تلنگانہ بل کابینہ میں منظور، حیدرآباد مرکزی علاقہ نہ ہوگا

حیدرآباد 7 فبروری (سیاست نیوز) مرکزی حکومت 12 فبروری کو آندھراپردیش ری آرگنائزیشن بِل 2013 ء راجیہ سبھا میں پیش کرے گی۔ مرکزی کابینہ نے آج وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیامگاہ 7 RCR پر منعقدہ خصوصی کابینی اجلاس کے دوران معمولی ترامیم کے ساتھ بِل کو منظوری دیتے ہوئے صدرجمہوریہ ہند مسٹر پرنب مکرجی کو روانہ کردیا۔ مرکزی کابینہ کا اہم

حیدرآباد 7 فبروری (سیاست نیوز) مرکزی حکومت 12 فبروری کو آندھراپردیش ری آرگنائزیشن بِل 2013 ء راجیہ سبھا میں پیش کرے گی۔ مرکزی کابینہ نے آج وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیامگاہ 7 RCR پر منعقدہ خصوصی کابینی اجلاس کے دوران معمولی ترامیم کے ساتھ بِل کو منظوری دیتے ہوئے صدرجمہوریہ ہند مسٹر پرنب مکرجی کو روانہ کردیا۔ مرکزی کابینہ کا اہم خصوصی اجلاس تشکیل تلنگانہ مسئلہ پر بل کا جائزہ لینے کیلئے منعقد کیا گیا تھا جس میں بِل کو منظوری دیتے ہوئے حیدرآباد کو مرکزی زیرانتظام علاقہ نہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مرکزی کابینہ نے ریاستی اسمبلی کی جانب سے مسترد کردہ بِل کو 2 گھنٹے سے زائد طویل مشاورت کے بعد منظوری دے دی ہے۔ اِس اہم اجلاس میں سیما آندھرا سے تعلق رکھنے والے مرکزی وزراء کے سامبا شیوا راؤ اور پلم راجو نے حیدرآباد کو مرکزی زیرانتظام علاقہ قرار دینے کیلئے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی لیکن مسٹر ایس جئے پال ریڈی نے اِس تجویز کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ حیدرآباد کو مرکزی زیرانتظام علاقہ کے طور پر کوئی بھی قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق اُنھوں نے اجلاس کے دوران بتایا کہ حیدرآباد میں 30 فیصد مسلمان ہیں جو حیدرآباد کو مرکزی زیرانتظام علاقہ بنانے کے سخت مخالف ہیں۔ علاوہ ازیں مجلس اتحاد المسلمین نے بھی حیدرآباد کو مرکز کے زیرانتظام دیئے جانے کی مخالفت کی ہے۔ سیما آندھرا وزراء نے تعلیم اور ملازمتوں میں جوں کا توں موقف برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا جسے کابینہ نے مسترد کرتے ہوئے کہاکہ تعلیم اور ملازمتوں کے معاملہ میں جوں کا توں موقف 10 سال تک کے لئے ہوگا جب تک حیدرآباد دونوں ریاستوں کا مشترکہ صدر مقام رہے گا۔

مرکزی کابینہ نے حیدرآباد کے امن و ضبط کی نگرانی گورنر کو تفویض کرنے کو بھی منظوری دے دی ہے۔ اِس طرح حیدرآباد کے لا اینڈ آرڈر کی ذمہ داری راست گورنر کی نگرانی میں ہوگی۔ مرکزی کابینہ کی جانب سے آندھراپردیش تشکیل جدید بِل 2013 ء میں 32 ترامیم کئے جانے کی اطلاعات ہیں جن میں بھدراچلم کے قریب واقع 37 مواضعات کو سیما آندھرا کے حوالہ کئے جانے کا فیصلہ بھی شامل ہے۔ پولاورم پراجکٹ کے متعلق بھی کابینہ نے وضاحت کرتے ہوئے اِس میں معمولی ترمیم کو منظوری دی ہے۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب مرکزی کابینہ نے 12 فبروری کو راجیہ سبھا میں تقسیم ریاست بِل کی پیشکشی سے قبل اِس بِل پر منصوبہ بندی کمیشن کی رائے حاصل کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے تاکہ معاشی اُمور کا جائزہ لیا جاسکے۔ مرکزی کابینہ کے اجلاس کے بعد پارلیمنٹ کے علی الحساب بجٹ اجلاس کے سبب کابینی اجلاس کی روئیداد سے باضابطہ طور پر واقف نہیں کروایا گیا لیکن ایک کابینی نوٹ سے موصولہ اطلاعات کے بموجب 294 صفحات پر مشتمل بِل 29 صفحات کے نوٹ اور 32 ترامیم کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ مرکزی حکومت نے جئے رام رمیش کو دیگر سیاسی جماعتوں سے بِل کی منظوری میں تعاون کے لئے رابطہ قائم کرنے کے علاوہ تشکیل تلنگانہ کو یقینی بنانے کے سلسلہ میں اقدامات اور اپوزیشن کی تائید کے حصول کی ذمہ داری تفویض کی ہے۔ کابینی اجلاس کے اختتام کے فوری بعد صدرنشین یو پی اے مسز سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر احمد پٹیل کے ہمراہ جئے رام رمیش نے بی جے پی سینئر قائد وینکیا نائیڈو سے ملاقات کی اور اُنھیں اِس بات سے واقف کروایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے جن ترامیم کی نشاندہی کی گئی تھی اُنھیں حتی المقدور قبول کیا گیا ہے۔ اِسی لئے بھارتیہ جنتا پارٹی تقسیم ریاست کے عمل میں مرکزی حکومت سے تعاون کرے۔ مرکزی وزیر شردپوار نے علیحدہ ریاست تلنگانہ کو کابینہ کی منظوری پر اجلاس کے بعد ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ یو پی اے حکومت نے عوام سے جو وعدہ کیا تھا اُسے پورا کیا گیا ہے۔

ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب مرکزی کابینہ نے مختلف ترامیم کا بغور جائزہ لینے کے بعد اِن میں 32 ترامیم کو منظوری دی ہے جن میں سیما آندھرا علاقوں پر مشتمل نئی ریاست کے صدر مقام کی ترقی و تعمیر کے لئے خصوصی پیاکیج وغیرہ شامل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بِل میں ریاست کی تقسیم کے بعد دو علیحدہ ریاستوں میں عام انتخابات کے انعقاد کے متعلق بھی وضاحت کی جاچکی ہے۔ تفصیلات کے بموجب مرکزی کابینہ کی جانب سے منظوری بِل میں اِس بات کی گنجائش رکھی گئی ہے کہ اگر دونوں ریاستیں اپنے اراکین اسمبلی کی تعداد میں اضافہ کے خواہاں ہیں تو وہ ایسی صورت میں اسمبلی میں قرارداد منظور کرتے ہوئے تلنگانہ کے ارکان کی جو موجودہ تعداد 119 ہے اُسے 153 کرسکتے ہیں۔ جبکہ سیما آندھرا علاقوں کے ارکان کی تعداد 175 اُسے 225 تک کیا جاسکتا ہے لیکن انتخابی حلقوں کی نئی حد بندی کا یہ عمل عام انتخابات کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ ریاست تلنگانہ میں قانون ساز کونسل کی برقراری کی صورت میں کونسل صرف 40 ارکان پر مشتمل ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT