Tuesday , January 23 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ حکومت کا پہلا بجٹ عوامی خواہشات اور سنہری تلنگانہ کی تشکیل میں پیشرفت ثابت ہوگا

تلنگانہ حکومت کا پہلا بجٹ عوامی خواہشات اور سنہری تلنگانہ کی تشکیل میں پیشرفت ثابت ہوگا

زراعت ، آبپاشی ، برقی اور سڑکوں کی تعمیر پر اولین ترجیح ، اقلیتی فلاح و بہبود کے لیے بھی خصوصی بجٹ ، وزیر فینانس ایٹالہ راجندر کا ادعا

زراعت ، آبپاشی ، برقی اور سڑکوں کی تعمیر پر اولین ترجیح ، اقلیتی فلاح و بہبود کے لیے بھی خصوصی بجٹ ، وزیر فینانس ایٹالہ راجندر کا ادعا
حیدرآباد۔3۔نومبر (سیاست نیوز) وزیر فینانس ای راجندر نے کہا کہ تلنگانہ حکومت کا پہلا بجٹ عوامی بجٹ ہوگا جس میں تلنگانہ عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق سنہرے تلنگانہ کی تشکیل کے لئے پیش قدمی کی جائے گی۔ 5 نومبر سے شروع ہونے والے بجٹ اجلاس میں ای راجندر تلنگانہ حکومت کا پہلا بجٹ پیش کریں گے۔ راجندر نے کہا کہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ 14 برسوں تک جس اسمبلی میں وہ اپوزیشن رہ کر علحدہ ریاست کے لئے جدوجہد کرتے رہے اور سیما آندھرا چیف منسٹرس کی جانب سے توہین کا سامنا کیا، آج اسی اسمبلی میں وزیر فینانس کی حیثیت سے بجٹ پیش کرنے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ 2014-15 ء میں فلاحی اور بہبودی اسکیمات پر زائد رقم مختص کی جائے گی ۔ اس کے علاوہ زرعی شعبہ آبپاشی ، برقی ، سڑکوں کی تعمیر اور حکومت کے وعدوں کی تکمیل کو بجٹ میں اولین ترجیح دی جائے گی۔ ای راجندر نے فلاحی اور بہبودی اسکیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے بجٹ میں ایک ہزار کروڑ روپئے مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت اس بات کی کوشش کرے گی کہ اقلیتوں کی بہبود کیلئے مختص کردہ بجٹ مکمل طور پر خرچ ہو۔ راجندر نے کہا کہ غریب اقلیتی لڑکیوں کی شادی کے موقع پر امداد سے متعلق منفرد اسکیم شادی مبارک کا اعلان کیا گیا ہے۔ بجٹ میں اس اسکیم کیلئے بھی مناسب رقم مختص کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ کلیان لکشمی اور شادی مبارک جیسی اسکیمات کے آغاز کا مقصد اقلیتوں اور درج فہرست اقوام سے تعلق رکھنے والے غریبوں ، لڑکیوں کی شادیوں کو آسان بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی ، ایس ٹی طبقات کیلئے علحدہ سب پلان کے مطابق بجٹ مختص کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ غریبوں کی فلاح و بہبود سے متعلق وعدہ کے تحت حکومت نے بیواؤں اور معذورین کے وظائف کی رقم میں اضافہ کرتے ہوئے ماہانہ ایک ہزار روپئے کردیا ہے۔ تلنگانہ حکومت صرف وعدے نہیں بلکہ اس پر عمل کر دکھائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ آندھرائی حکمرانوں نے 60 برسوں تک تلنگانہ کے ساتھ جن شعبوں میں ناانصافی کی ہے، ٹی آر ایس حکومت ان کی ترقی پر توجہ مبذول کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت کا پہلا بجٹ تلنگانہ کے 4 کروڑ عوام کی توقعات کے عین مطابق ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو تنقید کا کوئی موقع نہیں ملے گا کیونکہ حکومت نے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ بجٹ تیار کیا ہے ۔ بجٹ کی تیاری کے سلسلہ میں اعلیٰ عہدیداروں پر مشتمل ٹاسک فورس کمیٹیاں تشکیل دی گئی تھیں، جن کی بنیاد پر پریکٹیکل اور قابل عمل بجٹ تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اسمبلی میں سابق چیف منسٹر کرن کمار ریڈی نے ٹی آر ایس ارکان کی توہین کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ تلنگانہ کو ایک روپیہ بھی منظور نہیں کریں گے۔ آج اسی اسمبلی میں ٹی آر ایس برسر اقتدار جماعت کی حیثیت سے موجود ہے۔ وزیر فینانس نے بتایا کہ کسانوں کے قرض کی معافی اور زرعی شعبہ کو مناسب برقی کی سربراہی کے ذریعہ فصلوں کے تحفظ کے وعدہ پر بہر صورت عمل کیا جائے گا۔ گزشتہ 57 برسوں میں متحدہ آندھراپردیش میں حکمرانوں نے ہر شعبہ میں تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔ ان تمام شعبوں کی ترقی ٹی آر ایس حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے آل انڈیا سرویسس کے عہدیداروں کے الاٹمنٹ کا عمل جلد مکمل ہونے کی صورت میں نظم و نسق کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

TOPPOPULARRECENT