Sunday , October 21 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ سرکاری زبان ترمیمی بل 2017ء کی منظوری

تلنگانہ سرکاری زبان ترمیمی بل 2017ء کی منظوری

اردو کو دوسری سرکاری زبان کا قانونی موقف حاصل ہوگیا
حیدرآباد۔17 نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل میں آج تلنگانہ سرکاری زبان ترمیمی بل 2017ء کو منظوری دی گئی جس کے تحت اردو کو ریاست بھر میں دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا ہے۔ وقفہ سوالات کے بعد وزیر عمارات و شوارع ٹی ناگیشور رائو نے چیف منسٹر کی جانب سے بل ایوان میں متعارف کیا۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ آندھراپردیش میں تلنگانہ کے کھمم ضلع کو چھوڑکر 9 اضلاع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا موقف حاصل تھا۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد 31 اضلاع قائم کیے گئے اور حکومت تمام اضلاع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے ایوان سے اپیل کی کہ سرکاری زبان قانون میں اس ترمیم کو متفقہ طور پر منظوری دی جائے۔ کانگریس کے پی سدھاکر ریڈی، بی جے پی رکن رام چندر رائو، مجلس کے امین الحسن جعفری اور حکومت کے چیف وہپ یو سدھاکر ریڈی نے بل کی تائید کی جس کے بعد ایوان نے متفقہ طور پر بل کو منظوری دے دی۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ قانون ساز کونسل میں یہ بل صرف 5 منٹ میں منظور کرلیا گیا جبکہ کل قانون ساز اسمبلی میں اس بل پر تفصیلی مباحث ہوئے تھے۔ ریاستی وزیر ٹی ناگیشور رائو کا تعلق ضلع کھمم سے ہے جہاں بل کی منظوری کے بعد اردو کو دوسری سرکاری زبان کا موقف حاصل ہوجائے گا۔ ناگیشور رائو نے تلگو میں بل پیش کیا اور تفصیلات بیان کیں۔ بل کی منظوری کے موقع پر ایوان میں ٹی آر ایس مسلم ارکان فاروق حسین محمد سلیم اور فرید الدین موجود تھے لیکن کسی نے مباحث میں حصہ نہیں لیا۔ صبح سے ایوان میں موجود ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی اتفاق سے بل کی پیشکشی کے وقت ایوان سے باہر تھے۔ قائد اپوزیشن محمد علی شبیر ہائی کمان سے طلبی پر اچانک دہلی روانہ ہوگئے جس کے سبب وہ ایوان میں موجود نہیں تھے۔ دونوں ایوانوں میں بل کی منظوری کے بعد ریاست میں اردو کودوسری سرکاری زبان کا موقف قانونی شکل اختیار کرلے گا اور حکومت گزٹ نوٹیفیکیشن کے ذریعہ اسے نافذ کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT