Saturday , December 15 2018

تلنگانہ سکریٹریٹ میں آندھرائی ملازمین ناقابل برداشت

ملازمین کو بطور بونس ایک ماہ کی تنخواہ ، سوامی گوڑ و سرینواس گوڑ متوقع وزراء ، کے سی آر کا ملازمین تنظیموں سے خطاب

ملازمین کو بطور بونس ایک ماہ کی تنخواہ ، سوامی گوڑ و سرینواس گوڑ متوقع وزراء ، کے سی آر کا ملازمین تنظیموں سے خطاب

حیدرآباد۔/22مئی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ سکریٹریٹ میں آندھرائی ملازمین کو قطعی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کی خوشی میں تلنگانہ کے تمام ملازمین کو ایک ماہ کی تنخواہ بطور بونس جاری کی جائے گی۔ تلنگانہ ملازمین کی تنخواہیں مرکزی ملازمین کے برابر کردی جائیں گی۔ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے آج ملازمین کی تنظیموں کی جانب سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کے دوران یہ اعلانات کئے۔انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ ریاست ملک کی دیگر ریاستوں کیلئے مثالی ثابت ہوگی اور دیگر تمام ریاستوں کے ملازمین تلنگانہ حکومت کی طرح اپنی حکومت کی خواہش کریں گے۔ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے بتایا کہ نئی ریاست تلنگانہ میں اٹنڈرس سے چیف جسٹس تک سب ملازمین ہوں گے اور ہر کسی کو چاہیئے کہ وہ عوام کا احترام کریں ۔ تلنگانہ میں حکومت جمہوری ہوگی اور جمہوری حکومت میں ہر کسی کو ان کے حقوق حاصل ہوں گے۔ ریاست تلنگانہ میں آمرانہ طرز خواہ وہ کسی کا ہو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ سربراہ تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے اپنے خطاب کے دوران ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرنے والے ملازمین کی تنظیموں کے قائدین مسٹر سوامی گوڑ اور مسٹر سرینواس گوڑ کو کابینہ میں شامل کئے جانے کا اشارہ دیا۔ نئی حکومت ملازمین پر دباؤ نہیں ڈالے گی بلکہ اپنے طرز حکمرانی کے ذریعہ ملازمین کو خدمات کی انجام دہی میں مستعد بنانے کی کوشش کرے گی۔ ریاست کی خاتون ملازمین کیلئے خصوصی مراعات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حاصل مراعات میں اضافہ کے متعلق خاتون ملازمین کی تنظیموں سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔ کے سی آر نے واضح کیا کہ انہوں نے آل انڈیا سرویسس کے ذمہ داران کو یہ کہہ دیا ہے کہ تلنگانہ میں برٹش حکمرانی نہیں ہوگی بلکہ سب ملکر جمہوری طرز حکمرانی کے ذریعہ تلنگانہ کی ترقی کو یقینی بنائیں گے۔ آندھرائی ملازمین کو چاہیئے کہ وہ اپنے مقامات پر چلے جائیں اور تلنگانہ ملازمین تلنگانہ میں ہی رہیں گے۔ آندھرائی ملازمین کو تلنگانہ کے محکمہ جات میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اگر آندھرائی ملازمین کو تلنگانہ میں مسلط کیا جاتا ہے

تو ایسی صورت میں ایک اور تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔ چیف منسٹر تلنگانہ جو کہ 2جون کو اپنے عہدہ کا حلف لیں گے نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں کوئی کنٹراکٹ ملازم نہیں ہوگا بلکہ تمام کنٹراکٹ ملازمین کو مستقل کردیا جائے گا۔ آؤٹ سورسنگ کا مسئلہ تاحال حل نہیں ہوا ہے لیکن اس پر بھی آئندہ غور کیا جائے گا۔ کے سی آر نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں برقی پیداوار صرف جینکو کی جانب سے ہی ہوگی، خانگی کمپنیوں کو تلنگانہ ریاست میں پیداوار کی قطعی اجازت نہیں دے جائے گی۔ انہوں نے ملازمین کو تیقن دیا کہ حیدرآباد میں دھرنا چوک کی ضرورت باقی نہیں رہے گی کیونکہ تلنگانہ حکومت اپنے ملازمین کے حقوق کی فراہمی میں کوئی کوتاہی نہیں کرے گی بلکہ اگر کہیں کوئی اختلاف رائے پیدا ہوتا ہے تو ایسی صورت میں بات چیت کے ذریعہ مسائل کو حل کرلیا جائے گا۔ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے محکمہ برقی و آر ٹی سی کے بعض ملازمین کے مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان مسائل کو حل کرنے کیلئے حکومت خصوصی طور پر توجہ دے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ تمام محکمہ جات کو اس بات کی ہدایت جاری کرچکے ہیں کہ 2جون سے قبل انہیں آندھرائی ملازمین کی تفصیلات سے واقف کروائیں۔ علاوہ ازیں ان ملازمین کی علحدہ تفصیلات حوالے کریں جن کا تعلق آندھرا سے ہے لیکن ان کا پیدائشی مقام تلنگانہ ہے۔ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ملازمین کی تقسیم کے سلسلہ میں ہونے والی ناانصافیوں کو برداشت نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس فیصلہ سے گورنر آندھرا پردیش کو بھی واقف کرواچکے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT