Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ راشٹرا سمیتی کی 67 رکنی ریاستی عاملہ کا اعلان

تلنگانہ راشٹرا سمیتی کی 67 رکنی ریاستی عاملہ کا اعلان

پارٹی کے کئی قائدین میں بے چینی ، عہدوں سے محروم ہونے والوں میں اقلیتی نمائندے بھی شامل
حیدرآباد ۔ 10۔ اکتوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی کی 67 رکنی ریاستی عاملہ کے اعلان کے بعد پارٹی سے وابستہ قائدین میں بے چینی دیکھی جارہی ہے۔ چیف منسٹر جو پارٹی کے صدر بھی ہیں، انہوں نے ریاستی عاملہ کے عہدیداروں کے ناموں کو قطعیت دی جنہیں کل جاری کیا گیا۔ 20 جنرل سکریٹریز ، 33 سکریٹریز اور 12 جوائنٹ سکریٹریز کا تقرر کیا گیا جس میں 2001 ء سے پارٹی میں سرگرم بیشتر قائدین کے نام شامل نہیں ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے اس سلسلہ میں نمائندگی کیلئے آج بڑی تعداد میں پارٹی قائدین تلنگانہ بھون پہنچے لیکن انہیں اس وقت مایوسی ہوئی جب پارٹی کا داخلی اجلاس قرار دے کر کسی کو ملاقات کا موقع نہیں دیا گیا۔ شہر اور اضلاع سے تعلق رکھنے والے یہ قائدین ریاستی عاملہ میں نئے قائدین کی شمولیت پر اعتراض کر رہے تھے۔ قائدین کا کہنا تھا کہ حکومت کی تشکیل کے بعد سے وہ عہدوں کے سلسلہ میں انصاف اور مناسب نمائندگی کی امید وابستہ کئے ہوئے تھے لیکن انہیں نہ ہی سرکاری عہدے حاصل ہوئے ، نہ پارٹی میں مناسب مقام دیا گیا۔ کئی قائدین نے چیف منسٹر کے لئے یادداشت تیار کی تاکہ انہیں عہدوں سے محروم قائدین کے جذبات سے واقف کیا جاسکے۔ عہدوں سے محروم اور مایوس قائدین میں پارٹی کے اقلیتی قائدین بھی شامل ہیں، جنہیں ریاستی عاملہ میں نمائندگی نہیں دی گئی ۔ چیف منسٹر نے جنرل سکریٹریز اور سکریٹریز کے عہدوں میں 6 مسلم اقلیتی قائدین کو شامل کیا لیکن ان میں سوائے دو ارکان مقننہ کے دیگر قائدین عوامی سطح پر غیر مقبول اور غیر متحرک بتائے جاتے ہیں۔ نظام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک اقلیتی قائد کو رکن پارلیمنٹ کویتا کی مساعی سے سکریٹری کا عہدہ دیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ جن دیگر قائدین کو ریاستی عاملہ میں جگہ دی گئی ، ان میں بیشتر غیر معروف قائدین ہیں۔ حیدرآباد اور نواحی علاقوں میں ایسے کئی اقلیتی قائدین موجود ہیں جنہوں نے تلنگانہ تحریک میں اہم رول ادا کیا اور وہ پارٹی کے مختلف پروگراموں میں ہمیشہ پیش پیش رہے۔ اقلیتی قائدین کو شکایت ہے کہ گزشتہ تین برسوں میں ان کے ساتھ صرف وعدے کئے جارہے ہیں جبکہ وعدوں پر عمل آوری کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔ ریاستی عاملہ میں ارکان قانون ساز کونسل کی شمولیت سے قائدین میں ناراضگی پائی جاتی ہے ۔ 20 جنرل سکریٹریز میں 7 ارکان قانون ساز کونسل کو شامل کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ ایک کارپوریشن کے صدرنشین بھی جنرل سکریٹری کے عہدہ پر فائز کئے گئے ۔ 33 سکریٹریز میں تین ارکان قانون ساز کونسل اور 6 مختلف کارپوریشنوں کے صدور نشین شامل ہیں۔ 12 رکنی جوائنٹ سکریٹریز کی ٹیم میں ایک چیرمین کو جگہ دی گئی ہے۔ قائدین کا کہنا ہے کہ ارکان قانون ساز کونسل اور صدور نشین کو نمائندگی دیتے ہوئے انہیں عملاً دو عہدوں سے سرفراز کیا گیا جو ایسے قائدین کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے جو ابھی تک کسی بھی عہدہ سے محروم ہیں ۔ جہاں تک اقلیتی قائدین کی نمائندگی کا سوال ہے ، حکومت نے 5 اقلیتی قائدین کو مختلف اداروں کا صدرنشین نامزد کیا جن میں سے 4 اداروں کے بورڈ آف ڈائرکٹرس کا ابھی تک تقرر نہیں کیا گیا ۔ اقلیتی قائدین کو کم از کم ان اداروں کے بورڈ آف ڈائرکٹرس میں شامل کیا جانا چاہئے ۔ اس کے علاوہ بعض دیگر اقلیتی اداروں پر ابھی تک تقررات نہیں کئے گئے۔ جہاں تک پارٹی کے تنظیمی ڈھانچہ میں مسلم نمائندگی کا سوال ہے ، اقلیتی سیل کے صدرنشین کا تقرر کیا گیا لیکن عہدیداروں کا تقرر ابھی باقی ہے ۔ اضلاع میں اقلیتی سیل کا احیاء عمل میں نہیں آیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT