Saturday , January 20 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ خوشی سے جھوم اٹھا ، گن پارک پر تاریخی جشن

تلنگانہ خوشی سے جھوم اٹھا ، گن پارک پر تاریخی جشن

حیدرآباد ۔ 18 ۔ فروری : لوک سبھا میں تلنگانہ بل کی منظوری کے ساتھ ہی 62 برسوں سے جاری علحدہ تلنگانہ تحریک کو بالاخر کامیابی مل ہی گئی ۔ زندگی کے ہر شعبہ میں آندھرائی باشندوں کے زیادہ سے زیادہ اثر و رسوخ سے تنگ آکر 1952 میں چند سیاسی قائدین اور طلبہ نے جو تحریک شروع کی تھی اسے کامیاب بنانے کے لیے کئی جانوں کا نذرانہ دینا پڑا ۔ صرف 1969 میں جب

حیدرآباد ۔ 18 ۔ فروری : لوک سبھا میں تلنگانہ بل کی منظوری کے ساتھ ہی 62 برسوں سے جاری علحدہ تلنگانہ تحریک کو بالاخر کامیابی مل ہی گئی ۔ زندگی کے ہر شعبہ میں آندھرائی باشندوں کے زیادہ سے زیادہ اثر و رسوخ سے تنگ آکر 1952 میں چند سیاسی قائدین اور طلبہ نے جو تحریک شروع کی تھی اسے کامیاب بنانے کے لیے کئی جانوں کا نذرانہ دینا پڑا ۔ صرف 1969 میں جب تلنگانہ تحریک اپنے نقطہ عروج پر پہنچ گئی تھی اس وقت پولیس فائرنگ میں 369 طلباء مارے گئے تھے ۔ جب کہ 1952 میں اسی مقصد کے لیے جب طلبہ نے آواز اٹھائی تو ان کی آوازوں کو دبانے کے لیے آندھرائی حکمرانوں کے اشارہ پر کی گئی پولیس فائرنگ میں 7 طلبہ اپنی زندگیوں سے محروم ہوئے تھے ۔ بہرحال قوموں کو آزادی کی سانس لینے اس کے ثمرات سے استفادہ کے لیے جان و مال کی قربانیاں تو دینی ہی پڑتی ہیں تب جاکر کسی بھی قوم کو آزادی کی راحت نصیب ہوتی ہے ۔ 18 فروری 2014 کا دن ہندوستان بالخصوص تلنگانہ کی تاریخ میں یادگار دن مانا جائے گا کیوں کہ اس دن ہی تلنگانہ کی دبی کچلی عوام کی امنگوں و خواہشات کے مطابق علحدہ ریاست تلنگانہ کا بل نہ صرف لوک سبھا میں پیش کیا گیا بلکہ اسے منظور بھی کرلیا گیا ۔ پارلیمنٹ میں تلنگانہ بل کی منظوری کے ساتھ شہر کے بیشتر حصے آتشبازی اور جئے جئے تلنگانہ کے نعروں سے گونج اٹھے ۔ شہر میں سب سے زیادہ لوگ اسمبلی کے سامنے واقع گن پارک میں جمع ہو کر زبردست جشن منایا ۔ 25 تا 30 ہزار افراد بشمول خواتین بچوں بوڑھوں نے وہاں پہنچ کر خوشیاں منائیں ۔ راقم الحروف نے دیکھا کہ علحدہ تلنگانہ کی خوشیاں منانے والوں میں برقعہ پوش خواتین ، باریش بزرگ و نوجوانوں کی کثیر تعداد جئے تلنگانہ کے نعرے بلند کرتے ہوئے خوشیاں منا رہے تھے ۔ اکثر مقامات پر شیروانی زیب تن کئے افراد نظر آئے جس میں ایم پی جے کے سربراہ حامد محمد خاں نمایاں ہیں ۔ گن پارک پر منائے گئے

جشن میں تلنگانہ کی تہذیب نمایاں طور پر اجاگر ہورہی تھی ۔ ہر طرف مٹھائیوں کی تقسیم جاری تھی ۔ آتشبازی کے باعث کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی ۔ ہم نے دیکھا کہ تلنگانہ کے مختلف باجوں کے ساتھ ساتھ عربی مرفہ کی تھاپ پر نوجوان رقص کررہے تھے ۔ بی جے پی ، ٹی آر ایس ، کانگریس اور ایم پی جے کے اہم قائدین جشن میں موجود تھے لوگ ایک دوسرے پر گلابی رنگ پھینک رہے تھے ۔ ہم نے دیکھا کہ گن پارک پر رنگ کے تھیلے اتارے جارہے تھے ۔ حد تو یہ ہے کہ بندوبست میں مصروف پولیس عہدیدار بھی رقص کررہے تھے ۔ ایک مقام پر ایم پی جے کے سربراہ حامد محمد خاں ، ویلفیر پارٹی آف انڈیا آندھرا پردیش کے ریاستی صدر جناب ملک معتصم خاں ، مولانا طارق قادری ایڈوکیٹ ، ٹی آر ایس قائد وحید احمد ایڈوکیٹ اور ویدکمار ٹھہرے ہوئے تھے ۔ جہاں مختلف جماعتوں کے قائدین نے پہنچ کر انہیں مبارکباد دے رہے تھے ۔ ایسا لگ رہا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین تلنگانہ کی چھتری تلے جمع ہوگئے ہوں ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ 1952 میں ہی تلنگانہ تحریک شروع ملکی قوانین پر عدم عمل آوری کے نتیجہ میں شروع ہوئی تھی حالانکہ حیدرآباد دکن میں اس قانون پر 1919 سے عمل آوری کی جارہی تھی ۔ آپ کو بتادیں کہ 1953 میں لسانی بنیادوں پر نظام اسٹیٹ کو تقسیم کیا گیا اور مملکت حیدرآباد دکن کے کچھ حصوں کو ٹاملناڈو ، کرناٹک اور مہاراشٹرا میں شامل کردیاگیا ۔ جب کہ تلنگانہ اور آندھرا کو ضم کردیا گیا ۔ اس انضمام کے نتیجہ میں سب سے زیادہ تلنگانہ والوں کو نقصان ہوا ۔ واضح رہے کہ 1952 میں جب مقامی ملازمتیں ، آندھرائی باشندوں کو دئیے جارہے تھے اس وقت ملکی قانون پر عمل آوری کا مطالبہ کرتے ہوئے جو احتجاج طلبہ نے شروع کیا تھا اس وقت دو نعرے بہت زیادہ مقبول ہوئے تھے

جس میں ’ غیر ملکی واپس جاؤ اور اڈلی سانبر واپس جاؤ نعرے شامل ہیں ‘ ۔ 1952 کے احتجاج کو طاقت کے زور پر روکنے کے لیے پولیس فائرنگ کی گئی جس میں 7 طلباء ہلاک ہوئے تھے ۔ 1956 میں آندھرائی لابی کے دباؤ اور کانگریس کی مرکزی قیادت کی ایما پر تلنگانہ کے مفادات کے تحفظ کا وعدہ کرتے ہوئے آندھرا اور تلنگانہ کو ضم کیا گیا اور اس کے لیے جو معاہدہ طئے پایا اسے شریفانہ معاہدہ کہا جاتا ہے ۔ تاہم اس کے بعد 13 برس تک تلنگانہ میں اضطراب آمیز سکون رہا لیکن 1969 میں علحدہ تلنگانہ تحریک نے شدت اختیار کی ۔جس میں 369 طلبہ پولیس فائرنگ میں ہلاک ہوئے ۔ واضح رہے کہ آندھرا پردیش کے رقبہ کا 41.47 حصہ تلنگانہ پر مشتمل ہے جب کہ ریاست کا 76 فیصد ریونیو تلنگانہ سے جاتا رہا اس میں صرف حیدرآباد سے جانے والا ریونیو 50 فیصد ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT