Monday , September 24 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ حکومت کا خزانہ خالی ، یونیورسٹیز کے ملازمین تنخواہوں سے محروم

تلنگانہ حکومت کا خزانہ خالی ، یونیورسٹیز کے ملازمین تنخواہوں سے محروم

عثمانیہ یونیورسٹی کو بند کرنے کا اعلان ، ملازمین کے احتجاج و دھرنا سے کام کاج ٹھپ
حیدرآباد۔8فروری(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کا خزانہ خالی ہو چکا ہے!ریاستی حکومت کی جانب سے ریاست میں چلائی جانے والی 11یونیورسٹیز کے ملازمین کی جاریہ ماہ کی تنخواہیں جاری نہیں کی گئی جس کے سبب ٓاج جامعہ عثمانیہ میں ملازمین کام کاج ٹھپ کردیا اور یونیورسٹی بند کا اعلان کرتے ہوئے کیمپس میں احتجاجی ریالی و دھرنا منظم کیا۔ریاستی حکومت کی جانب سے چوتھے سہ ماہی کابجٹ کسی بھی یونیورسٹی کو جاری نہیں کیا گیا جس کے سبب جامعہ عثمانیہ میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کو تنخواہیں جاری نہیں کی جا سکیں جبکہ مہینہ کا آغاز ہوئے 8 یوم گذر چکے ہیں۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے یونیورسٹی کے امور کیلئے منظور کردہ بجٹ کی عدم اجرائی کے سبب تنخواہوں کی اجرائی میں تاخیر ہوئی ہے ۔ جامعہ عثمانیہ کے علاوہ کاکتیہ یونیورسٹی اور دیگر جامعات کے بھی بیشتر ملازمین کی تنخواہوں کی اجرائی مسائل کا شکار بنی ہوئی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت کی جا نب سے بجٹ کی عدم اجرائی کے باوجود بعض ملازمین کو ان کی ضروریات کے مطابق داخلی ذرائع سے انتظام کرتے ہوئے تنخواہ جاری کی گئی ہیں لیکن عثمانیہ یونیورسٹی میں تدریسی ‘ غیر تدریسی ‘ انتظامی عملہ یا کنٹراکٹ کے اساس پر خدمات انجام دینے والے عملہ یا کسی کو بھی تنخواہوں کی اجرائی ممکن نہیں بنائی جا سکی ۔ بتایاجاتاہے کہ حکومت کی جانب سے چوتھے سہ ماہی کے سلسلہ میں بجٹ کی عدم اجرائی اور تاخیر کے باعث یونیورسٹی انتظامیہ بھی تنخواہوں کی اجرائی سے قاصر ہے اسی لئے تنخواہوں کی اجرائی عمل میں نہیں لائی جا سکی ۔ عثمانیہ یونیورسٹی ملازمین گذشتہ تین یوم سے تنخواہوں کی اجرائی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ نے اب تک تنخواہوں کی اجرائی کے اقدامات نہیں کئے۔ محکمہ اعلی تعلیمات کے ذرائع نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے منظورہ بلس کی یکسوئی کے بعد احکام کی اجرائی عمل میں لائے جانے کے اقدامات کئے جا چکے ہیں لیکن کوئی بھی عہدیدار تنخواہوں کی اجرائی میں ہونے والی تاخیر کے متعلق جواب دینے کیلئے تیار نہیں ہے کیونکہ ملازمین نے الزام عائد کیا ہے کہ تنخواہوں کی عدم اجرائی کے سبب انہیں کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور بیشتر ملازمین جو کہ اقساط پر اشیاء خرید رکھیں ہیں ان کے چیک باؤنس ہونے کے سبب انہیں CIBIL نشانات میں گراوٹ کامسئلہ پیدا ہونے کا خدشہ ہوچکا ہے ۔ ریاست کی 11جامعات کے ملازمین میں 70فیصد سے زائد ملازمین کی تنخواہوں کی اجرائی اب تک بھی تعطل کا شکار بنی ہوئی ہے ۔ وائس چانسلر جامعہ عثمانیہ نے آج احتجاجی ملازمین کو تیقن دیا ہے کہ وہ بجٹ کی اجرائی ہو یا نہ ہو داخلی ذرائع سے تمام ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کو ممکن بنانے کے اقدامات کریں گے۔ جامعہ عثمانیہ ملازمین کی تنظیموں کے قائدین نے بتایا کہ اگر 9فروری کو تنخواہوں کی اجرائی کے سلسلہ میں اقدامات کو یقینی نہیں بنایاجاتااور فوری طور پر تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی جاتی ہے تو تنخواہوں کی اجرائی تک کام کاج بند کرتے ہوئے احتجاج میں شدت پیدا کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT