Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ حکومت پر مودی حکومت کی حمایت کرنے کا الزام

تلنگانہ حکومت پر مودی حکومت کی حمایت کرنے کا الزام

مرکز کے طریقہ کار پر ٹی آر ایس بھی عمل پیرا ، راجیہ سبھا ایم پی برندا کرت کا بیان
حیدرآباد ۔19مئی (سیاست نیوز) کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ( مارکسٹ) کی پولیٹ بیورو رکن اور ایم پی راجیہ سبھا برندا کرت نے تلنگانہ حکومت پر مرکزی کی مودی حکومت کی حمایتی ہونے کا الزام عائد کیا اور کہاکہ حکمرانی کا جو طریقہ کار مرکز میں بی جے پی حکومت نے اختیار کیاہے اسی طریقہ کار پر تلنگانہ حکومت بھی کام کر رہی ہے ۔ انہوں نے مرچ کسانوں کے ساتھ بدسلوکی اور منریگا کے 36 فیصد مزدور کو آدھار کارڈ کی عدم تصدیق کی بنیاد پر تنخواہوں سے محروم کردینے کے فیصلے کی سختی کے ساتھ مذمت کی اور کہاکہ اس سنگین مسئلے میںمرکزی حکومت کے فیصلے پر تلنگانہ حکومت کی خاموشی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ تلنگانہ حکومت مرکزکے فیصلوں کی طرف داری کر رہی ہے ۔ وہ آج یہاں تلنگانہ ورکنگ جرنلسٹ فیڈریشن اور حیدرآباد یونین آف ورکنگ جرنلسٹ کے زیر اہتمام منعقدہ صحافت سے ملاقات پروگرام سے مخاطب تھے۔ انہوں نے تلنگانہ حکومت کو مورد الزام ٹھراتے ہوئے کہاکہ آدھار کارڈ کی اجرائی میں 98 فیصد کام کی تکمیل کا حکومت نے دعویٰ کیا تھا مگر جو رپورٹس منظر عام پر آرہی ہیں اس کے مطابق عادل آباد اور ونپرتی جیسے اضلاعوں میںادھار کارڈ کا کام پچاس فیصد بھی مکمل نہیںہوا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر آدھار کارڈ کی بنیاد پر محنت کش طبقے کے ساتھ اسی طرح کی ناانصافی کی جاتی رہی تو عادل آباد اور ضلع ونپرتی کا مزدور پیشہ طبقے کی پریشانیوں میں یقینی طور پر اضافہ ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت تلنگانہ کو اس ضمن میں سنجیدگی کے ساتھ نوٹ لینے کی ضرورت ہے اور اگر وہ محنت طبقے کی حمایتی ہے تو لال مرچ کسانوں کے ساتھ انصاف کے بشمول منریگا کے ان 36 فیصد مزدوروں کو تنخواہیں فراہم کرے گی جو آدھارکارڈ کی بنیاد پر اپنی محنت کی کمائی سے محروم ہوگئے ہیں ۔ انہوں نے ائی ایس کے نام پر تلنگانہ پولیس کی فرضی ویب سائیڈ کے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں برندا کرت نے کہاکہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ( مارکسٹ) کسی بھی صورت میں دہشت گردی اور مذہب کے نام پر نوجوانوں کو ورغلانے کی حمایت نہیںکرتی‘ مگر دہشت گردی کے نام پر فرضی ویب سائیڈ کے ذریعہ مسلم نوجوانوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کا انکشاف بھی قابلِ مذمت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں بھی ایسے کئی ایک واقعات پیش ائے ہیں جس میں بے قصور مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرکے انہیں جیلوں میں بند کردیا گیا اور دس پندرہ سال مقدمات چلائے گئے اور بلآخر انہیں باعزت بری کر دیا گیا ۔ انہوں نے کہاکہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام ضروری ہے ۔ برندا کرت نے قومی سطح پر گائے کے نام پر جاری تشدد اور مذہب کی بنیاد پر دلتوں اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے بڑھتے واقعات کی بھی شدید مذمت کی ۔ انہوں نے اس موقع پر حالیہ عرصہ میں راجستھان کے اندر پیہلو خان کا قتل اور سہارنپور میںدلتوں کو کے پچاس سے زائد مکانات کو نذر آتش کردینے کے واقعات کا بھی تذکرہ کیا ۔ برندا کرت نے کہاکہ سہارنپور میں دلتوں کو صرف اتنا قصور تھا کہ انہوں نے روی داس مندر کے سامنے بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کا مجسمہ نصب کیا تھا جو دلتوں پر ظلم کا سبب بنا ۔ انہوں نے کہا کہ دلتوں کے پچاس سے زائد مکانات نذر آتش کردئے گئے مگر آج تک ان سے ملاقات کیلئے نہ تو ریاست اترپردیش کا کوئی لیڈر پہنچا اور نہ ہی مرکز میں برسر اقتدار سیاسی جماعت کو کوئی وزیر انہیںدلاسہ دینے کے لئے مقام واقعہ پر پہنچنے کی زحمت کی ہے۔ انہوں نے اقتدار میں آنے سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی کے ہندوستان کے نوجوانوںکو دو کروڑ ملازمتیں فراہم کرنے کے وعدہ یاد دلاتے ہوئے کہاکہ جس طرح پچھلے تین سالوں میں مودی حکومت نے اپنے وعدوں کی تکمیل کو عملی جامعہ پہنانے کے طریقے کا ر کو اپنایا ہے اس سے آنے والے 70سالوں میں بھی دوکروڑ ملازمتیں نوجوانوں کو فراہم نہیں کی جاسکیں گی ۔ انہوں نے کہاکہ ان تین سالوں میں یہ ثابت ہوگیا ہے کہ مرکز کی مودی حکومت صرف جملوں اور اعلانات کرنے والی حکومت ہے ۔ انہوں نے صدراتی انتخابات کے متعلق کہا کہ سی پی آئی ایم چاہتی ہے کہ مرکزی حکومت تمام سیاسی جماعتوں کی اتفاق رائے کے ذریعہ صدراتی امیدوار کا تعین کرے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر اس کے برخلاف مودی حکومت اس ضمن میں الیکشن کا ارادہ رکھتی ہے تو تمام اپوزیشن اس کیلئے بھی تیار ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT