Tuesday , September 25 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ حکومت انتخابی وعدوں کی بہر صورت تکمیل کرے گی : چندر شیکھر راؤ

تلنگانہ حکومت انتخابی وعدوں کی بہر صورت تکمیل کرے گی : چندر شیکھر راؤ

دسہرہ سے اسکیمات پر عمل آوری ، کئی اہم اعلانات کئے جائیں گے ، چیف منسٹر کی پریس کانفرنس

دسہرہ سے اسکیمات پر عمل آوری ، کئی اہم اعلانات کئے جائیں گے ، چیف منسٹر کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔/16ستمبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ ان کی حکومت عوام سے کئے گئے تمام وعدوں کی بہر صورت تکمیل کرے گی جن میں کسانوں کے قرضہ جات کی معافی، غریبوں کو وظائف اور مکانات کی فراہمی، حقیقی مستحق افراد کو راشن کارڈ کی اجرائی اور حیدرآباد کو سلم فری شہر بنانا شامل ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ دسہرہ سے حکومت کی اسکیمات پر عمل آوری کا آغاز ہوگا اور دیپاولی تک عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کے سلسلہ میں کئی اہم اعلانات کئے جائیں گے۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ ابھی تو ان کی حکومت نے کارکردگی کا آغاز نہیں کیا ہے بلکہ ریاست کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے مبسوط حکمت عملی کی تیاری میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر اور ٹی آر ایس کے طرز حکمرانی کا ابھی تک آغاز نہیں ہوا اور جس دن حکومت کی کارکردگی کا آغاز ہوگا اس کے آگے کوئی جماعت ٹک نہیں پائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی حکومت کیلئے 100دن کارکردگی کے مظاہرہ کیلئے کافی نہیں۔ ان کی حکومت نئی ریاست تلنگانہ کو ایک ترقی یافتہ ریاست میں تبدیل کرنے کیلئے مختلف شعبوں میں جامع مشاورت کے ذریعہ حکمت عملی تیار کررہی ہے اور بہت جلد ترقی سے متعلق حکومت کے منصوبے عوام کے روبرو پیش کئے جائیں گے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ چونکہ تلنگانہ ایک نئی ریاست ہے لہذا وہ انتہائی احتیاط کے ساتھ اس کی ترقی کا منصوبہ تیار کررہے ہیں تاکہ کوئی بھی کوتاہی نہ رہ جائے۔ 14برسوں کی طویل جدوجہد اور کئی قربانیوں کے بعد تلنگانہ ریاست حاصل ہوئی ہے لہذا اسے ترقی کی سمت گامزن کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ عوامی مسائل اور ریاست کی ترقی کیلئے درکار طریقہ کار کو سمجھنے کیلئے حکومت کو ابھی وقت لگے گا۔ حکومت نے ابھی تک کام کا آغاز نہیں کیا بلکہ ابھی صرف کارکردگی کا ایجنڈہ تیار کررہی ہے۔ انہوں نے کسانوں کے قرض کی معافی سے متعلق اسکیم کے بارے میں اپوزیشن کے اندیشوں کو مسترد کردیا اور کہا کہ حکومت اس سلسلہ میں حقیقی مستحق کسانوں کا پتہ چلانے کی کوشش کررہی ہے کیونکہ سروے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ قرض کے حصول کے سلسلہ میں بھی بعض بے قاعدگیاں ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر مستحق افراد کے راشن کارڈز حاصل کرتے ہوئے تمام اہل خاندانوں کو جاری کئے جائیں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی حکومت راشن کارڈ پر دیئے جارہے موجودہ فی خاندان 4کیلو چاول کی مقدار کو 30کیلو کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ غریبوں کو مکانات کی فراہمی کی اسکیم پر عمل آوری سے قبل سابقہ اسکیم میں دھاندلیوں کی تحقیقات کی جارہی ہے جس میں کئی بے قاعدگیوں کا پتہ چلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت کے ہر اقدام کو عوام کی مکمل تائید حاصل ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے اسمبلی اجلاس کی طلبی کے مطالبہ کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کے سی آر نے ریمارک کیا کہ اسمبلی اجلاس کب طلب کرنا ہے کیا حکومت واقف نہیں ہے؟ ۔انہوں نے بتایا کہ ریاست کی تنظیم جدید سے متعلق بل میں تلنگانہ کو اس بات کی گنجائش رکھی گئی ہے کہ وہ 2ڈسمبر تک کسی بھی وقت اسمبلی اجلاس طلب کرتے ہوئے بجٹ کو منظوری دے۔ انہوں نے بتایا کہ 19ستمبر کو فینانس کمیشن کے عہدیدار تلنگانہ حکومت سے مشاورت کیلئے آرہے ہیں اور حکومت کمیشن کے روبرو اپنی ترجیحات پیش کرے گی۔گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں ٹی آر ایس کی شاندار کامیابی کو یقینی قرار دیتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ حیدرآباد میں سڑکوں کی توسیع کا کام بڑے پیمانے پر جاری ہے۔ اس کے علاوہ حکومت حیدرآباد کو سلم فری شہر بنانے کا تہیہ کرچکی ہے۔ غیرقانونی تعمیرات کے انہدام سے متعلق حکومت کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف تعمیرات کو منہدم کرنا نہیں بلکہ انہیں باقاعدہ بنانا ہے۔ حکومت اسی لئے غیرقانونی تعمیرات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے پاس 4لاکھ مکانات کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔ انہوں نے کہاکہ شہر کے تمام غریب خاندانوں کو مکانات فراہم کئے جائیں گے اور سڑکوں اور فٹ پاتھ پر اب کسی کو زندگی بسر کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ایک سوال کے جواب میں چیف منسٹر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے تلنگانہ کی ترقی کیلئے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کے سی آر نے کہا کہ کے جی تا پی جی مفت تعلیم کی فراہمی کسی چیلنج سے کم نہیں اور اس سلسلہ میں حکومت منصوبہ سازی میں مصروف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ تین برسوں تک تلنگانہ میں برقی کی قلت کا مسئلہ برقرار رہے گا جبکہ تین برس بعد برقی کے شعبہ میں تلنگانہ خود مکتفی ہوجائے گا۔کے سی آر نے بتایا کہ کانگریس کے 10سالہ دور حکومت میں تمام محکمہ جات میں ماحول کو اس قدر خراب کردیا گیا کہ ان کا درست کرنا دشوار نظر آرہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جاریہ ماہ کے اختتام پر حیدرآباد کے لال بہادر اسٹیڈیم میں ٹی آر ایس کا پلینری سیشن منعقد ہوگا۔ کابینہ میں توسیع سے متعلق سوال پر کے سی آر نے کہا کہ یہ کوئی خاص بات نہیں ہے اور انہوں نے کسی تاریخ کے انکشاف سے گریز کیا۔

TOPPOPULARRECENT