Monday , January 22 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ بل کیخلاف وائی ایس آر کانگریس کا آج آندھرا پردیشبند

تلنگانہ بل کیخلاف وائی ایس آر کانگریس کا آج آندھرا پردیشبند

حیدرآباد۔ 13 فروری (سیاست نیوز؍ پی ٹی آئی) مرکز کے تلنگانہ بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے کیخلاف وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے بطور احتجاج کل آندھرا پردیش میں عام ہڑتال کا اعلان کیا ہے اور لوک سبھا میںاس بل کی پیشکشی کو جمہوریت کا مذاق قرار دیا۔صدر وائی ایس آر کانگریس جگن موہن ریڈی نے کہا کہ ان کی پارٹی اس بل کی شدت سے مخالفت کرے گی اور متحدہ

حیدرآباد۔ 13 فروری (سیاست نیوز؍ پی ٹی آئی) مرکز کے تلنگانہ بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے کیخلاف وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے بطور احتجاج کل آندھرا پردیش میں عام ہڑتال کا اعلان کیا ہے اور لوک سبھا میںاس بل کی پیشکشی کو جمہوریت کا مذاق قرار دیا۔صدر وائی ایس آر کانگریس جگن موہن ریڈی نے کہا کہ ان کی پارٹی اس بل کی شدت سے مخالفت کرے گی اور متحدہ آندھرا پردیش کیلئے تمام اپوزیشن جماعتوں کی تائید حاصل کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر کا یہ اعلان کہ ایوان کی رائے حاصل کئے بغیر یہ بل پیش کیا گیا ہے ، جمہوریت کا مذاق ہے اور ایسا پارلیمنٹ میں ہورہا ہے جو جمہوریت کی نگہبان ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج پارلیمانی جمہوریت کا یوم سیاہ تھا۔ مرکز کے اس فیصلے پر ناراض تین ارکان اسمبلی نے آج بطور احتجاج استعفیٰ دے دیا۔ دوسری طرف چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی نے تلگو عزتِ نفس کا موضوع پھر سے اُٹھاتے ہوئے وزیراعظم منموہن سنگھ کو تنقیدوں کا نشانہ بنایا۔ اسمبلی میں آج علی الحساب بجٹ سیشن کا آخری دن بھی تھا اور اگر علیحدہ ریاست تلنگانہ ایک حقیقت بن جائے تو پھر متحدہ آندھراپردیش کا یہ آخری اسمبلی سیشن ہوگا۔

کانگریس کو آج اس وقت دھکہ پہونچا جب ساحلی علاقہ کے تین ارکان اسمبلی اے پربھاکر ریڈی، سریدھر کرشنا ریڈی (دونوں ضلع نیلور) اور ڈی ستیندا راؤ (مشرقی گوداوری) نے بطور احتجاج استعفیٰ دے دیا۔ ایک اور کانگریس رکن اسمبلی آر سوریہ پرکاش راؤ نے کانگریس ارکان پارلیمنٹ کے خلاف تادیبی کارروائی پر بطور احتجاج 11 فروری کو استعفیٰ دے دیا تھا۔ چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی نے تلنگانہ بل پر لوک سبھا میں پیش آئے ناخوشگوار واقعات کو انتہائی افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ مرکز کو یہ سوچنا چاہئے کہ ایسی صورتِ حال کے حقیقی اسباب کیا ہیں۔ انہوں نے اسمبلی کو غیرمعینہ مدت کے لئے ملتوی کئے جانے کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم یہ کہتے ہیں کہ ان واقعات پر ان کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے، لیکن انہیں یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ مرکز کی غیرجمہوری حرکتوں کی وجہ سے کروڑہا تلگو عوام کے دل خون کے آنسو رو رہے ہیں۔انہوں نے آندھرا پردیش تنظیم جدید بل کی لوک سبھا میں پیشکشی کو انتہائی غیرجمہوری اور آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے 18 ارکان پارلیمنٹ کی معطلی کو بھی غیردرست قرار دیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ صرف پارلیمنٹ میں بل پیش کرنے سے ریاست تقسیم نہیں ہوجاتی۔ انہوں نے کہا کہ کھیل ابھی ختم نہیں ہوا اور مزید چند گیندیں باقی ہیں۔ آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں کرن کمار ریڈی نے بتایا کہ سیما۔آندھرا کانگریس قائدین سے مذاکرات کے بعد ہی اجتماعی فیصلہ کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT