Wednesday , December 12 2018

تلنگانہ حکومت کے منصوبے

کوئی کمال ہے یا شہرتوں کا سایہ ہے
زمیں سے اٹھ کے ابھی پربتوں پہ آیا ہے
تلنگانہ حکومت کے منصوبے
تلنگانہ حکومت آئندہ ماہ مارچ میں اسمبلی کے بجٹ سیشن میں عوامی بہبودی اسکیمات پر خصوصی توجہ دینے جارہی ہے تو اسے ریاست کے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات دینے کے لیے اپنے وعدہ کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی تعلیمی و معاشی پسماندگی دور کرنے اپنے بجٹ میں 5000 کروڑ روپئے مختص کرنییٔ کا اعلان کرتی ہے تو اس سے مسلمانوں کی پسماندگی دور کرنے میں مدد ملے گی ۔ بجٹ میں زراعت اور بہبودی پروگراموں کے بعد روزگار پر خاص غور و فکر کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے موثر اقدامات کیے جاتے ہیں تو ریاست کے بیروزگار نوجوانوں کے لیے روزگار فراہم کرنے کی راہیں کشادہ ہوں گی ۔ بلا شبہ حکومت نے اب تک سرکاری محکموں میں تمام مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات عمل میں لانے کا ایک روڈ میاپ تیار کیا ہے اس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور صنعتوں میں مہارت رکھنے والے ورکرس کو روزگار ملے گا ۔ حکومت نے ریاست میں نئے طبقہ واری خود روزگار اسکیمات کو بھی متعارف کروایا ہے کہ اس پر سنجیدگی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔ قیام تلنگانہ کے بعد سے ریاست میں سرمایہ کاری کے بہاؤ میں تیزی لانے کے لیے جن اقدامات کی صرورت تھی اس پر حکومت نے کسی حد تک کوشش کی ہے مگر توقع ہے کے مطابق سرمایہ کاری نہیں کی گئی ۔ حکومت نے اگرچیکہ صنعتی دوست پالیسی وضع کیا ہے خاص کر TS-ipass پالیسی کے ذریعہ حکومت کو توقع تھی کہ ریاست میں کئی صنعتی گھرانے سرمایہ کاری میں اضافہ کریں گے ۔ سرمایہ کاری کو مزید وسعت دینے کے لیے پالیسیوں میں نرمی لانے کے علاوہ سرکاری محکموں میں سرخ فیتہ کی رکاوٹ کو دور کرنے پر دھیان دینا چاہئے ۔ حکومت کے اداروں میں پائی جانے والی خامیوں کو ختم کیے بغیر حکومت اپنی پالیسیوں پر عمل آوری اور اس کے ثمر آور نتائج کی توقع کرتی ہے تو اس میں کامیابی کے امکانات کم ہوں گے ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو بھی یہ احساس ہے کہ ان کی حکومت کے منصوبوں اور اسکیمات کو مؤثر طریقہ سے روبہ عمل نہیں لایا جارہا ہے اس لیے انہوں نے مختلف محکموں کے عہدیداروں کے ساتھ سلسلہ وار جائزہ اجلاس لیتے ہوئے روزگار کے مسئلہ کو حل کرنے پر زور دیا ہے ۔ سرکاری اور خانگی شعبوں میں زیادہ سے زیادہ ملازمتوں کو یقینی بنایا جانا چاہئے ۔ حکومت نے سرکاری محکموں میں مزید 50,000 ملازمتوں کی گنجائش پیدا کی ہے جو ایک خوش آئند کوشش ہے ۔ اس کے علاوہ تقریبا 15000 کنٹراکٹ ملازمین کو باقاعدہ بنایا جانے کا منصوبہ بھی باعث اطمینان ہے ۔ ٹی آر ایس حکومت کو ریاست تلنگانہ کے نوجوانوں کی فکر ہے اور یہ نوجوان بھی حکومت اور حکمراں پارٹی کو اپنی بھر پور تائید دینے کا اعادہ کرتے رہے ہیں ۔ سال 2019 کے انتخابات میں کامیابی کے لیے ٹی آر ایس کو اپنے وعدہ کو پورا کرنے پر توجہ دینا بھی ضروری ہے ۔ ریاستی وزیر فینانس ای راجندر کی جانب سے پیش کیا جانے والا یہ بجٹ مسلمانوں کے حق میں کس قدر ثمر آور ثابت ہوگا اس پر ریاست کے مسلمانوں کی خاص توجہ رہے گی ۔ چیف منسٹر نے جہاں ریاست کے ایک لاکھ نوجوانوں کو روزگار دینے کے اپنے وعدہ کو پورا کرنے کا عہد کیا ہے وہیں مسلمانوں کو تحفظات دینے کے لیے قانونی لڑائی میں کامیاب ہونے کی جدوجہد کرنے کے ساتھ مسلمانوں کے لیے زیادہ سے زیادہ بجٹ مختص کرتے ہیں تو یہ اہم قدم سمجھا جائے گا ۔ اس وقت ریاستی حکومت اپنے 3.5 لاکھ ملازمین کے لیے ماہانہ 3000 کروڑ روپئے خرچ کررہی ہے ۔ اس کے علاوہ اگر حکومت ملازمین کی بہبود کو بھی اہمیت دیتی ہے تو ریاستی سرکاری ملازمین بھی حکمراں پارٹی کے حق میں رہیں گے ۔ ریاستی حکومت نے خود روزگار پروگرام کی بھی حوصلہ افزائی کرنے کا عہد کیا ہے تو تعلیم یافتہ بیروزگار نوجوانوں کی رہنمائی کرنا بھی اس کی ذمہ داری ہے ۔ حکومت نے ریاست میں جہاں پسماندہ طبقات ، پسماندہ قبائل کی ترقی کے لیے اقدامات کررہی ہے وہیں محکمہ اقلیتی بہبود کے لیے بھی کشادہ دلی کا مظاہرہ کرے تو مسلمانوں کو حوصلہ ملے گا ۔ ریاستی حکومت نے ریاست میں روزگار کے نئے زونس قائم کرنے کے لیے مسودہ صدارتی حکم کو قطعیت دی ہے تو اس سے امید کی جاتی ہے کہ ریاست کے نو تشکیل شدہ 31 اضلاع میں ملازمین کے ساتھ انصاف کیا جائے گا ۔۔

TOPPOPULARRECENT