تلنگانہ ریاست کے قیام سے قبل ٹی جے اے سی اور کے سی آر کے درمیان دوریاں

متوقع چیف منسٹر نے کودنڈا رام کو ملاقات کا وقت نہیں دیا ، انتخابات میں ٹی آر ایس کی عدم تائید پر کے سی آر ناراض

متوقع چیف منسٹر نے کودنڈا رام کو ملاقات کا وقت نہیں دیا ، انتخابات میں ٹی آر ایس کی عدم تائید پر کے سی آر ناراض

حیدرآباد۔/23مئی، ( سیاست نیوز) اب جبکہ نئی تلنگانہ ریاست کے قیام کیلئے تقریباً دس دن باقی ہیں علحدہ ریاست کیلئے جدوجہد کرنے والی تلنگانہ پولٹیکل جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور ٹی آر ایس سربراہ چندر شیکھر راؤ کے درمیان دوریاں پیدا ہوچکی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پولٹیکل جے اے سی نے انتخابات میں پارٹی کی کامیابی اور چیف منسٹر کی ذمہ داری سنبھالنے کیلئے چندر شیکھر راؤ کو مبارکباد دینے ملاقات کا وقت مانگا، لیکن کے سی آر نے ابھی تک انہیں ملاقات کیلئے وقت نہیں دیا ہے۔ جے اے سی اور کے سی آر کے درمیان بڑھتی دوریوں کے باعث تلنگانہ تحریک میں حصہ لینے والے قائدین تشویش کا شکار ہیں۔صدر نشین جے اے سی پروفیسر کودنڈا رام نے اعلان کیا تھا کہ تلنگانہ ریاست میں جے اے سی نگرانکار کا رول ادا کرے گی اور حکومت کو تلنگانہ عوام کی خواہشات اور اُمنگوں کے مطابق فیصلوں کیلئے مجبور کرے گی۔ حیرت اس بات پر ہے کہ انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد سے آج تک پروفیسر کودنڈا رام اور ان کے ساتھیوں نے کے سی آر سے ملاقات نہیں کی اور نہ ہی کے سی آر نے انہیں مدعو کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ چند دن قبل جے اے سی نے کے سی آر سے ملاقات کا وقت مانگا لیکن انہیں مایوسی ہوئی۔ تلنگانہ جدوجہد کے دوران جے اے سی کی قیادت میں ٹی آر ایس، بی جے پی، سی پی آئی اور نیوڈیموکریسی نے مشترکہ طور پر احتجاجی پروگرام منعقد کئے تھے۔ جے اے سی میں دیگر جماعتوں کے ساتھ ٹی آر ایس بھی شامل تھی لیکن عام انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی چندر شیکھر راؤ نے جے اے سی سے دوری اختیار کرلی۔ پولٹیکل جے اے سی نے تلنگانہ میں عمل کی جانے والی اسکیمات اور عوامی مسائل پر مشتمل ایک منشور تیار کرتے ہوئے ٹی آر ایس کو پیش کیا تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ جے اے سی قیادت کا جھکاؤ کانگریس پارٹی کی طرف ہونے کے بعد چندر شیکھر راؤ نے جے اے سی سے دوری اختیار کرلی۔ تحریک کی ابتداء میں ٹی آرایس نے جے اے سی کو اپنی ذیلی تنظیم کے طور پر استعمال کیا لیکن انتخابات میں جے اے سی قائدین کو ٹکٹوں کی تقسیم میں مناسب نمائندگی نہیں دی گئی۔ جے اے سی کی جانب سے انتخابات میں ٹی آر ایس کی کھل کر تائید نہ کئے جانے کے باعث بھی چندر شیکھر راؤ ناراض ہیں۔ جے اے سی نے تلنگانہ تحریک میں حصہ لینے والی تمام جماعتوں کے امیدواروں کی تائید کا اعلان کیا تھا۔ اسی دوران پروفیسر کودنڈا رام نے کے سی آر سے اختلافات کی تردید کی تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ کے سی آر نے جے اے سی کو ملاقات کا وقت نہیں دیا۔ انہوں نے کہاکہ تلنگانہ کے متوقع چیف منسٹر حکومت سازی اور نظم و نسق میں تبدیلی جیسے اہم اُمور کی تکمیل میں مصروف ہیں جس کے باعث انہوں نے جے اے سی قائدین سے ملاقات نہیں کی۔ کودنڈا رام نے کہا کہ وہ مانتے ہیں کہ کے سی آر ان سے قریب ہیں اور وہ کسی بھی وقت جاکر کے سی آر سے ملاقات کرسکتے ہیں۔ جے اے سی کے قائدین اور ٹی آر ایس قائدین اس دوری کے بارے میں کھل کر کچھ بھی کہنے سے گریز کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT