Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ تلگودیشم اور مجلس نئے سیاسی دوست ؟

تلنگانہ تلگودیشم اور مجلس نئے سیاسی دوست ؟

حکومت کے گراف میں گراوٹ کے بعد کی نئی سیاسی تبدیلی
حیدرآباد۔12ستمبر(سیاست نیوز) ریاست میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہونے لگی ہیں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین کی ملاقاتیں ہونے لگی ہیں۔ انتخابات سے قبل تیار ہونے والے ماحول کی طرح اچانک ریاست کی سیاسی سرگرمیوں میں آنے والی تبدیلی کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا رہا ہے کہ سیاسی صف آرائی اور بلیک میل کرنے کی سیاست کا عملی آغاز کیا جا چکا ہے اور اس دوڑ میں ہر سیاسی جماعت کے قائدین اتر چکے ہیں ۔ سیاسی مفادات حاصلہ کو اپنی نشستوں کو بچانے کے ساتھ ساتھ برسراقتدار جماعت کو خوف زدہ رکھنے میں بھی بڑی دلچسپی ہوتی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی قومی و ریاستی سطح پر حلیف تلگو دیشم پارٹی کے سرکردہ قائد و کارگذار صدر ریاستی تلگو دیشم پارٹی مسٹر اے ریونت ریڈی کی قائد ایوان مقننہ مجلس پارٹی اکبر الدین اویسی کی دو گھنٹے طویل ملاقات کے بعد کئی قیاس لگائے جانے لگے ہیں کیونکہ ریونت ریڈی کی تلنگانہ راشٹر سمیتی کا کٹر حریف اور حکومت کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے تنقید کرنے والے اپوزیشن قائد کی منفرد شناخت ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ تلنگانہ راشٹر سمیتی کے سخت مخالف ہیں اور یہ بھی سچ ہے کہ ریونت ریڈی کے سیاسی کیریئر کا آغاز بھارتیہ جنتا پارٹی سے ہوا تھا ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے انضمام حیدرآباد کے سلسلہ میں سرکاری تقاریب کے انعقاد کا مطالبہ کرتے ہوئے تحریک چلائے جانے کے دوران ریونت ریڈی کی اکبر الدین اوسی سے ملاقات اور اس کے فوری بعد اکبر الدین اویسی کی جانب سے حکومت بالخصوص محکمہ اقلیتی بہبود کی کی کارکردگی پر سخت تنقید کی شروعات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی حکومت کے خلاف نہ صرف بھارتیہ جنتا پارٹی بلکہ ہر سیاسی جماعت محاذ کھولنے کی تیاری کرچکی ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی اور تلگو دیشم پارٹی جو کہ حلیف جماعتیں ہیں ان کے نمائندے کی مجلسی قائد سے ملاقات اور دو گھنٹے طویل تبادلہ خیال کے بعد ریونت ریڈی کی جانب سے بات چیت کے خلاصہ سے انکار کئے جانے پر کئی شبہات پیدا ہونے لگے ہیں کیونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی آئندہ عام انتخابات میں تلنگانہ میں اپنے موقف کو مزید مستحکم کرنے کیلئے یوم انضمام حیدرآبادکا سیاسی استحصال کر رہی ہے ۔ سیاسی ماہرین بالخصوص ہندستان کے سیکولر ڈھانچہ کو مضبوط رکھنے کی جدوجہد کرنے والے جہد کاروں کا ماننا ہے کہ آر ایس ایس اور بھارتیہ جنتا پارٹی فرقہ وارانہ منافرت کے لئے ہندو مسلم زہر افشانی کے ذریعہ دوریاں پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے اور اکثریتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے سیاسی قائدین کی زہر افشانی کے جواب میں کی جانے والی نفرت انگیز تقاریر ایک دوسرے کی غذاء ہے۔ اکبر الدین اویسی سے ملاقات کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کی حلیف تلگو دیشم پارٹی کے کارگذار صدر اے ریونت ریڈی کی ملاقات پر جو راز کے پردے پڑے ہوئے ہیں وہ اتنی جلدی اٹھتے نظر نہیںآرہے ہیں لیکن سیاسی ماہرین اس ملاقات کو شمالی ہند کی ریاستوں میں مجلس کے انتخابات میں حصہ لینے سے مربوط کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT