Monday , January 22 2018
Home / ہندوستان / تلنگانہ بل کی صدرجمہوریہ نے توثیق کردی پہلے راجیہ سبھا میں متعارف کرنے حکومت کا منصوبہ ، پارلیمنٹ میں مسلسل چوتھے دن بھی ہنگامہ

تلنگانہ بل کی صدرجمہوریہ نے توثیق کردی پہلے راجیہ سبھا میں متعارف کرنے حکومت کا منصوبہ ، پارلیمنٹ میں مسلسل چوتھے دن بھی ہنگامہ

نئی دہلی ۔ 10 فبروری ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے تلنگانہ بل کی توثیق کردی جسے کل پارلیمنٹ میں پیش کئے جانے کا امکان ہے ۔ وزارت داخلہ کے عہدیداروں نے آج رات بتایا کہ آندھراپردیش تنظیم جدید بل کو صدارتی منظوری کے ساتھ وزارت داخلہ کو واپس بھیجا جارہا ہے ۔ یہ بل امکان ہے کہ کل راجیہ سبھا میں متعارف کیا جائے گا ۔ اس بل کو آند

نئی دہلی ۔ 10 فبروری ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے تلنگانہ بل کی توثیق کردی جسے کل پارلیمنٹ میں پیش کئے جانے کا امکان ہے ۔ وزارت داخلہ کے عہدیداروں نے آج رات بتایا کہ آندھراپردیش تنظیم جدید بل کو صدارتی منظوری کے ساتھ وزارت داخلہ کو واپس بھیجا جارہا ہے ۔ یہ بل امکان ہے کہ کل راجیہ سبھا میں متعارف کیا جائے گا ۔ اس بل کو آندھراپردیش اسمبلی میں مسترد کردیا گیا تھا ، مرکزی کابینہ نے آندھراپردیش اسمبلی کے استرداد کی پرواہ کئے بغیر جمعہ کو ریاست کی تقسیم عمل میں لاتے ہوئے تلنگانہ تشکیل دینے کے مسودہ بل کو منظوری دیدی تھی ۔ حکومت اس بل کو پہلے راجیہ سبھا میں متعارف کرتے ہوئے لوک سبھا کی تحلیل ہونے کی صورت میں بھی امکان برقرار رکھنا چاہتی ہے ۔ بلس جو ایوان بالا میں متعارف کئے جاتے ہیں اور انھیں منظوری نہ ملنے کی صورت میں بھی اسے ’’کارآمد رجسٹر‘‘ میں رکھا جاتا ہے ۔ متنازعہ بل اُسی شکل میں پیش کیا جائے گا جسے آندھراپردیش اسمبلی کو روانہ کیا گیا تھا اور حکومت توقع ہے کہ 32 ترامیم غور و خوض کیلئے پیش کرے گی ۔ ذرائع نے یہ بات بتائی ۔ مجوزہ قانون سازی میں حیدرآباد کو مرکزی زیرانتظام علاقہ کا موقف نہیں دیا گیا ہے جبکہ سیما ۔ آندھرا قائدین کی جانب سے مسلسل یہ مطالبہ کیا جارہا تھا لیکن حکومت رائلسیما اور ساحلی آندھرا کے عوام کی تشویش کو دور کرنے کیلئے خصوصی پیاکیج کا اعلان کرے گی۔ مرکزی کابینہ نے کانگریس کور گروپ کے پارٹی سربراہ سونیا گاندھی کے زیرقیادت منعقدہ اجلاس کے بعد خصوصی اجلاس طلب کرتے ہوئے اس بل کو منظوری دی تھی ۔ 15 ویں لوک سبھا کا جاریہ سیشن چونکہ انتخابات سے قبل آخری سیشن ہوگا اس لئے حکومت چاہتی ہے کہ اس بل کی جاری سیشن کے دوران ہی غوروخوض کے ذریعہ منظوری یقینی بنائی جائے ۔ حکومت نے آندھراپردیش اسمبلی کی جانب سے اس بل کو مسترد کرنے اور چیف منسٹر کرن کمار ریڈی کی شدیدمخالفت کے باوجود پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس دوران مختلف مسائل پر پارلیمنٹ میں جاری احتجاج آج انتہائی بدترین شکل اختیار کرگیا جبکہ راجیہ سبھا میں چند ارکان نے سرکاری پیپرس پھاڑ ڈالے اور اسے کرسی صدارت کی طرف پھینکا ، اس کے علاوہ انھوں نے پوڈیم پر مائیکرو فونس تک پہونچنے کی بھی کوشش کی ۔ ایوان بالا میں بعض ارکان نے گزشتہ ہفتہ مختلف موضوعات پر احتجاج کے دوران 10 ارکان پارلیمنٹ کے خلاف قواعد کی خلاف ورزی کا تذکرہ کرنے پر اعتراض کیا۔

اس احتجاج کی وجہ سے راجیہ سبھا میں مسلسل چوتھے دن بھی کارروائی نہیں چلائی جاسکی ۔ لوک سبھا میں بھی تلنگانہ اور دیگر مسائل جیسے فرقہ وارانہ تشدد بل اور ٹامل ماہی گیروں کو درپیش مسائل پر ہنگامہ آرائی کا ماحول رہا جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی مفلوج رہی ۔ ارکان نے اتنا ہنگامہ کھڑا کیا کہ دونوں ایوان کے اجلاس کئی بار ملتوی کرنے پڑے ۔ لوک سبھا کا اجلاس ایک بار ملتوی کیا گیا دوسری مرتبہ اسے 2 بجے دن تک کیلئے ملتوی کیا گیا کیونکہ ارکان کا شور وغل مسلسل جاری تھا۔ آخر کار اسپیکر لوک سبھا نے اجلاس آج دن بھر کیلئے ملتوی کردیا۔ راجیہ سبھا میں بھی اسی صورتحال کا اعادہ ہوا ۔ ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے سرکاری کاغذات چاک کردیئے ۔ چند ارکان نے اسے قواعد کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے متعلقہ ارکان کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ ہنگامہ کی وجہ سے راجیہ سبھا کا اجلاس بھی پہلے دوپہر تک اور بعدازاں دن بھر کیلئے ملتوی کردیا گیا۔ دونوں ایوانوں کے اجلاس جیسے ہی شروع ہوئے گذشتہ ہفتہ کے مناظر کا اعادہ دیکھا گیا ۔

لوک سبھا میں کئی ارکان بشمول ان کے حامی اور مخالفین آندھرا پردیش کی تقسیم کے مسئلہ پر ایوان کے وسط میں نعرہ بازی کرتے ہوئے جمع ہوگئے ۔ ان میں سماجوادی پارٹی ارکان بھی شامل ہوگئے جو انسداد فرقہ وارانہ تشدد بل کے خلاف نعرہ بازی کررہے تھے۔ اکالی دل کے ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے وہ پلے کارڈ لہرارہے تھے جن پر تحریر تھا کہ نائب صدر کانگریس راہول گاندھی 1984 ء سکھ دشمن فسادات کے پس پردہ افراد کے ناموں کا انکشاف کریں۔ شور و غل کے دوران اسپیکر میرا کمار نے ایوان کا اجلاس ایک گھنٹے کیلئے ملتوی کردیا جبکہ اجلاس کا آغاز ہوکر چند ہی منٹ گذرے تھے۔ اسی طرح کے مناظر دوپہر میں اجلاس کے دوبارہ آغاز پر بھی دیکھے گئے ۔ اسپیکر کی ارکان سے اپنی نشستوں پر واپس جانے کی بار بار اپیلیں بیکار ثابت ہوئی۔ اسپیکر نے کئی ارکان کی پیش کردہ تحریک عدم اعتماد کیلئے نوٹسیں کارروائی کیلئے پیش کرنا چاہتی تھیںلیکن دیگر ارکان نے جنہوں نے نوٹسں دی تھیں شور و غل کرنے لگے ۔ جس کی بناء پر میرا کمار نے ایوان کا اجلاس کاغذات کی پیشکشی کے بعد دن بھر کیلئے ملتوی کردیا ۔

راجیہ سبھا کے اجلاس کے آغاز کے ساتھ تلنگانہ اور دیگر مسائل پر جن میں ٹامل ماہی گیروں کی ہراسانی کا مسئلہ بھی شامل تھا شور و غل اور ہنگامہ دیکھا گیا۔
اجلاس کا جیسے ہی آغاز ہوا ایک ہی منٹ بعد اسے 10 منٹ کیلئے ملتوی کردیا گیا۔ تلگودیشم پارٹی کے ارکان آندھرا پردیش کی تقسیم کے خلاف پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جبکہ ڈی ایم کے اور انا ڈی ایم کے ارکان پارلیمنٹ نے جو ایوان کے وسط میں موجود تھے دیگر مسائل اٹھاتے ہوئے نعرہ بازی کی لیکن شور و غل کی وجہ سے کچھ بھی نہیں سنائی دیا۔ انتشار کا عالم جاری رہنے پر انا ڈی ایم کے رکن وی میتر ین کو کاغذات چاک کرتے ہوئے دیکھا گیا ۔

TOPPOPULARRECENT