Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ حکومت کی ملک بھر میں ستائش ، ریکارڈ عوامی تائید

تلنگانہ حکومت کی ملک بھر میں ستائش ، ریکارڈ عوامی تائید

مرکز سے 90 ہزار کروڑ روپئے کی فراہمی کا دعویٰ مسترد ، امیت شاہ پر غلط بیانی کا الزام ، ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی ، ریاستی وزیر ای راجندر کی پریس کانفرنس

حیدرآباد۔/11جون، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ کے ان دعوؤں کو مسترد کردیا کہ مرکزی حکومت نے گذشتہ دو برسوں کے دوران تلنگانہ کو 90 ہزار کروڑ روپئے فراہم کئے ہیں۔ وزیر فینانس ای راجندر، ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی، رکن اسمبلی آر بالکشن اور رکن قانون ساز کونسل راملو نائیک نے آج مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ مرکزی حکومت نے گذشتہ دو برسوں کے دوران تلنگانہ کو صرف 36 ہزار کروڑ روپئے جاری کئے ہیں۔ ورنگل کے سوریہ پیٹ میں جلسہ عام سے خطاب کے دوران امیت شاہ کی جانب سے دیئے گئے اعداد و شمار پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وزیر فینانس نے کہا کہ امیت شاہ دراصل عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی زائد امداد کا اعلان کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ مرکزی حکومت کی رقومات عوام تک نہیں پہنچ رہی ہیں۔ راجندر نے کہا کہ قومی صدر کے عہدہ پر فائز شخص کیلئے یہ زیب نہیں دیتا کہ غلط معلومات کے ذریعہ عوام کو گمراہ کریں۔ انہوں نے بتایا کہ 2014-15کے دوران تلنگانہ کو سی ایس ایس کے تحت 5028کروڑ، مرکزی سنٹرل ٹیکسیس کے تحت 8189 کروڑ ، این ڈی آر ایف کے تحت 19 کروڑ، فینانس کمیشن کے ذریعہ 2110 کروڑ کے بشمول جملہ 15345 کروڑ روپئے جاری کئے گئے جبکہ 2015-16 میں جملہ 19944کروڑ روپئے جاری کئے گئے۔ اس میں سی ایس ایس کے تحت 6047کروڑ، سنٹرل ٹیکسیس کے تحت 12351کروڑ، این ڈی آر ایف کے تحت 468کروڑ اور فینانس کمیشن سے 1078کروڑ روپئے شامل ہیں۔ اس طرح گذشتہ دو برسوں میں مجموعی طور پر 35289کروڑ روپئے جاری کئے گئے۔ وزیر فینانس نے امیت شاہ کے اس بیان کی مذمت کی جس میں انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں نظم و نسق ٹھیک نہیں ہے اور سیاسی خلاء پیدا ہوچکا ہے جسے صرف بی جے پی پورا کرسکتی ہے۔ راجندر  نے کہا کہ تلنگانہ میں گذشتہ دو برسوں میں بی جے پی کو عوامی تائید حاصل نہیں ہوئی۔ جتنے بھی ضمنی انتخابات ہوئے بی جے پی کی ضمانت بھی نہیں بچ سکی۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں بی جے پی کے 5 ارکان اسمبلی کے باوجود بی جے پی کو ایک کارپوریٹر بھی حاصل نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ دو برسوں کے دوران حکومت کو عوامی تائید کا نتیجہ ہے کہ تمام انتخابات میں بھاری اور ریکارڈ اکثریت کے ساتھ ٹی آر ایس کامیاب ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں دانشور اور مختلف ادارے اپنے سروے کے ذریعہ کے سی آر حکومت کی بھرپور ستائش کررہے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزراء نے بھی تلنگانہ کی اسکیمات کی ستائش کی۔ مختلف ریاستیں تلنگانہ کی اسکیمات کو اپنی ریاستوں میں شروع کرنے کا منصوبہ بنارہی ہیں لیکن افسوس کہ بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ تلنگانہ حکومت اور اسکیمات پر تنقید کررہے ہیں۔ وزیر فینانس نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے غریبوں کیلئے مختلف اسکیمات کا اعلان کیا لیکن ایک بھی اسکیم غریبوں تک نہیں پہنچ سکی۔ وزیر فینانس نے برقی کے بحران پر قابو پانے کو حکومت کا کارنامہ قرار دیا۔ اس کے علاوہ مشن بھگیرتا اور مشن کاکتیہ کی تفصیلات بیان کی جن کے ذریعہ آبپاشی کیلئے پانی سیراب کرنے اور ہر گھر کو صاف پینے کا پانی مہیا کرنے کا منصوبہ ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے بی جے پی قائدین سے سوال کیا کہ مرکزی حکومت سے جب خشک سالی کی امداد طلب کی گئی تو مرکز نے کس قدر امداد دی۔ انہوں نے بی جے پی قائدین کو اُلٹ پلٹ بیانات سے گریز کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں کے سی آر حکومت کی ملک بھر میں ستائش کی جارہی ہے۔ ترقیاتی اور فلاحی اقدامات میں تلنگانہ ملک بھر میں سرفہرست ہے۔ 33لاکھ غریبوں کو آسرا پنشن اسکیم کے ذریعہ وظائف جاری کئے جارہے ہیں جو ملک بھر میں اپنی مثال آپ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خشک سالی کی امداد کے سلسلہ میں مرکز سے 3000 کروڑ روپئے کی اپیل کی گئی تھی لیکن 700کروڑ روپئے بھی جاری نہیں کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کیلئے آئی اے ایس عہدیدار بھی درکار تعداد میں الاٹ نہیں کئے گئے۔

TOPPOPULARRECENT