Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ تعلیمی نظام سخت ترین ، روزگار کیلئے غیر موزوں

تلنگانہ تعلیمی نظام سخت ترین ، روزگار کیلئے غیر موزوں

تعلیمی نظام میں تبدیلی اور نوجوانوں میں صلاحیتوں کو اُبھارنے کی ضرورت پر زور
حیدرآباد /8 ستمبر ( سیاست نیوز ) ریاست تلنگانہ میں موجودہ تعلیمی نظام سخت ہونے کے باوجود روزگار کیلئے موزوں نہیں ہے ۔ چونکہ چیالجوں بھرے اس دور میں سخت محنت و لگن سے تعلیم حاصل کرنا روزگار کے معاملہ میں بے فیض ثابت ہو رہا ہے ۔ موجودہ تعلیمی نظام میں تبدیلی اور صلاحیتوں میں اضافہ اور مددگار نظام قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا جارہا ہے ۔ لندن کے ایک معروف پبلیشر اور تعلیمی ادارے نے حالیہ دنوں تلنگانہ میں ایک سروے کیا تھا اور اس سروے سے حیرت انگیز انکشافات منظر عام پر آئے ۔ ہیرسن نامی اس ادارے نے اپنی سروے رپورٹ کو جاری کیا ۔ تلنگانہ کے 15 بڑے شہریوں میں سروے کیا گیا اور سروے میں حاصل مواد اور صورتحال کے لحاظ سے آئندہ تعلیمی سال ایجوکیشن پالیسی میں تبدیلی اور روزگار کیلئے مددگار نئی پالیسی کی تشکیل کی سفارش پیش کی ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ تعلیمی نظام سخت ہونے کے باوجود طلبہ میں صلاحیتوں کا فقدان پایا جاتا ہے ۔ نصاب کے لحاظ سے مسابقت اور مسابقت کی اس دوڑ میں طلبہ صرف نصاب پر توجہ دے رہے ہیں تاکہ اس میں بہتر مظاہرہ سے بہتر رینک حاصل کیا جاسکے اور اساتذہ بھی انتظامیہ کے دباؤ اور طلبہ کو رینک دلانے کی فکر میں صرف نصاب ہی تک محدود ہو رہے ہیں ۔ جبکہ ان کی یہ صلاحیت جو روشن مستقبل اور بہتر اقدار کیلئے دی جارہی ہے ان کیلئے مددگار ثابت نہیں ہورہی ہے ۔ جس کے نتیجہ میں 60 فیصد طلبہ روزگار حاصل کرنے کی دوڑ میں ناکام ہو رہے ہیں ۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ تعلیم اور امتحان کے طریقہ کار میں تبدیلی ضروری ہے تاکہ جدید تقاضوں کے مطابق طلبہ کو ہم آہنگ کیا جاسکے اور تعلیمی نظام میں تبدیلی کے سبب طلبہ کو ایک طویل عرصہ سے مکمل طور پر تیار کیا جاسکتا ہے ۔ سروے رپورٹ میں اساتذہ نے بھی حقیقت کو واضح کیا اور اساتذہ کا کہنا ہے کہ بچوں میں صلاحیتوں کو پیدا کرنا اور ان میں چھپی ہوئی صلاحیتوں کو پروان چڑھانا نہایت ہی مشکل ہے ۔ چونکہ نصاب کو مکمل کرنا اور اس میں آگے پڑھانے میں ہی وقت گذر جاتا ہے ۔ اس سروے رپورٹ میں ایک اور حیرت انگیز انکشاف اس بات کا بھی کیا گیا کہ تلنگانہ میں صرف 34 فیصد والدین ہی اپنے بچوںکو ہر لحاظ سے قابل بنانے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں اور بچوں کی صلاحیتوں اور ان کی تعلیم و ترقی میں شامل ہیں ۔ جبکہ تلنگانہ کے نصف اساتذہ کی تعداد دباؤ کا شکار ہے ۔ مسابقت اور کلاس روم میں کمزور طلبہ پر توجہ دینے میں اساتذہ بھی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں ۔ سروے رپورٹ میں اسکولس کو عصری سہولتوں سے تیار کرنے اور ڈیجیٹل ذریعہ قابلیت کے علاوہ ان میں صلاحیتوں کو پیدا کرنے اور موجودہ صلاحیتوں کو پروان چھڑانے میں جدید ٹکنالوجی کے استعمال کی ضرورت کو پیش کیا گیا ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT