Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ ریاست میں اقلیتی اقامتی اسکولس کا جال ، مسلمانوں کے تابناک مستقبل کا ضامن

تلنگانہ ریاست میں اقلیتی اقامتی اسکولس کا جال ، مسلمانوں کے تابناک مستقبل کا ضامن

عصری تعلیم کے ساتھ دینیات کی تعلیم ، طعام و قیام ، کھیل کود کی سہولت ، چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کا مثالی کارنامہ
حیدرآباد ۔ 6 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : جو قوم مذہب اور جدید تعلیم سے دور ہوجاتی ہے وہ زوال کی جانب بڑھنے لگتی ہے ۔ سازشوں ، حالات اور خود مسلمانوں کی کمزوری نے مسلم قوم کو تعلیمی میدان میں اس قدر پیچھے چھوڑ دیا کہ وہ بچھڑے ہوئے طبقات سے بھی تعلیم میں کم تر ہوگئے ۔ تاہم موجودہ دور میں حکومت تلنگانہ مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے مثالی اقدامات کررہی ہے ۔ تلنگانہ میں مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی بحالی کے لیے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی قیادت میں چلائے جارہے اقلیتی اقامتی اسکول مسلمانوں کے درخشاں مستقبل میں بنیادی رول ادا کرسکتے ہیں ۔ مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے ابھی تک کی حکومتوں نے دعوے کیے لیکن عملی اقدامات میں کے چندر شیکھر راؤ نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا ۔ انگلش میڈیم ذریعہ تعلیم کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو ان کے مذہبی اصولوں پر قائم رکھتے ہوئے دینی ماحول اور دینیات کی تعلیم بھی فراہم کی جارہی ہے ۔ جب کہ ملک کی بیشتر ریاستوں میں حکومتوں کی جانب سے مسلم عقائد پر حملوں کی سازشیں جاری ہیں ۔ چیف منسٹر نے پوری ریاست میں تلنگانہ مینارٹیز ریزیڈنشیل اسکولس قائم کردئیے اور ان کی تعداد میں مزید اضافہ کا بھی وہ ارادہ رکھتے ہیں اور ان اسکولس کی کارکردگی کو بہتر سے بہتر بنانے کے اقدامات جاری ہیں ۔ پرانے شہر کے پسماندہ علاقوں میں شمار کئے جانے والے گنجان مسلم آبادی والے علاقہ بہادر پورہ میں جاری اقلیتی اقامتی اسکول برائے نسواں کی کامیابی اس بات کی دلیل ہے کہ مسلمان کس حد تک تعلیم حاصل کرنے کے لیے بے چین اور بے قرار ہیں ۔ اور مسلم قوم کے اس جوش و جذبہ اور سرکاری اقدامات پر عوام کے ردعمل نے حکومت کے حوصلوں کو مزید بلند کردیا ہے اور حکومت کی سونچ بھی تبدیل ہوگئی کہ اس میں مزید سہولیات فراہم کئے جائیں ۔ بہادر پورہ اور چنتل میٹ میں واقع اقلیتی اقامتی اسکولس برائے نسواں میں تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیوں میں حصول تعلیم کا جذبہ مثالی ہے ۔ مذہبی اصولوں پر عمل آوری کی مکمل آزادی اور مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم سے آراستہ ہونے کا موقع ایک ہی چھت کے نیچے دستیاب ہے ۔ نماز فجر کے ساتھ صبح کا آغاز اور کھیل کود کے ساتھ سے جدید تعلیم کی شروعات اور دینیات کی تعلیم کے ساتھ ہاسٹل کی زندگی بہترین نتائج کی طرف اشارہ دیتی ہے ۔ پرانے شہر کے ان پسماندہ علاقوں سے ان ہونہار طلبہ و طالبات کا تعلیمی مظاہرہ آنے والے وقت کی پیش قیاسی کرتا ہے کہ اب پرانے شہر سے بھی آئی اے ایس اور آئی پی ایس تیار ہوں گے ۔ بہترین ماحول اور اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ اور نگرانکاروں بالخصوص سنجیدہ حکومت کے عملی اقدامات پائیلٹ سلویٰ فاطمہ جیسے بلند حوصلہ رکھنے والی لڑکیوں کو تیار کریں گے ۔ جیسا کہ روزنامہ سیاست نے سلویٰ فاطمہ کو تیار کیا ۔ مختلف رضاکارانہ تنظیموں بالخصوص سیاست کی تحریک سے کئی مسلم لڑکے اور لڑکیوں نے تعلیمی میدان میں نہ صرف اپنا لوہا منوایا بلکہ ترقی کی بلندیوں کو چھو لیا ہے ۔ سیاست کی تحریک اور کاوشیں کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔ پرانے شہر کے علاقہ بہادر پورہ کے اقامتی اسکولس میں جو نندی مسلائی گوڑہ علاقہ میں واقع ہے 186 لڑکیاں زیر تعلیم ہیں جن میں 75 فیصد اقلیتی اور 25 فیصد غیر اقلیتی طالبات ہیں ۔ ماہر اور اعلی تعلیم یافتہ اساتذہ کی ٹیم اور نان ٹیچنگ اسٹاف کی کارکردگی پرنسپل کی نگرانی معیاری سہولیات کو بھر پور استعمال کا سبب بن رہی ہیں ۔ اس سلسلہ میں پرنسپل محترمہ عطیہ سلطانہ جو کہ ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹرس تھیں اب اس اسکول میں خدمات انجام دے رہی ہیں ۔ نے بتایا کہ اسکول میں 5 تا 7 ویں جماعت تعلیم جاری ہے اور فی کلاس میں دو سیکشن بنائے گئے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ اس اسکولس سے رجوع ہونے والے بچوں کے والدین میں مسلم غربت سے نیچے کی زندگی بسر کرنے والوں کی اکثریت ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہر طرح کی سہولت کے ساتھ ساتھ 24 گھنٹے سی سی ٹی وی کیمروں سے اسکول کے احاطہ اور اندرونی حصہ کی نگرانی کی جاتی ہے ۔ لڑکیوں کو نماز اور دینی عقائد پر عمل آوری کی مکمل آزادی ہے اور اسکول میں ہر جمعہ کے دن آیت کریمہ ، فاتحہ خوانی اور درود و سلام کا پابندی سے اہتمام کیا جاتا ہے جب کہ دیگر سہولیات میں لڑکیوں کو اسپورٹس میٹریل بھی فراہم کیا گیا ہے جس کے لیے علحدہ ٹیچر بھی ہے ۔ انڈور اور آوٹ ڈور گیمس کی مکمل سہولیات موجود ہیں ۔ جب کہ راجندر نگر چنتل میٹ اسکولس کے پرنسپل مسٹر ایلاریڈی نے بتایا کہ اسکول میں جملہ 120 نشستیں ہیں جن میں 108 نشستوں پر بھرتی ہوچکی ہے اور تعلیم 5 ویں تا 7 ویں جماعت جاری ہے ۔ 30 سال سے اقامتی اسکول کا تجربہ رکھنے والے مسٹر ریڈی نے بتایا کہ انہوں نے اپنی سرویس میں اس طرح کی سہولیات کو پہلے کبھی نہیں دیکھا ۔ انہوں نے بتایا کہ لڑکیوں کے والدین کے ساتھ ہر ماہ اجلاس منعقد کیا جاتا ہے اور ان سے مشورے لیے جاتے ہیں اور لڑکیوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جاتی ہے ۔ انہوں نے دینی کلاس کا مشاہدہ بھی کروایا ۔ اور نماز ہال میں پیش کردہ سہولیات سے بھی واقف کروایا ۔ اس موقع پر ایک طالبہ طہورہ جو بہادر پورہ اقامتی اسکول میں زیر تعلیم ہیں سے بات کرنے پر بتایا کہ انہیں اپنے محلہ کے اسکول سے زیادہ اس اسکول میں بہتر پڑھایا جاتا ہے ۔ لڑکی بلال نگر علاقہ کے ساکن مرحوم سید ابراہیم کی بیٹی ہے ۔ یہ لڑکی 8 ویں جماعت میں زیر تعلیم ہے اور انگریزی پر عبور حاصل کرنے کے لیے محنت کررہی ہے اور پرنسپل عطیہ سلطانہ ایسے طالبات پر خصوصی توجہ دیتی ہیں ۔ ایک دوسری طالبہ اسماء بیگم جو ملک پیٹ علاقہ کے ساکن سید الطاف کی بیٹی ہے اس لڑکی نے بتایا کہ اس اسکول میں تعلیم اچھے انداز سے دی جاتی ہے اور ٹیچرس بھی کافی رحم دل ہیں ۔ دوسری طالبات مہک اور ماحین جو کہ حقیقی بہن ہیں ان کے والد محمد معین الدین پیشہ سے الیکٹریشن ہیں ان دونوں لڑکیوں نے بتایا کہ پہلے انہیں گھر چھوڑ کر ہاسٹل میں رہنے سے ڈر لگتا تھا ۔ لیکن اب وہ خوش ہیں چونکہ انہیں یہاں ہر طرح کی سہولت اور آزادی ہے ۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیل کا موقع اچھا کھانا اور کسی قسم کا کوئی ڈر اور مار کھانے جیسی شکایت یا پھر کوئی ہراسانی نہیں ۔ راجندر نگر چنتل میٹ اسکول کی ایک طالبہ عفیفہ انجم جو 5 ویں جماعت میں زیر تعلیم ہے ایم ایم پہاڑی علاقہ کے ساکن محمد چاند پاشاہ کی لڑکی ہے ان کے والد پیشہ سے کیاب ڈرائیور ہیں ۔ لڑکی محنت سے تعلیم حاصل کررہی ہے ۔ جب کہ ہاسٹل میں رہنے کے لیے ان کی والدہ ثمینہ بیگم اس کی کافی ہمت افزائی کررہی ہیں ۔ ثمینہ بیگم جو اس وقت اپنی لخت جگر سے ملاقات کے لیے آئی تھیں ۔ سیاست نیوز کو بتایا کہ لڑکی کی ذہن سازی کے لیے کافی وقت درکار ہوا اور ہمت بڑھانے پر لڑکی ہاسٹل میں رہنے کے لیے راضی ہوئی یہاں دی جارہی تعلیم اور سہولیات نے ان کے ذہن کو بدل دیا ہے اور وہ اپنی دونوں لڑکیوں کے داخلہ دلوانے کا بھی ارادہ کررہی ہیں جو عمر میں چھوٹی ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ لڑکی کے بہتر مستقبل کے لیے انہوں نے اقلیتی اقامتی اسکول کا انتخاب کیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT