Wednesday , January 24 2018
Home / اداریہ / تلنگانہ بل کا استرداد

تلنگانہ بل کا استرداد

کسی قانون کو یوں مسترد کرنا تو ہے آساں عوامی جوش و جذبہ کو کچلنا سخت مشکل ہے تلنگانہ بل کا استرداد

کسی قانون کو یوں مسترد کرنا تو ہے آساں
عوامی جوش و جذبہ کو کچلنا سخت مشکل ہے
تلنگانہ بل کا استرداد
آندھرا پردیش اسمبلی میں تلنگانہ ریاست کی تشکیل کیلئے تیار کردہ آندھرا پردیش تنظیم جدید بل 2013 کو آج مسترد کردیا گیا ۔ یہ استرداد محض ندائی ووٹ سے عمل میں آیا ہے اور اس کیلئے چیف منسٹر کرن کمار ریڈی نے ایوان میں ایک قرار داد پیش کی تھی جس کو ندائی ووٹ سے منظور کرتے ہوئے تلنگانہ بل کو مسترد کردیا گیا ۔ واضح رہے کہ ریاستی چیف منسٹر نے دو دن قبل ہی صدر جمہوریہ کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے اس بل پر مباحث کیلئے مزید وقت طلب کیا تھا جبکہ ایک ہفتے کا وقت پہلے ہی دیا جاچکا تھا ۔ آخر تک ٹال مٹول سے کام لیتے ہوئے اور پھر اپنے موقف کے واضح اشارے دیتے ہوئے ایوان میں اس بل کو مسترد کردینے کا فیصلہ کیا گیا ۔ اس سے قبل چیف منسٹر نے اسپیکر اسمبلی کو ایک نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے کہا تھا کہ صدر جمہوریہ کو یہ بل واپس کردیا جائے ۔ اسپیکر نے حالانکہ ایسا نہیں کیا اور ایوان میں مختلف جماعتوں کے ارکان کی جانب سے چیف منسٹر کے اس اقدام کی مخالفت بھی ہوئی تھی اس کے بعد اب چیف منسٹر نے بل پر مباحث کیلئے صدر جمہوریہ کی جانب سے جو مہلت دی گئی تھی اس کے اختتامی دن اسمبلی میں ایک قرار داد بل کے استرداد کیلئے پیش کرتے ہوئے اسے ندائی ووٹوں سے منظوری دلائی ۔ چیف منسٹر کا یہ اقدام نہ صرف تلنگانہ ریاست کی تشکیل کو روکنے کا آخری حربہ ہے بلکہ اس سے ان کے عزائم بھی واضح ہوجاتے ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ ایوان اسمبلی کو یہ اختیار دیا ہی نہیں گیا تھا کہ وہ اس بل کی توثیق کرے یا اسے مستردکرے ۔ صدر جمہوریہ نے اسمبلی کو بل روانہ کرتے ہوئے واضح انداز میں یہ کہدیا تھا کہ اس پر رائے دہی نہیں ہوگی بلکہ اسمبلی کو اپنی رائے دینی ہوگی ۔

اس کے باوجود صدارتی احترام کو بالائے طاق رکھتے ہوئے چیف منسٹر نے اس بل کو ایوان میں مسترد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کسی بھی حال میں درست نہیں کہا جاسکتا ۔ دوسری بات یہ بھی یہ کہ اس انتہائی حساس اور اہم ترین بل کو ‘ جس پر مباحث کیلئے چیف منسٹر اور ان کے ہمنواؤں کو کئی ہفتوں کا وقت درکار تھا ‘ محض ندائی ووٹ سے مسترد کردینا بھی درست نہیں کہا جاسکتا ۔ جن ارکان نے اس بل کے استرداد کی قرار داد پر ندائی ووٹ دیا ہے ان کی علاقائی وابستگیاں بھی سب پر واضح ہیں ۔ ان حالات میں اس بل کے استرداد سے تلنگانہ ریاست کی تشکیل کا عمل متاثر نہیں ہونے پائیگا۔

ریاستی اسمبلی میں اس بل کو مسترد کردئے جانے کے بعد اب مرکزی حکومت پر ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے عمل کو آگے بڑھانے ٹھوس اقدامات کرے ۔ اب مرکز کے پاس وقت کا مسئلہ بھی نہیں رہا کیونکہ تنظیم جدید آندھرا پردیش بل پر ریاستی اسمبلی کی رائے حاصل کرنے کا ایک کام مکمل ہوگیا ہے ۔ حالانکہ سیما آندھرا ارکان نے اس میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوششیں بہت کیں لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ بل کا استرداد بھی تلنگانہ ریاست کی تشکیل کی سمت ایک قدم ہے کیونکہ بل پر ایوان کی رائے لینے کا فریضہ پورا ہوچکا ہے ۔ چونکہ اس بل پر محض ندائی ووٹ لیا گیا اور باضابطہ رائے دہی نہیں ہوئی ہے ایسے میں بھی اس بل کا استرداد زیادہ اہمیت کا حامل نہیں ہوسکتا ۔ جہاں تک بل کو مسترد کردینے کا مسئلہ ہے یہ بالکل غیر متعلق عمل بھی کہا جاسکتا ہے کیونکہ صدر جمہوریہ نے بل کو ریاستی اسمبلی کو روانہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسمبلی کو اپنی رائے سے واقف کروانا چاہئے ۔ بل کی توثیق کا اس کو مسترد کرنے کا اسمبلی کو اختیار نہیں دیا گیا تھا ۔ دستور کے آرٹیکل 3 کے تحت اسمبلی کی رائے لینے کا عمل اب پورا ہوچکا ہے اور مرکزی حکومت کو اب وزارتی کاموں کی تکمیل کے بعد یہ بل مرکزی کابینہ میں منظوری حاصل کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں پیش کرنے کیلئے آگے آنا چاہئے ۔ مرکزی وزارت داخلہ اور مرکزی کابینہ کوریاستی اسمبلی میں ارکان کی جانب سے ظاہر کئے گئے خیالات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اگر کچھ ضروری سمجھے جائیں تو ترامیم کو شامل کرتے ہوئے یہ بل منظور کرکے پارلیمنٹ میں پیش کرنا چاہئے ۔

بل کے استرداد سے حالانکہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کا عمل متاثر ہونے کی گنجائش نہیں ہے اور نہ ہی کوئی رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے لیکن اس سے چیف منسٹر کرن کمار ریڈی اور سیما آندھرا کے ارکان کا رویہ ضرور بے نقاب ہوگیا ہے ۔ انہوں نے بل کے استرداد کے ذریعہ یہ پیام ضرور دیا ہے کہ علاقائی تعصب کے آگے وہ صدراتی بل کا بھی احترام کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔ انہیں سیما آندھرا علاقہ میں محض اپنا سیاسی مستقبل ہی عزیز ہے اور وہ اس کی خاطر کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔ تلنگانہ تحریک سے وابستہ تنظیموں اور جماعتوں کو بل کے استرداد سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ استرداد کی صورت میں بھی اسمبلی کی رائے حاصل کرنے کی ذمہ داری پوری ہوچکی ہے اور اب سارا ذمہ مرکزی حکومت پر عائد ہوگیا ہے اور اسے یہ بہر صورت پورا کرنا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT