Saturday , December 16 2017
Home / Top Stories / تلنگانہ تلگودیشم کا بحران کلائمکس کو پہونچا

تلنگانہ تلگودیشم کا بحران کلائمکس کو پہونچا

ریونت ریڈی پارٹی اور اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی
امراوتی میں چندرا بابو نائیڈو سے شخصی ملاقات کے بغیر واپس۔ اسپیکر کو بھی مکتوب روانہ
حیدرآباد ۔ 28 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ تلگودیشم میں جاری بحران بالآخر اپنے کلائمکس کو پہونچ گیا ۔ پارٹی دیشم کے شعلہ بیان مقرر ریونت ریڈی نے تلگو دیشم پارٹی اور اسمبلی کی رکنیت سے استعفی پیش کردیا ہے ۔ مزید کئی قائدین تلگو دیشم سے مستعفی ہونے کا امکان ہے ۔ ریونت ریڈی نے سربراہ تلگو دیشم چندرا بابو نائیڈو کے شخصی سکریٹری کو استعفیٰ کا مکتوب حوالے کیا جبکہ بذریعہ فیکس اسپیکر اسمبلی مدھو سدن چاری کو اپنا مکتوب استعفیٰ روانہ کردیا ۔ گذشتہ چند دن سے جاری تلنگانہ تلگو دیشم بحران آج کلائمس کو پہنچا ۔ کل حیدرآباد کے لیک ویو گیسٹ ہاوز میں تلگو دیشم سربراہ و چیف منسٹر آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو نے تلنگانہ تلگو دیشم کے قائدین سے تبادلہ خیال کیا تھا اور آج تمام قائدین کو امراوتی پہونچنے کی ہدایت دی تھی ۔ تلنگانہ قائدین سے چندرا بابو نائیڈو نے پہلی مرتبہ مشترکہ ملاقات کی ۔ لنچ کے بعد ہر ایک سے علیحدہ ملاقات کا تیقن دیا تھا ۔ اسی دوران ریونت ریڈی نے ان سے تنہائی میں ملاقات کی خواہش کی جس پر نائیڈو نے جواب دیا کہ وہ پریس کانفرنس کیلئے روانہ ہورہے ہیں بعد میں ملاقات کریں گے ۔ چندرا بابو نائیڈو کی غیر موجودگی میں ریونت ریڈی نے ان کے شخصی سکریٹری سے ملاقات کی اور استعفیٰ کا مکتوب انہیں سونپ کر نائیڈو سے ملاقات کیے بغیر حیدرآباد لوٹ گئے ۔ انہوں نے اسپیکر اسمبلی مدھوسدن چاری کو بھی بذریعہ فیاکس اسمبلی رکنیت سے استعفی کا مکتوب روانہ کردیا ۔ ریونت ریڈی نے چندرا بابو نائیڈو کو پیش کردہ مکتوب استعفیٰ میں بتایا کہ وہ تلگو دیشم اور چندرا بابو نائیڈو کا احترام کرتے ہیں ان کی آج جو سیاسی پہچان ہے وہ نائیڈو اور تلگو دیشم کی بدولت ہے ۔ ان کے دل میں نائیڈو کا احترام برقرار رہے گا ۔ ان کی لڑائی چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر سے ہے ۔ ٹی آر ایس کے دور حکومت میں زرعی شعبہ بحران کا شکار ہوچکا ہے ۔ کسانوں کو ہتھکڑیاں لگائی گئی ہیں ۔ ریاست کے عوام مسائل سے دوچار ہیں وہ کے سی آر کے خلاف علم بغاوت کررہے ہیں اور پارٹی کے استحکام کے لیے کام کررہے ہیں ۔ تلگو دیشم کارکنوں کی حالت قابل رحم ہے ۔ حالیہ دنوں میں جو واقعات پیش آئے انہیں کافی صدمہ پہونچا ہے ۔ انہیں صرف تلگو دیشم ورکنگ صدر و فلور لیڈر کی حیثیت سے ہٹایا نہیں گیا ہے ان کی موجودگی میں اسپیکر اسمبلی کو مکتوب روانہ کرکے وینکٹ ویریا کو پارٹی فلور لیڈر تسلیم کرنے کی خواہش کی گئی ہے ۔ جس سے انہیں بے حد تکلیف ہوئی ہے ۔ وہ ایک طرف ٹی آر ایس کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں ۔ دوسری طرف پارٹی کے قائدین ٹی آر ایس سے اتحاد کی باتیں کررہے ہیں جس پر نہ چاہتے ہوئے بھی وہ اس طرح کا اقدام کرنے مجبور ہیں ۔ تلگو دیشم پارٹی میں مجھ پر جو بھروسہ کیا گیا اور جو عہدے دئیے گئے وہ اس کیلئے پارٹی صدر چندرا بابو نائیڈو سے اظہار تشکر کرتے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT