تلنگانہ بھر میں ٹی آر ایس کی لہر ‘88 حلقوں سے شاندار کامیابی

کانگریس 19 اور تلگودیشم صرف 2 حلقوں تک محدود ۔ اپوزیشن کے اہم قائدین کو شکست کا سامنا ۔ چار وزرا اور سابق اسپیکر کو بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا

حیدرآباد 11 ڈسمبر ( سیاست نیوز ) تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے ریاست کے اسمبلی انتخابات میں بے مثال کامیابی درج کرتے ہوئے اپوزیشن کو بھاری نقصان پہونچایا ہے ۔ ٹی آر ایس کو ریاست کے 119 حلقہ جات میں 88 حلقوں سے شاندار کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ موافق تلنگانہ جذبات کی لہر اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راو کی مقبول عام عوامی اسکیمات کے نتیجہ میں اپوزیشن ریاست میں کوئی خاص کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے اور ٹی آر ایس کو شاندار کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ مہا کوٹمی میں شامل کانگریس پارٹی کو 19 حلقوں سے کامیابی ملی ہے جبکہ تلگودیشم نے محض دو مقامات سے کامیابی درج کی ہے ۔ حیدرآباد میں مجلس اتحاد المسلمین نے اپنا اثر برقرار رکھا ہے اور اس کی تمام 7 نشستوں پر دوبارہ شاندار کامیابی ہوئی ہے ۔ تحلیل شدہ اسمبلی میں بی جے پی کی جہاں پانچ نشستیں تھیں اب وہ صرف ایک ہی نشست بچا سکی ہے اور اس کے تمام اہم قائدین جیسے ریاستی صدر کے لکشمن ‘ جی کشن ریڈی اور دوسرے شکست سے دوچار ہوگئے ہیں۔ انتخابات میں جہاں اپوزیشن کے اہم چہرے اور بڑْ قائدین کو شکست ہوئی ہے وہیں ٹی آر ایس بھی ان جھٹکوں سے محفوظ نہیں رہی ہے کیونکہ اس کے چار سابق وزرا کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے ۔ شکست خوردہ وزرا میں جے کرشنا راو ‘ ٹی ناگیشور راو ‘ پی مہیندر ریڈی اور اجمیرا چندولال شامل ہیں جنہیں رائے دہندوں نے مسترد کردیا ہے ۔ اس کے علاوہ سابق اسپیکر اسمبلی مسٹر مدھو سدن چاری بھی شکست کھاچکے ہیں۔ کانگریس کے جن اہم قائدین کو شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے ان میں سابق قائد اپوزیشن کے جانا ریڈی ‘ قائد اپوزیشن کونسل محمد علی شبیر ‘ سابق وزرا ڈاکٹر جے گیتا ریڈی ‘ ڈی کے ارونا ‘ ٹی جیون ریڈی ‘ کے وینکٹ ریڈی ‘ دامودر راج نرسمہا شامل ہیں۔

اس کے علاوہ اسٹار کمپینر سمجھے جانے والے اے ریونت ریڈی ‘ سابق ایم پی پونم پربھاکر ‘ مسٹر پونالہ لکشمیا کو رائے دہندوں کی حمایت نہیں مل سکی ہے ۔ اس کے علاوہ بی جے پی کے جو چار قائدین شکست کھاگئے ہیں ان میں ریاستی صدر ڈاکٹر کے لکشمن ‘ سابق فلور لیڈر جی کشن ریڈی ‘ سی رامچندر ریڈی اور این وی وی ایس پربھاکر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری سی ایچ وینکٹ ریڈی کو بھی شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے ۔ علیحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد سال 2014 میں ہوے اسمبلی انتخابات میں ٹی آر ایس کو 63 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی جبکہ کانگریس کو 25 ‘ تلگودیشم کو 15 اور مجلس کو 7 حلقوں کے علاوہ بی جے پی کو پانچ حلقوں سے کامیابی حاصل ہوئی تھی ۔ اس کے علاوہ وائی ایس آر کانگریس کو تین ‘ بی ایس پی کو دو ‘ سی پی آئی اور سی پی ایم کو ایک ایک نشست پر کامیابی ملی تھی لیکن اس بار دوسری تمام جماعتوں کو شکست ہوچکی ہے ۔ کانگریس کے اہم قائدین کے علاوہ بی ایس پی ‘ سی پی آئی اور سی پی ایم کو ایک بھی کامیابی نہیں مل سکی ہے ۔ ریاست میں ٹی آرایس کو بیدخل کرنے کیلئے عظیم اتحاد تشکیل دیا گیا تھا جس میں تلگودیشم ‘ سی پی آئی اور ٹی جے ایس بھی شامل تھے ۔ ریاست میں انتخابی مہم میں کل ہند کانگریس کے صدر راہول گاندھی ‘ یو پی اے کی صدر نشین سونیا گاندھی ‘ سینئر کانگریس قائدین احمد پٹیل ‘ غلام نبی آزاد ‘ سلیم احمد ‘ وجئے شانتی وغیرہ نے حصہ لیا تھا ۔ علاوہ ازیں مہا کوٹمی میں شامل تلگودیشم کے سربراہ این چندرا بابو نائیڈو ‘ ممتاز فلم اداکار و رکن اسمبلی ین بالا کرشنا نے بھی اتحادی امیدواروں کے حق میں انتخابی مہم چلائی تھی ۔ تلنگانہ راشٹرا سمیتی کی جو انتخابی مہم رہی تھی اس کے روح رواں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راو ہی رہے ۔ اس کے علاوہ ان کے فرزند کے ٹی راما راو ‘ ریاستی وزیر ٹی ہریش راو اور رکن پارلیمنٹ کے کویتا نے پارٹی امیدواروں کے حق میں مہم چلائی تھی ۔ ریاست میں ٹی آر ایس کی لہر منفرد رہی اور اس میں دیگر تمام اپوزیشن جماعتوں کے اہم قائدین کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے ۔ اس مرتبہ ٹی آر ایس امیدوار ٹی ہریش راو نے مسلسل چھٹی مرتبہ اسمبلی کیلئے کامیابی حاصل کی ہے ۔ انہوں نے جملہ 1,18,699 ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کی جو ایک ریکارڈ ہے ۔ اس کے علاوہ سرسلہ سے کے ٹی راما راو نے جملہ 89009 ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی درج کی جبکہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راو کو 51 ہزار سے زائد ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT