Thursday , December 13 2018

تلنگانہ بل کے خلاف قرارداد سے تشکیل تلنگانہ پر کوئی اثر نہیں ہوگا

حیدرآباد /30 جنوری (سیاست نیوز) کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل محمد فاروق حسین نے کہا کہ اسمبلی اور کونسل میں تلنگانہ بل کے خلاف قرارداد منظور کرنے کا علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ کونسل کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی ہونے کے بعد انھوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کو کو

حیدرآباد /30 جنوری (سیاست نیوز) کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل محمد فاروق حسین نے کہا کہ اسمبلی اور کونسل میں تلنگانہ بل کے خلاف قرارداد منظور کرنے کا علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ کونسل کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی ہونے کے بعد انھوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کو کوئی طاقت روک نہیں سکے گی، کیونکہ تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے اور تمام سیاسی جماعتوں بشمول کانگریس قائدین سے مشاورت کے بعد ہی سی ڈبلیو سی کے اجلاس میں علحدہ ریاست کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سیما۔ آندھرا کے قائدین کو اپنی رائے پیش کرنے کا اختیار ہے، تاہم پارٹی ہائی کمان کا فیصلہ قبول کرنا بھی ان کی ذمہ داری ہے۔ انھوں نے کہا کہ علحدہ ریاست کی تشکیل کے لئے 50 سال سے تحریک چلائی جا رہی ہے، جس کے لئے ہزاروں نوجوانوں اور طلبہ نے اپنی زندگیاں قربان کی ہیں۔ تمام حالات کا جائزہ لینے کے بعد ہی کانگریس صدر سونیا گاندھی نے علحدہ ریاست کی تشکیل کا فیصلہ کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ تلنگانہ عوام کو سونیا گاندھی پر مکمل بھروسہ ہے، آئندہ ماہ پارلیمنٹ میں تلنگانہ کا بل پیش کرکے اسے منظور کیا جائے گا اور 2014ء کے عام انتخابات دونوں ریاستوں میں منعقد ہوں گے۔ مسٹر فاروق حسین نے کہا کہ کانگریس پارٹی علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے معاملے میں اپنے عہد کی پابند ہے، تلگودیشم اور وائی ایس آر کانگریس کی طرح اپنا موقف تبدیل کرنے والی نہیں ہے۔ دونوں جماعتوں نے عوام کو دھوکہ دیا ہے، کیونکہ پہلے تلنگانہ کی تائید کی گئی، اس کے بعد تلنگانہ کی مخالفت کرکے دونوں جماعتیں تلنگانہ عوام کی تائید سے محروم ہو گئیں۔ انھوں نے کہا کہ 4 فروری کو دہلی میں گروپ آف منسٹرس کا اجلاس ہوگا، جس میں تلنگانہ بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے کو قطعیت دی جائے گی۔ انھوں نے تلنگانہ عوام کو مایوس نہ ہونے کا مشورہ دیا اور کہا کہ اسمبلی اور کونسل میں منظورہ قرارداد ریاست کی تقسیم میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔

TOPPOPULARRECENT