Friday , November 17 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ حج کمیٹی کو حج کیمپ کے انعقاد میں دشواریاں ممکن

تلنگانہ حج کمیٹی کو حج کیمپ کے انعقاد میں دشواریاں ممکن

قیام کی گنجائش میں کمی ، عمارات حج ہاوز سرکاری دفاتر کے مرکز میں تبدیل
حیدرآباد۔/15اپریل، ( سیاست نیوز) حج 2016 کیلئے حج کیمپ کے انعقاد میں تلنگانہ حج کمیٹی کو ناقابل بیان دشواریوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ موجودہ حج ہاوز کی عمارت میں عازمین حج کے قیام کی گنجائش کافی گھٹ چکی ہے اور حج کمیٹی کو زیر تعمیر کمرشیل کامپلکس پر انحصار کرنا پڑیگا۔ واضح رہے کہ چندرا بابو نائیڈو دور حکومت میں حج ہاوز کی تعمیر اس مقصد سے کی گئی تھی کہ وہاں عازمین حج کے قیام کو یقینی بنایا جائے لیکن بدستور یہ عمارت اقلیتی بہبود کے سرکاری دفاتر کے مرکز میں تبدیل ہوگئی اور ہر سال رہائش کی گنجائش میں کمی واقع ہوئی۔ گزشتہ سال عمارت میں 600 عازمین کے قیام کی گنجائش موجود تھی لیکن جاریہ سال بمشکل  200عازمین کیلئے بھی رہائش کے انتظامات ممکن نظر نہیں آرہے ہیں۔ حج ہاوز کی موجودہ عمارت میں اقلیتی بہبود کے دفاتر موجود ہیں لیکن ریاست کی تقسیم کے بعد دفاتر کی تعداد میں اضافہ ہوچکا ہے۔ آندھرا پردیش وقف بورڈ کے علاوہ آندھرا پردیش کے فینانس کارپوریشن، اردو اکیڈیمی اور حج کمیٹی کیلئے حج ہاوز میں ہی عمارتوں کی جگہ فراہم کی جارہی ہے جس سے عازمین کی رہائشی گنجائش مزید گھٹ جائے گی۔آندھرا پردیش وقف بورڈ اور دیگر اداروں کیلئے مزید 4 فلور میں دفاتر کیلئے جگہ فراہم کی جارہی ہے۔ اس طرح حج ہاوز کی عمارت عازمین کی رہائش کے بجائے دفاتر کے مرکز میں تبدیل ہوجائیگی۔ اقلیتی اداروں کے علاوہ حیدرآباد اور رنگاریڈی کے ڈی ایم ڈبلیو دفاتر اور بعض خانگی ادارے بھی اسی عمارت میں قائم ہیں۔ گزشتہ سال حج کے موقع پر تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے عازمین کو رہائش کی سہولت فراہم کرنے میں کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ روزانہ 3 فلائیٹس کے اعتبار سے بیک وقت 2000سے زائد عازمین کیلئے رہائش کی گنجائش فراہم کی جارہی تھی۔ جاریہ سال حج کے موقع پر اگر روزانہ 2 فلائیٹس رہیں گی تو توقع ہے کہ روزانہ 1800 افراد کی رہائش کی سہولت فراہم کرنی ہوگی۔ یہ سہولت حج ہاوز کی عمارت میں قطعی ممکن نہیں ہے لہذا زیر تعمیر کامپلکس کو استعمال کرنا پڑے گا۔ واضح رہے کہ حج 2016 کیلئے اگسٹ سے کیمپ کا آغاز ہوگا کیونکہ اسی ماہ عازمین کی پروازیں شروع ہورہی ہیں۔ دونوں ریاستوں کے عازمین کے اعتبار سے کیمپ 15 دن تک برقرار رہ سکتا ہے ایسے میں تنگ جگہ کے باوجود عازمین کیلئے موثر انتظامات حج کمیٹی کیلئے چیلنج رہے گا۔ سابق میں احمد ندیم ( آئی اے ایس ) نے سکریٹری کی حیثیت سے حج ہاوز سے دفاتر کے تخلیہ کی ہدایت دی تھی لیکن ان کے تبادلہ کے بعد یہ کارروائی آگے نہ بڑھ سکی۔ موجودہ سکریٹری عمر جلیل نے تمام خانگی دفاتر کے تخلیہ کے احکامات جاری کئے لیکن بعد میں دستبرداری اختیار کرلی۔ اس طرح حج ہاوز کی عمارت عازمین حج کی سہولت کے بجائے اقلیتی بہبود کے دفاتر کا مرکز بن چکی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT