Saturday , September 22 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ حامی نے لگڑا پاٹی کو خطاب کرنے سے روک دیا

تلنگانہ حامی نے لگڑا پاٹی کو خطاب کرنے سے روک دیا

حیدرآباد /22 جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ کے حامی نے متحدہ آندھرا کے حامی لگڑا پاٹی راج گوپال کو شہ نشین سے دھکیل دیا، جس کے بعد تھوڑی دیر کے لئے افرا تفری پھیل گئی، تاہم پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے حالات کو بگڑنے سے بچالیا۔ واضح رہے کہ اے پی این جی اوز کی جانب سے آج چلو حیدرآباد ریالی منظم کی گئی تھی، تاہم اندرا پارک دھرنا چوک پر جیسے ہی کانگریس رکن پارلیمنٹ لگڑا پاٹی راج گوپال خطاب کے لئے شہ نشین پر پہنچے، تلنگانہ کے ایک حامی نے ان کا ہاتھ پکڑ کر نیچے کھینچ لیا، جس پر وہ شہ نشین سے گرپڑے۔ اس واقعہ پر متحدہ آندھرا کے حامیوں نے برہمی کا اظہار کیا، جب کہ پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے تلنگانہ حامی کو حراست میں لے لیا۔ دریں اثناء متحدہ آندھرا کے حامیوں نے میڈیا نمائندوں کو روک دیا، جس کی وجہ سے تھوڑی دیر کے لئے کشیدگی کا ماحول پیدا ہو گیا۔ بعد ازاں لگڑا پاٹی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب معمولی واقعات ہیں، اس پر نہ ہی وہ خوف زدہ ہیں اور نہ ہی متحدہ آندھرا کے حامیوں کو فکرمند ہونے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ متحدہ آندھرا کے حامی اپنا پرامن احتجاج جاری رکھیں اور اپنے مقصد میں کامیاب ہونے کی راہیں تلاش کریں۔

انھوں نے کہا کہ گزشتہ 6 ماہ سے سرکاری ملازمین، وکلاء اور دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد متحدہ آندھرا کی تحریک چلا رہے ہیں، وہ ان کے ساتھ اظہار یگانگت کرتے ہیں۔ اس موقع پر سیما۔ آندھرا سے تعلق رکھنے والے ریاستی وزراء ٹی جی وینکٹیش، ای پرتاپ ریڈی اور جی سرینواس راؤ نے بھی اے پی این جی اوز کے ساتھ اظہار یگانگت کیا۔ دریں اثناء ریاستی وزیر انفراسٹرکچر جی سرینواس راؤ نے کہا کہ ریاست کی تقسیم کی کوئی وجہ نہیں ہے، جب کہ ارکان اسمبلی اور عوام کی اکثریت ریاست کی تقسیم کے خلاف ہے، جب کہ مرکزی حکومت کے فیصلہ کے خلاف عوام میں برہمی پائی جاتی ہے۔ ٹی جی وینکٹیش نے کہا کہ ریاست کی تقسیم کا فیصلہ نامناسب ہے اور تلنگانہ مسودہ بل بے معنی ہے۔ اگر بل منظور ہو جاتا ہے، تب بھی علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل بے فیض ثابت ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT