Thursday , June 21 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ حکومت کا اندرون 7 ماہ 20 ہزار کروڑ کا خرچ

تلنگانہ حکومت کا اندرون 7 ماہ 20 ہزار کروڑ کا خرچ

آئندہ تین ماہ میں 80 ہزار کروڑ کس طرح خرچ کیا جائیگا : محمد علی شبیر کا استفسار

آئندہ تین ماہ میں 80 ہزار کروڑ کس طرح خرچ کیا جائیگا : محمد علی شبیر کا استفسار
حیدرآباد ۔ 27 ڈسمبر (سیاست نیوز) کانگریس کے ڈپٹی فلور لیڈر مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ 7 ماہ میں تلنگانہ حکومت نے صرف 20 ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے ہیں۔ ماباقی 3 ماہ میں 80 ہزار کروڑ روپئے کیسے خرچ ہوںگے چیف منسٹر تلنگانہ سے استفسار کیا۔ فلاحی اسکیمات کو نظرانداز کرتے ہوئے سماج کے تمام طبقات کے ساتھ ناانصافی کرنے کا الزام عائد کیا۔ آج اسمبلی کے میڈیا پوائنٹ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ تلنگانہ کی ٹی آر ایس حکومت نے 10 ماہ کیلئے ایک لاکھ کروڑ روپئے کی منظوری دی ہے اور 7 ماہ میں صرف 21,728 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے، حکومت کے پاس مالیاتی سال کے اختتام کیلئے صرف 3 ماہ باقی رہ گئے ہیں ان تین ماہ میں 80 ہزار کروڑ روپئے کیسے خرچ کئے جائیں گے چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندرشیکھر راؤ اس کی وضاحت کریں یا ریاستی وزیرفینانس مسٹر ایٹالہ راجندر اس مسئلہ پر وائیٹ پیپر یا کوئی نوٹ جاری کریں۔ کونسل اور اسمبلی میں کانگریس نے اپوزیشن کا تعمیری رول ادا کرتے ہوئے ایک لاکھ کروڑ روپئے خرچ کرنے کے تعلق سے حکومت سے وضاحت طلب کی تھی۔ تب حکومت نے منظورہ بجٹ مکمل خرچ کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے بجٹ کی منظوری میں تعاون کرنے کی اپوزیشن سے اپیل کی تھی۔ تاہم حکومت اپنے وعدے کو عملی جامہ پہنانے میں پوری طرح ناکام ہوگئی ہے۔ بجٹ میں بی سی طبقات کیلئے 2022 کروڑ روپئے منظور ہوئے مگر صرف 473 کروڑ روپئے جاری کئے گئے۔ 1030 کروڑ روپئے کا اقلیتی بجٹ منظور کیا گیا مگر ابھی تک صرف 174.84 کروڑ روپئے ہی جاری کئے گئے۔ ایس سی طبقہ کے سب پلان کیلئے 7579.45 کروڑ روپئے منظور ہوئے تاہم 590.34 کروڑ ایس ٹی طبقہ سب پلان کے تحت 4559.81 کروڑ روپئے منظور ہوئے لیکن 293.23 کروڑ روپئے جاری کئے گئے۔ منظورہ بجٹ کی عدم اجرائی سے سماج کے تمام طبقات کی فلاحی اسکیمات تعطل کا شکار ہوگئی ہیں۔ طلبہ فیس ری ایمبرسمنٹ اور اسکالرشپس سے محروم ہورہے ہیں۔ فلاحی اسکیمات تعطل کا شکار ہوگئی ہیں۔ طلبہ فیس ری ایمبرسمنٹ اور اسکالر شپس سے محروم ہورہے ہیں۔ فلاحی اسکیمات پر عمل آوری ٹھپ ہوکر رہ گئی ہے۔ کانگریس کے ڈپٹی فلورلیڈر نے کہا کہ تلنگانہ کے 459 منڈلوں کے منجملہ 332 منڈل ناکافی بارش کے باعث خشک سالی کا شکار ہوگئے ہیں۔ حکومت ان منڈلوں کو خشک سالی سے متاثر منڈل قرار دیتے ہوئے کسانوں کو راحت فراہم کرنے کیلئے عملی اقدامات کا آغاز کرے۔

TOPPOPULARRECENT