Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ دولت مند ریاست ، چیف منسٹر کے سی آر کا دعویٰ کھوکھلہ

تلنگانہ دولت مند ریاست ، چیف منسٹر کے سی آر کا دعویٰ کھوکھلہ

ریاست میں معاشی بحران ، قرض سے فلاحی اسکیمات ، ڈاکٹر ملو روی
حیدرآباد ۔ 11 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز) : تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے کہا کہ دولت مند اسٹیٹ ہونے چیف منسٹر کے سی آر کا دعویٰ کھوکھلا ثابت ہورہا ہے ۔ ریاست تلنگانہ معاشی بحران کا شکار ہے ۔ قرضوں پر انحصار کرتے ہوئے فلاحی اسکیمات چلائی جارہی ہیں ۔ تشہیر پر فضول خرچی کرتے ہوئے ٹی آر ایس حکومت ریاست کا دیوالیہ نکال رہی ہے ۔ نائب صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ڈاکٹر ملو روی نے آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی تقسیم کے بعد فاضل بجٹ سے تشکیل پانے والی ریاست تلنگانہ کو غلط پالیسیوں اور فضول خرچی سے چیف منسٹر کے سی آر نے ریاست کو معاشی بحران میں ڈھکیل دیا ہے ۔ چیف منسٹر کی جانب سے فاضل ریاست ہونے کا دعویٰ کیا جارہا ہے تاہم برقی اور آر ٹی سی کے شرحوں میں اضافہ کرنے کے بعد ریاست کی اصلی معاشی حالت کا پردہ فاش ہوگیا ہے ۔ اگر ریاست کا بجٹ فاضل ہے تو پھر کیوں آر ٹی سی اور برقی شرحوں میں اضافہ کیا گیا ۔ آبپاشی پراجکٹس میں ری ڈیزائننگ کے نام پر تعمیری قیمتوں میں 50 ہزار کروڑ روپئے کا اضافہ کردیا گیا ہے ۔ واٹر گرڈ اور تالابوں کے احیاء کے نام پر بڑے پیمانے پر بدعنوانیاں کرتے ہوئے فاضل بجٹ کو خسارے بجٹ میں تبدیل کردیا گیا ۔ غریبوں کی طبی سہولتوں کے لیے سنجیونی ثابت ہونے والی آروگیہ شری اسکیم کے بقایا جات ادا نہیں کئے گئے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے فیس ری ایمبرسمنٹ کی بقایا جات ادا نہیں کی گئی ۔ کسانوں کے قرضوں سے متعلق 25 فیصد رقم کی اجرائی کے بجائے صرف 12.5 فیصد رقم جاری کی گئی ہے ۔ جس کی وجہ سے بنکرس کسانوں کو نئے قرض جاری کرنے سے انکار کررہے ہیں ۔ معاشی بحران کے باعث آبپاشی پراجکٹس کی تعمیرات رک سکتی ہے ۔ حکومت کی فلاحی اسکیمات کو چلانے کے لیے قرضوں پر انحصار کرنا پڑرہا ہے ۔ دو سال کے دوران تلنگانہ حکومت کی جانب سے 90 ہزار کروڑ روپئے کے قرضہ جات حاصل کئے گئے ہیں ۔ تلنگانہ کی دوسری یوم تاسیس کے موقع پر حکومت نے تشہیر پر کروڑہا روپئے ضائع ، حکومت کی اسکیمات کی تشہیر پر کروڑہا روپئے خرچ کئے گئے ۔ موسم برسات کے دوران پودے لگانے کی عام روایت ہے اس کو بھی ایک نئے پروگرام کے طرز پر پیش کرتے ہوئے سرکاری خزانے پر غیر معمولی بوجھ عائد کیا جارہا ہے ۔ چیف منسٹر ہر پروگرام کو چارآنے کے بندر کو بارہ آنے کی رسی کے مترادف عوام کے فنڈز کا بیجا استعمال کررہے ہیں ۔ مسٹر ملو روی نے حکومت کے مصارف کے لیے سرکاری اراضیات فروخت کرنے کی تجویز کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس سے فوری دستبرداری اختیار کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا ۔۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT