Wednesday , December 19 2018

تلنگانہ حکومت سے سماج کا ہر طبقہ ناراض: کشن ریڈی

حکومت کے مخالف جمہوریت اقدامات، مخالفین کی آواز کچلنے کا الزام
حیدرآباد ۔ 14 ۔مارچ (سیاست نیوز) بی جے پی فلور لیڈر جی کشن ریڈی نے ٹی آر ایس حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ جمہوریت کے برخلاف اقدامات کر رہی ہے۔ سماج کا کوئی بھی طبقہ حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بنگارو تلنگانہ کا نعرہ لگایا گیا لیکن اس کا مطلب عوام کی ترقی نہیں بلکہ ٹی آر ایس کو سیاسی طور پر مستحکم کرنا تھا ۔ انہوں نے سوال کیا کہ دیگر پارٹیوں سے ارکان اسمبلی کا انحراف ، عوام اور عوامی تنظیموں کو دھرنے کی اجازت نہ دینا ، دھرنا چوک کی برخواستگی اور حکومت کے خلاف اٹھنے والی آوازوںکو کچلنا کیا یہی سنہرا تلنگانہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ اخبارات ، ٹی وی چیانلس ، قلمکاروں اور جہد کاروں پر بھی پابندیاں عائد کی جارہی ہیں۔ گورنر کے خطبہ پر تحریک تشکر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے کشن ریڈی نے حکومت پر وعدوں سے انحراف اور اپوزیشن کو کچلنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف چیف منسٹر کے حالیہ ریمارک کا حوالہ دیئے بغیر کہا کہ حکومت جس انداز میں اپنی زبان کا استعمال کر رہی ہے، وہ مناسب نہیں ہے۔ تنقید کیلئے بھی حدود مقرر ہے لیکن ٹی آر ایس حکومت نے حدود سے تجاوز کرتے ہوئے قابل اعتراض زبان استعمال کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو نکتہ چینی کا حق حاصل ہے لیکن جس زبان کا استعمال کیا گیا عوام اسے پسند نہیں کریں گے۔

تلنگانہ میں ایمرجنسی جیسی صورتحال ہے۔ حکومت کے مخالفین پر جھوٹے مقدمات عائد کئے جارہے ہیں۔ عوامی مسائل پر احتجاج کرنے والوں کو گھروں پر محروس کیا جارہا ہے ۔ کشن ریڈی نے ایم آر پی ایس کے قائد مندا کرشنا مادیگا کی گرفتاری پر تنقید کی ۔ انہوں نے کانگریس ارکان کی برطرفی اور معطلی کو عجلت میں لیا گیا فیصلہ قرار دیا اور کہا کہ ویڈیو ٹیپ اپوزیشن کو دکھانے کے بعد اس طرح کا فیصلہ کیا جانا تھا ۔ اس مرحلہ پر ڈپٹی چیف منسٹر کے سری ہری نے مداخلت کی اور کہا کہ نریندر مودی کی حکومت میں دلتوں اور اقلیتوں پر مظالم ہورہے ہیں۔ گریٹر حیدرآباد انتخابات میں عوام نے بی جے پی کو مسترد کردیا ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کشن ریڈی مرکزی حکومت کی کارکردگی پر تبصرہ کر رہے ہیں۔ کڈیم سری ہری کی مداخلت پر بی جے پی ارکان برہم ہوگئے اور ایک مرحلہ پر کشن ریڈی ایوان سے بائیکاٹ کی تیاری کرنے لگے۔ تاہم اسپیکر نے انہیں روک دیا ۔ کشن ریڈی نے کہا کہ مودی حکومت میں تمام طبقات محفوظ ہیں، ملک کے کسی بھی حصے میں فسادات نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اترپردیش میں مسلم آبادی والے علاقوں میں بی جے پی کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں کسان اپنے حق کیلئے احتجاج کرنے لگے تو انہیں ہتھکڑی لگائی گئی۔ انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا سہارا لے رہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے کئی اسکیمات کا اعلان کیا تھا لیکن عمل آوری صفر ہے۔ متحدہ آندھراپردیش میں 16 چیف منسٹر گزرے اور ریاست کا مجموعی قرض 23000 کروڑ تھا جبکہ تلنگانہ کے 4 برسوں میں مجموعی قرض 2 لاکھ کروڑ تک پہنچ چکا ہے ۔ کشن ریڈی نے کہا کہ طلبہ اور بیروزگار نوجوانوں نے ملازمتوں کیلئے احتجاج کیا تو انہیں جیل بھیج دیا گیا۔ یونیورسٹیز میں 60 فیصد جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ گزشتہ 4 برسوں میں ٹی آر ایس حکومت نے ایک بھی پروفیسر ، لکچرر اور ٹیچر کا تقرر نہیں کیا۔ کشن ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ میں ریت ، لینڈ ، شراب اور ڈرگ مافیا بے قابو ہوچکے ہیں۔ تلگو دیشم کے آر کرشنیا اور سی پی ایم کے ایس راجیا نے بھی مباحث میں حصہ لیا۔

TOPPOPULARRECENT