Monday , June 18 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ حکومت شعبہ صحت میں بہتری کیلئے سنجیدہ

تلنگانہ حکومت شعبہ صحت میں بہتری کیلئے سنجیدہ

عثمانیہ ، گاندھی اور نیلوفر ہاسپٹل کو ترقی دینے بجٹ میں خطیر رقم مختص، اسمبلی میں ڈپٹی چیف منسٹر کا بیان

عثمانیہ ، گاندھی اور نیلوفر ہاسپٹل کو ترقی دینے بجٹ میں خطیر رقم مختص، اسمبلی میں ڈپٹی چیف منسٹر کا بیان
حیدرآباد ۔ 25 نومبر ۔ ( سیاست نیوز ) حکومت تلنگانہ شعبۂ صحت میں بہتری کے لئے سنجیدہ ہے اور حکومت سرکاری دواخانوں کے حالت زار کو بہتر بنانے کیلئے 552 کروڑ کا بجٹ مختص کرچکی ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر صحت مسٹر ٹی راجیا نے آج ایوان اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران اُٹھائے گئے سوالات کے جواب دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے ہر ضلع ہیڈکوارٹر ہاسپٹل کو سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹل میں تبدیل کرنے کیلئے 10 کروڑ روپئے مختص کئے گئے تھے جبکہ عثمانیہ ہاسپٹل کیلئے 100 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں ۔ اسی طرح گاندھی ہاسپٹل کیلئے بھی 100کروڑ روپئے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے ۔ نیلوفر ہاسپٹل کو 30 کروڑ روپئے جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ پیٹلہ برج اور سلطان بازار میں واقع زچگی خانوں کو 25 ، 25 کروڑ روپئے جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اسی طرح کینسر ہاسپٹل کیلئے 25 کروڑ روپئے کی تخصیص عمل میں لائی گئی ہے ۔ حکومت تلنگانہ نے ای این ٹی ، چیسٹ اور مینٹل ہاسپٹل کیلئے علی الترتیب 10 کروڑ روپئے مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ مسٹر ٹی راجیا نے تلگودیشم رکن اسمبلی مسٹر پرکاش گوڑ اور ایس راجیندر ریڈی کی جانب سے اُٹھائے گئے سوالات کا جواب دے رہے تھے۔ مسٹر اکبرالدین اویسی نے درمیان میں ذیلی سوال اُٹھاتے ہوئے عثمانیہ ہاسپٹل کی ناگفتہ بہ حالت کا تذکرہ کیا۔ہاسپٹل میں موجود مشنری کی عدم کارکردگی سے ایوان کو واقف کروایا اور ذیلی سوالات کے دوران انھوں نے وزیر صحت کی جانب سے دیئے گئے تحریری جواب پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وزیر صحت ایوان کو گمراہ کررہے ہیں۔ انھوں نے وزیر صحت سے مطالبہ کیا کہ وہ حالات پر راست جواب دیں ، سیاسی تقاریر نہ کریں۔ ڈاکٹر کے لکشمن رکن اسمبلی بھارتیہ جنتا پارٹی نے اسی دوران ذیلی سوالات اٹھاتے ہوئے ڈاکٹرس کی قلت کے مسئلہ کو پیش کیا اور بتایا کہ برسہا برس سے عثمانیہ دواخانہ کو رنگ و روغن تک نہیں ہوا ہے ۔ انھوں نے ایوان کو درکار ڈاکٹرس کی تعداد اور موجودہ حالت سے واقف کروایا ۔ ڈاکٹر ٹی راجیا نے ارکان اسمبلی کی جانب سے اُٹھائے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ بجٹ میں شعبۂ صحت کو حکومت تلنگانہ نے کافی اہمیت دی ہے اور نمس ہاسپٹل کیلئے 200 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ خود پیشۂ طب سے وابستہ ہیں اور انھیں اس بات کا اندازہ ہے کہ سرکاری دواخانوں میں مریضوں کو کن مشکلات سے دوچار ہونا پڑر ہا ہے ۔ ڈاکٹر ٹی راجیا نے بتایا کہ متحدہ ریاست آندھراپردیش میں تلنگانہ میں شعبۂ طب کے ساتھ ہوئی ناانصافیوں کا ازالہ کیا جائے گا۔ انھوں نے بتایا کہ وزارت صحت کا جائزہ لینے کے فوری بعد انھوں نے گاندھی ہاسپٹل کا دورہ کرتے ہوئے تکالیف و سہولتوں کے متعلق تفصیلات سے آگہی حاصل کی اور گزشتہ پانچ ماہ کے دوران انھوں نے تین مرتبہ عثمانیہ دواخانہ کا دورہ کیاہے ۔ انھوں نے مزیدبتایا کہ ورنگل کے دواخانہ میں انھوں نے شب بسری کرتے ہوئے حالات سے آگہی حاصل کی ۔ وزیر صحت نے کہا کہ ریاستی حکومت سرکاری دواخانوں کو کارپوریٹ طرز پر ترقی دینے کا منصوبہ تیار کئے ہوئے ہے۔ اسی طرح ریاست کی تقسیم کے بعد بنیادی سہولتوں کی عدم موجودگی اور دیگر وجوہات کی بناء پر تلنگانہ کی 200 نشستیں میڈیکل کونسل آف انڈیا کی جانب سے منسوخ کردی گئی تھی لیکن حکومت نے درکار سہولتوں کی فراہمی کے ذریعہ میڈیکل کی ان 200 نشستوں کو حاصل کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا ہے کہ حکومت شعبۂ صحت کے تعلق سے سنجیدہ ہے۔ ڈاکٹر ٹی راجیا نے شعبۂ صحت میں اسٹاف کی کمی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی تقسیم کے بعد تلنگانہ میں طبی عملہ کی کمی محسوس کی جارہی ہے ۔ تقسیم کا عمل مکمل ہونے کے بعد ہی یہ بات واضح ہوسکتی ہے کہ کتنا عملہ تلنگانہ شعبہ صحت کو درکار ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ فی الحال پروفیسر کی 57 ، اسوسی ایٹ پروفیسر کی 62 ، اسسٹنٹ پروفیسر کی 50 ، سیول اسسٹنٹ سرجن کی 48 ، ہیڈ نرسیس کی 29، اسٹاف نرسیس کی 114 جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ ریاست کے تقسیم کے عمل کی تکمیل کے بعد شعبۂ صحت میں تقررات یقینی بنائے جائیں گے ۔

TOPPOPULARRECENT