو قطعیت دینگے ۔ چیف منسٹر نے اس وقت کہا تھا کہ ساحلی اضلاع کے عوام نے ان کے دورہ کے موقع پر اس تعلق سے نمائندگی کی تھی اور انہوں نے 23 جنوری کے بعد غور کرنے کا تیقن دیا تھا

TOPPOPULARRECENT