Wednesday , September 19 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ بل کو غیر دستوری قرار دینے سے صدر جمہوریہ کی توہین

تلنگانہ بل کو غیر دستوری قرار دینے سے صدر جمہوریہ کی توہین

حیدرآباد۔/20 جنوری(سیاست نیوز) تلنگانہ کے سینئر کانگریس رکن مسٹر رام ریڈی دامودھر ریڈی نے آج چیف منسٹر کرن کمار ریڈی سے خواہش کی کہ صدر جمہوریہ اور دستور کی توہین کرنے پر اپنے وزرا وٹی وسنت کمار اور ایس شیلجہ ناتھ کو کابینہ سے بیدخل کردیں۔ تلنگانہ مسودہ بل پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے مسٹر دامودھر ریڈی نے کہا کہ دستور پر حلف لینے وال

حیدرآباد۔/20 جنوری(سیاست نیوز) تلنگانہ کے سینئر کانگریس رکن مسٹر رام ریڈی دامودھر ریڈی نے آج چیف منسٹر کرن کمار ریڈی سے خواہش کی کہ صدر جمہوریہ اور دستور کی توہین کرنے پر اپنے وزرا وٹی وسنت کمار اور ایس شیلجہ ناتھ کو کابینہ سے بیدخل کردیں۔ تلنگانہ مسودہ بل پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے مسٹر دامودھر ریڈی نے کہا کہ دستور پر حلف لینے والے مسرز وٹی وسنت کمار اور شیلجہ ناتھ نے ، صدر جمہوریہ کی جانب سے اسمبلی کو روانہ بل کو غیر دستوری و غیر جمہوری قرار دیا۔ یہ ریمارک صدر جمہوریہ اور دستور کی توہین ہے۔ چیف منسٹر کی جانب سے دونوں وزراء کو کابینہ سے بے دخل کردیا جانا چاہئے، بصورت دیر گورنر کو چاہئے کہ دونوں کو کابینہ سے خارج کردیں۔ انہوں نے چیف منسٹر سے کہا کہ وہ وضاحت کریں کہ کس طرح دونوں وزراء کابینہ میں برقرار رہ سکتے ہیں جنہوں نے دستور کی توہین کی ہے ۔ تلنگانہ کے مسٹر سریدھر بابو کے قلمدان میں تذلیل آمیز انداز میں تبدیلی کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر ریڈی نے استفسار کیا کہ مسٹر سریدھر بابو نے کیا گناہ کیا تھا کہ امور مقننہ کا ان کا قلمدان تبدیل کردیا گیا؟ انہوں نے پوچھا کہ اسمبلی میں تلنگانہ بل پیش کرنا مسٹر سریدھر بابو کا قصور تھا؟ مسودہ تلنگانہ بل کی مخالفت پر سیما آندھرا ارکان پر تنقید کرتے ہوئے مسٹر دامودھر ریڈی نے استفسار کیا کہ سیما آندھرا کے کانگریس و تلگو دیشم ارکان کیوں خاموش رہے جب 2004 اور 2009 میں ٹی آر ایس کے ساتھ مفاہمت کی گئی تھی؟ انہوں نے نشاندہی کی کہ کانگریس کی زیر قیادت یو پی اے حکومت نے جب اقل ترین پروگرام میں تلنگانہ مسئلہ کو شامل کیا تب بھی سیما آندھرا کے کانگریس قائدین نے خاموشی اختیار کر رکھی تھی۔ قبل ازیں وائی ایس آر کانگریس کے صدر مسٹر جگن موہن ریڈی نے اعلان کیا تھا کہ اگر مرکز، دستور کے آرٹیکل 3 کے مطابق ریاست کی تقسیم کا فیصلہ کرتا ہے تو اعتراض نہیں ہوگا۔

انہوں نے خواہش کی کہ حیدرآبادی ہونے کے ناطے چیف منسٹر کو مسودہ تلنگانہ بل کی تایئد کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے جمہوری و دستوری طریقۂ کار کو اختیار کرتے ہوئے مسودہ تلنگانہ بل تیار کیا ہے۔ علحدہ تلنگانہ کی تشکیل کیلئے مرکز نے جامع کارروائی کی ہے۔ مرکز نے تقریباً 10 کارروائیاں کیں اور تلنگانہ ریاست کے مسئلہ پر قومی و ریاستی سطح کی پارٹیوں سے بھی مشاورت کی۔ انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ مسٹر چدمبرم کے /9 دسمبر 2009 ء کے بیان کے بعد علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کی تائید کرتے ہوئے ایک قرارداد منظور کردی جاتی تو تلنگانہ کے1,000 طلبۂ و نوجوانوں کی خودکشی کے واقعات کو روکا جاسکتا تھا۔ یہ نہایت ہی قابل اعتراض ہے کہ سیما آندھرا کے قائدین نے تلنگانہ مسلح جدوجہد کی غلط تشریح کررہے ہیں۔ وجئے واڑہ اور گنٹور میں سیما آندھرا کے عوام نے زمینداروں کو پناہ دی تھی جو مسلح جدوجہد سے خوفزدہ ہوکر فرار ہوگئے تھے۔ قبل ازیں وزیر مال مسٹر رگھو ویرا ریڈی نے وضاحت کی کہ مسرز وٹی وسنت کمار اور ایس شیلجہ ناتھ نے بل پر بہ حیثیت رکن شخصی خیالات کا اظہار کیا تھا نہ کہ کابینی رکن کی حیثیت سے۔

TOPPOPULARRECENT