Thursday , December 13 2018

تلنگانہ بل کی منظوری پر سیاسی سنیاس

حیدرآباد 4 فبروری (سیاست نیوز) چیف منسٹر مسٹر کرن کمار ریڈی نے آج ایک نئی چال چلتے ہوئے استفسار کیاکہ ریاستی اسمبلی میں مسترد کردہ آندھراپردیش تنظیم جدید بِل 2013 کو پارلیمنٹ میں کس طرح منظوری دی جائے گی ۔ انہوں نے کہاکہ اگر تلنگانہ مسودہ بل پارلیمنٹ میں منظور ہو تو وہ سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلیں گے۔ علاوہ ازیں مرکزی حکومت اسی

حیدرآباد 4 فبروری (سیاست نیوز) چیف منسٹر مسٹر کرن کمار ریڈی نے آج ایک نئی چال چلتے ہوئے استفسار کیاکہ ریاستی اسمبلی میں مسترد کردہ آندھراپردیش تنظیم جدید بِل 2013 کو پارلیمنٹ میں کس طرح منظوری دی جائے گی ۔ انہوں نے کہاکہ اگر تلنگانہ مسودہ بل پارلیمنٹ میں منظور ہو تو وہ سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلیں گے۔ علاوہ ازیں مرکزی حکومت اسی طرح آگے پہل کرنے کی صورت میں چیف منسٹر عہدے سے استعفیٰ دینا ہی ان کے آئندہ کے اقدامات و حکمت عملی کا حصہ ہوگا۔ کرن کمار ریڈی نے جو دہلی میں میڈیا سے بات کررہے تھے کہاکہ اگر آندھر کی تقسیم عمل میں لائی جاتی ہے تو اس سے سیما آندھرا علاقہ کے مقابلہ میں تلنگانہ کو نقصان ہوگا۔ اُنھوں نے مرکز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ غلطیوں پر مبنی بِل کو اسمبلی کو روانہ کیا گیا ۔

اُنھوں نے کہاکہ تلنگانہ مسودہ بل میں کافی پیچیدگیاں ہیں۔ آندھراپردیش تنظیم جدید بل میں 9 ہزار ترمیمات ریاستی اسمبلی میں تجویز کرنے کے باوجود ان پر غور کرنے کی بجائے جی او ایم نے بل کو منظوری دیدی جو قابل اعتراض ہے ۔ چیف منسٹر نے کہاکہ ریاست کی تقسیم سے متعلق بِل کو پہلے مرکزی کابینہ میں غور کے بعد صدرجمہوریہ کو بھجوانا اور صدرجمہوریہ کے پاس سے لوک سبھا کو روانہ کیا جانا چاہئے۔ مسٹر ریڈی نے کہاکہ شخصیتوں کے مقابلہ میں پارٹی انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور اب میرے مستقبل کے مقابلہ میں آندھراپردیش کا مستقبل اہمیت کا حامل ہے۔

TOPPOPULARRECENT