Thursday , December 14 2017
Home / ہندوستان / تلنگانہ ریاست پر قرض کا بڑھتا بوجھ اور اخراجات

تلنگانہ ریاست پر قرض کا بڑھتا بوجھ اور اخراجات

غیر ضروری نہیں بلکہ ترقیاتی کاموں پر خرچ ہو : فورم فار گڈ گورننس
حیدرآباد ۔ 16 ۔ ستمبر : ( پریس نوٹ ) : ایم پدمانا بھاریڈی ، سکریٹری فورم فار گڈ گورننس کے بموجب وزیر اعلیٰ تلنگانہ نے کئی ایک مواقع پر کہا کہ تلنگانہ فاضل ریونیو والی ریاست ہے حالانکہ ذرائع ابلاغ میں رپورٹس آئی ہیں کہ حکومت تلنگانہ مارکیٹ سے بانڈس کی فروخت کے ذریعہ قرضے حاصل کررہی ہے ۔ قرضہ جات رورل الیکٹریفیکیشن کارپوریشن ( آر ای سی ) اور پاور فینانس کارپوریشن ( پی ایف سی ) ، ورلڈ بینک سے حاصل کئے گئے ہیں ۔ 1956 سے 2014 تک اے پی کی مشترکہ ریاست 1.8 لاکھ کروڑ کے قرض کا بوجھ رکھتی تھی ۔ دونوں ریاستوں میں قرض کی تقسیم کا عمل جاری ہے ۔ توقع ہے کہ ریاست تلنگانہ 70 ہزار کروڑ کا قرض باقی ہوسکتی ہے حالانکہ اے پی کا حصہ تقریبا 1.10 لاکھ کروڑ ہوگا ۔ دیگر الفاظ میں حکومت تلنگانہ 70 ہزار کروڑ یا 3.5 کروڑ آبادی میں فی کس 20 ہزار روپئے قرض کا خسارہ برداشت کررہی ہے ۔ اس طرح آر ای سی نے وزیر اعلیٰ کو راجیو شرما ، سی ایم ڈی ، آر ای سے کے ذریعہ 21 اگست 2015 کو 16,071 کروڑ روپئے لون کے حصہ میں ادا کئے ہیں جب کہ پی ایف سی سے حکومت تلنگانہ نے 4000 کروڑ روپئے حاصل کئے ہیں ۔ پانڈس کی فروخت سے محصلہ قرض ( 9 فیصد سود پر ) 23,000 کروڑ روپئے ، 11 فیصد سود پر آر ای سی سے 24,000 کروڑ روپئے ، پی ایف سی سے 4000 کروڑ روپئے اور 3.3 فیصد پر ورلڈ بینک سے ( گفت و شنید جاری ) 10,000 کروڑ روپئے کل 60,000 کروڑ روپئے کا تقریبا قرض تلنگانہ پر عائد ہوگا ۔ فورم فار گڈ گورننس نے محسوس کیا ہے کہ مالیہ کی کمی کے باوجود حکومت غیر ضروری چیزوں پر خرچ کررہی ہے ، جس کے سبب نان پلان خرچ بڑھ رہا ہے ۔ فورم قرض لینے کی مخالفت نہیں کررہی ہے ۔ لیکن غیر ضروری خرچ کی بجائے ترقیاتی کاموں پر فنڈس صرف کئے جائیں ۔ عوام کو اعتماد میں لیتے ہوئے حکومت کی جانب سے محصلہ قرض کی اطلاع دی جائے اور کس طرح ادا کیا جائے گا عوام کو سمجھایا جائے ۔۔

TOPPOPULARRECENT