Wednesday , December 19 2018

تلنگانہ بل کی کامیابی تاریخی فیصلہ

نارائن پیٹ /20 فروری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) مسٹر ڈی وٹھل راؤ سابق رکن پارلیمان محبوب نگر نے اپنے دورے نارائن پیٹ کے موقع پر پریس کانفرنس میں علحدہ ریاست تلنگانہ بل کی پارلیمنٹ میں زبردست کامیابی پر اظہار مسرت کرتے ہوئے صدر کانگریس شریمتی سونیا گاندھی اور وزیر اعظم مسٹر منموہن سنگھ کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے کہا کہ علحدہ ریاست تلنگانہ

نارائن پیٹ /20 فروری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) مسٹر ڈی وٹھل راؤ سابق رکن پارلیمان محبوب نگر نے اپنے دورے نارائن پیٹ کے موقع پر پریس کانفرنس میں علحدہ ریاست تلنگانہ بل کی پارلیمنٹ میں زبردست کامیابی پر اظہار مسرت کرتے ہوئے صدر کانگریس شریمتی سونیا گاندھی اور وزیر اعظم مسٹر منموہن سنگھ کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے کہا کہ علحدہ ریاست تلنگانہ بل کی مخالفت میں ہر طرح کے ہتکنڈے استعمال کئے گئے مگر کامیابی نہیں ہوئی ۔ انہوں نے اظہار تاسف کرتے ہوئے کہا کہ 4 سال قبل مسٹر جگن موہن ریڈی اور ان کی والدہ شریمتی وجئے اماں نے کہا تھا کہ اگر تلنگانہ کے عوام علحدگی ہی چاہتے ہیں تو ہم اس کی تائید کرتے ہیں ۔ مسٹر چندرا بابو نائیڈو نے 6 ڈسمبر 2009 جبکہ مسٹر روشیا وزیر اعلی تھے تحریری اور زبانی علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کی تائید کی ۔ اس کے علاوہ تمام علاقائی و قومی پارٹیوں سے مشورہ کیا گیا ۔ تمام پارٹیوں نے سیوا سی پی ایم کے تائید کی ۔ چنانچہ 9 ڈسمبر 2009 کو مرکزی وزیر داخلہ مسٹر چدمبرم نے اعلان کیا کہ ساتھ ہی سیما آندھرا قائدین تلنگانہ کے خلاف ریشہ دوانی شروع کردیں ۔

انہوں نے کہا کہ سیما آندھرا کے چیف منسٹر مسٹر کرن کمار ریڈی نے ہائی کمان کے فیصلہ کے خلاف آخری لمحہ تک کوششیں کیں بالاآخر ناکام رہے اور انہیں استعفی دینے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہا ۔ مسٹر چندرا بابو نائیڈو جو تلنگانہ کیلئے تحریری اور زبانی تائیدی بیان دیا تھا 10 دن سے دہلی میں بیٹھ کر قومی قائدین شرد یادو ، دیواگوڑہ ، جئے للیتا ، بیجو پٹنایک ، ممتا بنرجی اور ملائم سنگھ سے ملاقاتیں کرکے تلنگانہ کے خلاف کام کرتے رہے ۔ انہوں نے بی جے پی کو بھی دھوکہ باز کہا اور بتایا کہ بی جے پی قائدین نے بارہا تلنگانہ کی تائید کا اعلان کیا لیکن کل راجیہ سبھا میں علحدہ تلنگانہ ریاست کے خلاف بیان دیتے ہوئے اسپیشل پیاکیج کا مطالبہ کیا ۔ حالانکہ تلنگانہ بل میں 38 فیصد تبدیلی لاتے ہوئے سیما آندھرا کیلئے خصوصی مراعات دی گئی ہیں ۔ انہوں نے علحدہ ریاست تلنگانہ بل کی کامیابی کو ایک تاریخی فیصلہ قرار دیا اور محترمہ سونیا گاندھی کے تاریخ ساز فیصلہ کرنے والی منفرد خاتون قرار دیا اور آج ریاست تلنگانہ 29 ویں ریاست کا درجہ حاصل کرلیا ہے ۔ اس موقع پر مسرز رام موہن ریڈی ، ڈاکٹر نرسمہا ریڈی ، سرینواس ریڈی ، سداشیو ریڈی ، جی سدھاکر ، جنیت ریڈی کے علاوہ اقلیتی قائدین میں سرفراز حسین انصاری ، غلام دستگیر چاند ، محمود قریشی ، طاہر مڑکی اور دیگر موجود تھے ۔
٭ ٭ ٭

TOPPOPULARRECENT