Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ حکومت کے آئندہ بجٹ میں اقلیتوں کیلئے اضافی فنڈ؟

تلنگانہ حکومت کے آئندہ بجٹ میں اقلیتوں کیلئے اضافی فنڈ؟

گذشتہ سال منظورہ 1000 کروڑ میں سے صرف 600کروڑ ہی خرچ کئے گئے
حیدرآباد /4 ستمبر ( سیاست نیوز ) چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے آئندہ سال 2016-17 کیلئے ریاست کا مجموعی بجٹ 1.58 لاکھ کروڑ ہونے کا اشارہ دیا ہے ۔ سوال یہ اٹھایا جارہا ہے کہ اسی تناسب سے اقلیتی بجٹ میں بھی اضافہ ہوگا ۔ عام بجٹ کی پیشکشی کیلئے مزید 6 ماہ درکار ہیں ۔ حکومت جاریہ سال کا منظورہ بجٹ استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ آئندہ سال کی حکمت عملی کا بھی ابھی سے تعین کرنا شروع کیا ہے ۔ اس سلسلے میں محکمہ فینانس منصوبہ بندی تیار کرنے میں مصروف ہے ۔ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اپنے کیمپ آفس میں سابق فوجیوں اور ریٹائرڈ پولیس کے اعلی عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سال بجٹ کی پیشکشی میں سارے ملک میں ریاست تلنگانہ کو منفرد مقام  حاصل ہوگا اور ٹی آر ایس حکومت 2016-17 کیلئے 1.58 لاکھ کروڑ کا بجٹ پیش کرے گی جو موجودہ بجٹ سے 40 ہزار کروڑ زیادہ ہوگا ۔ چیف منسٹر تلنگانہ کا یہ فیصلہ قابل ستائش ہے ۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس طرح ریاست کے مجموعی بجٹ میں اضافہ ہو رہا ہے اسی مناسبت سے ریاستی اقلیتی بجٹ میں اضافہ ہوگا ۔ گذشتہ سال منظورہ 1000 کروڑ کے اقلیتی بجٹ میں حکومت کی جانب سے صرف 600 کروڑ روپئے ہی خرچ کئے گئے ہیں ۔ ماباقی 400 کروڑ روپئے سرکاری خزانے میں واپس ہوگئے ہیں ۔ سال 2015-16 کیلئے ٹی آر ایس حکومت نے 1105 کروڑ روپئے کا اقلیتی بجٹ منظور کیا ہے تاہم ابھی تک ابتدائی ایک چوتھائی اقلیتی بجٹ جاری ہوا ہے ۔ جبکہ ایک سال کیلئے منظورہ بجٹ کے 6 ماہ گذر چکے ہیں ۔ گذشتہ سال جاری  کردہ 600 کروڑ میں نصف سے زیادہ بجٹ طلبہ کی فیس ریمبرسمنٹ ، اسکالرشپس وغیرہ پر ہی خرچ کی گئی ہے ۔ حکومت ہر سال مجموعی بجٹ کے ساتھ اقلیتی بجٹ کے اعداد و شمار میں بھی اضافہ کر رہی ہے ۔ تاہم اس کو خرچ کرنے کیلئے نئی اسکیمات کو متعارف کرانے میں ناکام ہور ہی ہے ۔ جس کی وجہ سے منطورہ اقلیتی بجٹ کا بیشتر حصہ سرکاری خزانے میں واپس ہو رہا ہے ۔ بجٹ میں اضافہ کے ساتھ ساتھ اسکولی مکمل استعمال کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ اقلیتوں کی ترقی اور بہبود کیلئے نئی اسکیمات کو متعارف کرنے پر ہی منظور کردہ مکمل بجٹ خرچ ہوتا ہے ۔ ورنہ اس بجٹ کے ہندسوں میں تبدیلی آئے گی ۔ مگر اقلیتوں کیلئے بے فیض ہوکر رہ جائے گا ۔ محکمہ اقلیت بہبود کے اعلی عہدیداروں اور مختلف سیاسی ، رضاکارانہ تنظیموں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت پر دباؤ بنائے اور منظورہ بجٹ کی اجرائی اور خرچ کرنے کیلئے نگرانی کو یقینی بنائے ۔

TOPPOPULARRECENT