Monday , June 25 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ بل کی واپسی پر چیف منسٹر اب تک کیوں خاموش رہے ؟

تلنگانہ بل کی واپسی پر چیف منسٹر اب تک کیوں خاموش رہے ؟

حیدرآباد ۔ /25 جنوری (سیاست نیوز) ایوان کے دستوری حقوق میں کسی کی مداخلت درست نہیں ہے ۔ ریاست کو اپنے مفادات کے تحفظ کا مکمل اختیار حاصل ہے ۔ قائد اپوزیشن مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے آج چیف منسٹر مسٹر این کرن کمار ریڈی کی تقریر پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے استفسار کیا کہ آج چیف منسٹر ’’آندھراپردیش تشکیل جدید بل 2013 ء ‘‘ کو واپس روانہ کرنے کی بات کررہے ہیں ۔ اب تک وہ کیوں خاموش رہے ؟ اس پر چیف منسٹر نے بتایا کہ جب بل ایوان میں مباحث کے لئے پیش کیا گیا اس وقت وہ ایوان میں نہیں تھے اور ناسازی صحت کی بناء پر غیر حاضر رہے ۔ مسٹر نائیڈو نے صدرجمہوریہ کی جانب سے ریاستی اسمبلی کو روانہ کردہ بل کو مسودہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ تقسیم یا متحد رہنے کا نہیں رہا بلکہ یہ مسئلہ پر عوام کے تحفظ کا مسئلہ بن چکا ہے ۔ مسٹر نائیڈو نے بتایا کہ

ریاست میں سیاسی مفادات کے حصول کے لئے کوئی اقدام کیا جائے تو وہ ناقابل قبول ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ عوام کیلئے یا ایوان کے لئے شخصیت کی کوئی اہمیت نہیں ہے بلکہ انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لئے جمہوری اصولوں کے دائرے میں اقدامات اہمیت کے حامل ہیں ۔ صدر تلگودیشم پارٹی نے کہا کہ وہ پیر کے دن ایوان میں اپنے موقف کا اظہار کریں گے کہ آیا وہ متحدہ ریاست کے حامی ہیں یا پھر تقسیم کی حمایت کرنے والے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اب تک تمام جماعتوں و ارکان کے مباحث کی بغور سماعت کررہے تھے لیکن اب وہ اپنا موقف پیش کریں گے ۔ مسٹر نائیڈو نے بتایا کہ اسمبلی کو حاصل اختیارات کے متعلق قوانین واضح ہیں اور ان کے دائرے میں رہتے ہوئے اسمبلی اپنے فیصلہ کرنے کی مجاز ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ چیف منسٹر کی جانب سے بل کو واپس کرنے کے لئے نوٹس دیئے جانے سے ایسا لگ رہا ہے کہ اب تک حکومت اس مسئلہ سے غافل رہی ہے اور اب چیف منسٹر کو ہوش آیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دستور نے ریاستوں کو جو حقوق فراہم کئے ہیں ان میں ریاست کے مفادات کے تحفظ کا حق بھی ریاست کو حاصل ہے اور ان حقوق میں کسی کی مداخلت کو قبول نہیں کیا جانا چاہئے ۔ مسٹر نائیڈو نے کہا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری تھی کہ وہ ’’آندھراپردیش تشکیل جدید بل 2013 ء ‘‘ کو ایوان میں پیش کرنے سے قبل اس کے قانونی امور کا جائزہ لیتی اور دستور میں موجود گنجائش پر غور و خوص کے بعد ایوان میں بل پر مباحث کا آغاز کرواتی ۔ مسٹر نائیڈو نے بتایا کہ صدرجمہوریہ کی جانب سے اسمبلی کو روانہ کردہ بل درحقیقت صرف مسودہ ہے اور وہ پیر کو اپنے خطاب میں اس کے علاوہ دیگر امور پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اپنی رائے ظاہر کریں گے ۔

TOPPOPULARRECENT