Tuesday , December 11 2018

تلنگانہ بل کو بالآخر مجلس کی تائید

حیدرآباد۔/21 جنوری(سیاست نیوز) مجلس اتحاد المسلمین نے آج ایوان اسمبلی میں بالآخر علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کی تائید کا اعلان کیا اور مسودہ تلنگانہ بل میں ترامیم کی تجاویز پیش کی اور منقسمہ ریاستوں میں اقلیتوں اور دیگر طبقات کو ترقیات و خوشحالی کے مساوی مواقع فراہم کرنے پر زور دیا۔ قائد مقننہ مجلس مسٹر اکبر الدین اویسی نے مسو

حیدرآباد۔/21 جنوری(سیاست نیوز) مجلس اتحاد المسلمین نے آج ایوان اسمبلی میں بالآخر علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کی تائید کا اعلان کیا اور مسودہ تلنگانہ بل میں ترامیم کی تجاویز پیش کی اور منقسمہ ریاستوں میں اقلیتوں اور دیگر طبقات کو ترقیات و خوشحالی کے مساوی مواقع فراہم کرنے پر زور دیا۔ قائد مقننہ مجلس مسٹر اکبر الدین اویسی نے مسودہ تلنگانہ بل پر اپنے مباحث کو آج بھی جاری رکھتے ہوئے کہا کہ نئی تلنگانہ ریاست اور بچ رہ جانے والی آندھرا پردیش میں اقلیتوں، دلتوں، گریجنوں اور دیگر طبقات کو مساوی حقوق فراہم کئے جانے چاہئے اور انہیں ترقی و خوشحالی میں مساوی طور پر شامل کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی تقسیم ریاست کے بعد حیدرآباد کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنانے یا 10 برسوں کے لئے دونوں ریاستوں کا مشترکہ صدر مقام بنانے کی مخالف ہے۔ انہوں نے دونوں ریاستوں کے لئے مشترکہ گورنر رکھنے کی بھی مخالفت کی اور کہا کہ ایسا کرنا دستور کے مغائر ہے۔

ددونوں ریاستوں کے لئے علحدہ ہائی کورٹس رکھنے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب سبھی مشترک ہو تو تقسیم ریاست کی ضرورت ہی کیا ہے؟ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر مشترکہ صدر مقام رکھنا ناگزیر ہی ہو تو صرف حیدرآباد ریونیو ڈیویژن کو ہی مشترکہ صدر مقام رکھا جائے۔ مسٹر اویسی نے لاء اینڈ آرڈر کے امور گورنر کو تفویض کرنے کی بھی مخالفت کی ۔ انہوں نے دونوں ریاستوں میں بھی ایس سیز اور ایس ٹیز کے لئے سب پلان کے ساتھ اقلیتوں کے لئے بھی سب پلان رکھنے اور موازنہ جات میں اقلیتوں کو تلنگانہ میں 12.5% اور سیما آندھرا ریاست میں 7% تخصیص کرنے پر زور دیا۔ قائد مجلس نے کہا کہ پارلیمنٹ میں تلنگانہ بل پیش کرتے ہوئے سیما آندھرا کے صدر مقام اور تلنگانہ اور سیما آندھرا ریاست میں اقلیتوں کو سب پلان کا اعلان کیا جائے۔ انہوں نے کانگریس اور تلگو دیشم، ٹی آر ایس، وائی ایس آر کانگریس کے علاوہ چیف منسٹر کی جانب سے قائم کی جانے والی مجوزہ سیاسی پارٹیوں پر زور دیا کہ وہ فرقہ پرست طاقتوں کے ساتھ اقتدار تقسیم نہ کرے اور خاص کر بی جے پی سے انتخابی مفاہمت نہ کرے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مابعد تقسیم تلگو دیشم پارٹی اور بی جے پی آپس میں گٹھ جوڑ کرتے ہوئے تقویت حاصل کریں گے۔ مسٹر اویسی نے کہا کہ آندھرا اور رائلسیماء قائدین کی ناکامی کے نتیجہ میں ہی آج تلنگانہ علحدہ ریاست کا مطالبہ زور پکڑا ہے اور اب یہ ناگزیر ہوگیا ہے۔ مسٹر اویسی نے مسودہ بل میں 31 ترامیم پیش کیں۔

TOPPOPULARRECENT