Monday , December 18 2017
Home / مضامین / تلنگانہ حکومت بہترین لیکن مسلمانوں کے ساتھ معاندانہ رویہ

تلنگانہ حکومت بہترین لیکن مسلمانوں کے ساتھ معاندانہ رویہ

نور عالم صدیقی
ریاست تلنگانہ کی حکومت جہاں کچھ کام اچھے کررہی ہے تو وہیں کچھ کاموں کو وہ نظر انداز بھی کررہی ہے ۔ حکومت الکٹریسٹی ، واٹر ورکس کے کاموں کو بخوبی انجام دے رہی ہے ۔ پچھلی تمام حکومتیں ریاست میں بجلی کی پیداوار کی کمی پانی کی قلت کا بہانہ بنا کر لوڈ شیڈنگ کرتی تھی ۔ لیکن 18 ماہ قبل جب ٹی آر ایس ریاستی حکومت میں آئی تو لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ حل کردیا ۔ اس کے لئے وزیراعلی چندر شیکھر راؤ نے ہماری پڑوسی ریاست چھتیس گڑھ سے بجلی کی خریداری کا معاہدہ بھی کیا اور  BHEL کو بجلی پیداوار کے نئے پلانٹ قائم کرنے کا کانٹراکٹ بھی دیا ۔ یہ سب بیرونی کمپنیوں کو ہماری ریاست کی طرف راغب کرنے کے لئے کیا گیا لیکن پھر بھی عوام کو بھی راحت ملی اور بیرونی کمپنیوں کو ہماری ریاست میں اپنے پلانٹ قائم کرنے کی ترغیب بھی ملی جو ریاست کی ترقی کی ضامن کہی جاسکتی ہے۔
ریاست میں پانی کی کمی کو دور کرنے خاص کر شہر حیدرآباد میں پینے کے پانی کی کمی دور کرنے کے لئے حکومت گوداوری ندی کا پانی شہر میں قطب اللہ پور تک لاچکی ہے اور شہر کے مختلف مقامات پر کام تیزی سے جاری ہے ۔ حکومت کا کہنا ہے کہ 31 ڈسمبر تک سارے شہر میں پانی وافر مقدار میں فراہم کرنے کی مساعی کرکے پانی کی کمی کو دور کیا جائے گا ۔ اسی طرح آبپاشی پراجکٹس کے لئے بھی وافر پانی کی فراہمی کے لئے محبوب نگر میں واٹر گرڈ کے تحت کام شروع کیا جاچکا ہے ۔

ورنگل لوک سبھا نشست پر ٹی آر ایس کا امیدوار بھاری اکثریت سے کامیاب ہونے پر عوام میں یہ احساس دلایا جارہا ہے کہ ٹی آر ایس کے کارناموں سے عوام خوش ہیں جبکہ کانگریس اور بی جے پی امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوگئی ۔ جبکہ دوسری سیاسی جماعتوں اور عوام کی نظر چندر شیکھر راؤ اور انکی کابینہ کی دور اندیش حکمت عملی کی طرف کیوں نہیں جاتی ۔ جب کڈم سری ہری کو کابینہ میں ڈپٹی چیف منسٹر کے لئے لایا گیا تب سے ہی چندر شیکھر اور ان کی کابینہ ورنگل پر اپنی خاص مہربانیاں کرنے لگے تھے ۔ انہیں پتہ تھا کہ اس نشست پر چناؤ ضروری ہوگا ۔ اس لئے ورنگل شہر کو کاکتیہ حکمرانوں کی طرح ترقی دینے کا بار بار ذکر کرتے رہے اور وہاں کے عوام کو اپنے قابو میں کرنے میں کامیاب بھی رہے ۔ ہمارے شہر حیدرآباد میں فلاحی اسکیمات کے نام پر غریب عوام کے لئے دوپہر کے کھانے کے لئے تقریباً جگہوں پر صرف پانچ روپئے میں کھانا فراہم کیا جارہا ہے جو قابل ستائش اقدام ہے اس کے لئے حکومت کو مبارکباد پیش ہے لیکن اس اسکیم سے صرف لیبر طبقہ ہی استفادہ کرسکتا ہے ۔ متوسط طبقہ نہیں جبکہ ووٹر صرف اور صرف متوسط طبقہ ہی ہوتا ہے ۔ امیر ترین اشخاص کبھی ووٹ دینے مرکز رائے دہی کو آتے ہی نہیں اور لیبر طبقہ کے پاس ووٹر آئی ڈی کارڈ ہی نہیں ہوتا ۔ حکومت کی جانب سے اس طبقہ کے لئے کیا راحت کاری کام انجام دیا گیا ؟

شہر حیدرآباد میں میونسپل کارپوریشن کے الیکشن جنوری 2016 میں ہائی کورٹ کے حکم پر منعقد ہورہے ہیں یہاں ایک سو پچاس حلقوں کو وسعت دے کر دو سو حلقوں تک پہنچانے کی کوشش کی گئی لیکن وقت کی کمی کی وجہ یہ آرزو پوری نہ ہوسکی اور اب صرف 150حلقوں ہی پر بلندی الیکشن ہوگا ۔ ٹی آر ایس شہر پر اپنی حکومت قائم کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگانے پر کمربستہ ہے ۔ جبکہ شہر کے 24 اسمبلی حلقوں میں 15 حلقے بی جے پی ، تلگو دیشم کے قبضہ میں ہے اور 7 حلقوں پر مقامی مسلم جماعت قابض ہے ۔ ایسے میں ٹی آر ایس کیا حکمت عملی اختیار کرے گی یہ تو وقت ہی بتائے گا ۔ کیا حکومت شہری مسلمانوں کے لئے کوئی خوش کن بیان جاری کرے گی ، کیا پھر کوئی سنہرا خواب دکھایا جائے گا جو الیکشن کے بعد فراموش کردیا جاسکتا ہے ۔ اردو کو ریاست کی دوسری سرکاری زبان بنا کر بھی عرضہ دراز ہوچکا ہے ۔ لیکن کہیں بھی اس پر عمل درآمد نہیں ہورہا ہے ۔ کسی بھی محکمہ میں راردو جاننے والوں کو تقرر نہیں کیا گیا اور نہ ہی اردو میں کام کاج ہورہا ہے ۔ اردو کو بھی دوسری زبانوں انگریزی  ، تلگو کی طرح لازمی زبان کے طورپر اسکولوں میں پڑھانے کا رواج قائم کیا جانا چاہئے ۔ جس سے اردو کی ترقی بھی ممکن ہوسکے ۔ اگر اس پر عمل نہیں کرسکتے تو پھر ایسا کیوں ؟ کیا مسلم تنظیمیں جو مسلمانوں سے ہمدردی بٹورنے کے لئے طرح طرح کے بیان بازیوں میں پیش پیش رہتے ہیں ۔ مسلم قائدین ووٹ حاصل کرنے کے لئے طرح طرح سے مسلمانوں کا استحصال کرتے ہیں کیا وہ حکومت وقت سے اس جانب توجہ مبذول نہیں کرواسکتے ؟ نہیں تو ایسا کیوں ؟

اب آیئے چندر شیکھر راؤ کے اس انداز پر بھی کچھ گفتگو ہوجائے جو وہ مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے ہیں ۔ انہوں نے الیکشن سے قبل مسلم کو 12% تحفظات کا وعدہ کئے تھے جس کا فی الحال ابھی تک کہیں نام و نشان نہیں ۔ اس 12% تحفظات کے لئے اخبار سیاست کے چیف ایڈیٹر زاہد علی خان صاحب اور نیوز ایڈیٹر عامر علی خان صاحب کی جانب سے تحریک شروع ہوچکی ہے ۔جو ضلعی سطحوں پر بھی پہنچ چکی ہے ۔ اسکا روز بروز عروج دیکھا جارہا ہے ۔ تو دوسری جانب کے سی آر اور ان کی کابینہ کی طرف سے مسلمانوں کو خوش کرنے کے لئے 12% تحفظات فراہم کرنے کا تیقن دیا جارہا ہے لیکن کب؟ کیا ریاست کے تمام محکمہ جات میں جہاں نئی بھرتیوں کے لئے مخلوعہ جائیدادوں پر امتحانات منعقد کئے جارہے ہیں سرویس کمیشن کی جانب سے یہ تمام جائیدادیں پُر ہونے پر 12% ریزرویشن کے لئے آرڈیننس پاس کیا جائے گا ؟ ایک لاکھ سے زائد جائیدادیں ہیں پولیس میں بھرتی ہورہی ہے ۔ واٹر ورکس اینڈ سوریج بورڈ میں بھرتی کے لئے امتحان منعقد ہوچکا ۔ تیقن دینا یا آرڈیننس پاس کرنا نئی بات نہیں ہے بلکہ 12% تحفظات پر قانون بنانا چاہئے ۔ مسلم قائدین مسلم تنظیمیں ، علماء ، دانشوران کو اس سلسلہ میں آگے آنا چاہئے اور راست وزیراعلی چندر شیکھر راؤ کے ساتھ گول میز کانفرنس کی طرز پر کانفرنس منعقد کی جانی چاہئے اور اپنے مطالبات کو منوانے کی سعی کرنی چاہئے۔ یقیناً ایسا کرسکتے ہیں اگر نہیں تو ایسا کیوں ؟
فی الحال 4% تحفظات ہیں کیا اس پر موثر طریقہ سے عمل ہورہا ہے ؟ اسکی جانکاری کرنی چاہئے ۔ نہ صرف پڑھائی نہیں بلکہ ہر شعبہ حیات میں مسلمانوں کو تحفظات ملنا چاہئے ۔ وظائف میں سرکاری گھروں و زمینات کے الاٹمنٹ میں ، غرض ہر سرکاری اسکیم میں مسلمانوں کو تحفظات سے استفادہ کرنے کے لئے ہماری قوم میں شعوری بیداری بھی پیدا کیا جانا چاہئے ۔ ہماری ریاستی حکومت میں صرف ایک مسلمان ڈپٹی چیف منسٹر صاحب محمد محمود علی صاحب ہیں کوئی دوسرا مسلم منسٹر نہیں ایسا کیوں ؟

مائنارٹی کارپوریشن سے شادی مبارک اسکیم سے کتنے لوگ استفادہ کررہے ہیں راست فائدہ اٹھارہے ہیں یا ایجنٹ حضرات چاندی بنارہے ہیں ۔ اور سینئر اسکالر شپ سے کتنے غریب طلباء بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے لئے اس فنڈ سے فائدہ حاصل کئے ۔ اس کا جائزہ بھی لینا ضروری ہے کیونکہ حال ہی میں پتہ چلا کہ حکومت کی جانب سے کارپوریشن کو جو فنڈ مختص کیا گیا تھا اسکا خاطر خواہ استعمال نہیں ہوا اور وہ حکومت کو واپس کردیا گیا  ۔ ایسا کیوں ؟ کلیان لکشمی اسکیم کے تحت ایس سی ، ایس ٹی کی 46 ہزار لڑکیوں کی شادی میں رقم دی گئی جبکہ مسلمانوں کے لئے شادی مبارک اسکیم کے تحت صرف 3 ہزار لڑکیوں کو رقم ادا کی گئی ۔

TOPPOPULARRECENT