Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / تلنگانہ سے راجیہ سبھا کی دو نشستوں کے لیے امیدواروں کے انتخاب پر مشاورت

تلنگانہ سے راجیہ سبھا کی دو نشستوں کے لیے امیدواروں کے انتخاب پر مشاورت

ٹی آر ایس کے حقیقی کارکنوں کو منتخب کرنے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کا ترجیحی موقف
حیدرآباد۔/21مئی، ( سیاست نیوز) آئندہ ماہ ہونے والے راجیہ سبھا کی 2 نشستوں کے انتخابات کے سلسلہ میں خواہشمند قائدین کی نظریں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ پر ٹکی ہوئی ہیں جنہوں نے امیدواروں کے انتخاب کے سلسلہ میں اپنے صلاح کاروں سے مشاورت کا آغاز کردیا ہے۔ پارٹی ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر نے امیدواروں کے ناموں کے سلسلہ میں دو مرتبہ اپنے قریبی ساتھیوں سے مشاورت کی اور اس بات کا اشارہ دیا کہ وہ امیدواروں کے انتخاب کے سلسلہ میں پارٹی کے سینئر قائدین کے ساتھ انصاف کریں گے۔ چیف منسٹر چاہتے ہیں کہ دیگر جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قائدین کو راجیہ سبھا کیلئے منتخب کرنے کے بجائے پارٹی کے قیام سے وابستہ حقیقی کارکنوں کو نمائندگی دی جائے تاکہ بنیادی سطح پر کارکنوں میں مثبت پیام جاسکے۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے 2 نشستوں کے سلسلہ میں ان طبقات کی بھی نشاندہی کرلی ہے جنہیں وہ راجیہ سبھا کا ٹکٹ دینا چاہتے ہیں۔ پارٹی اور حکومت میں بنیادی طور پر اعلیٰ طبقات کو زائد نمائندگی کی شکایات عام ہیں ایسے میں راجیہ سبھا کیلئے اعلیٰ طبقات کی نمائندگی کا امکان کم ہے۔ پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے قائدین خاص طور پر حالیہ عرصہ میں شمولیت اختیار کرنے والے بعض سابق وزراء کو راجیہ سبھا کی نشست کی پیروی میں سرگرم دیکھا گیا۔ حکومت کے مشیر اور سابق صدر پردیش کانگریس ڈی سرینواس جن کا تعلق بی سی طبقہ سے ہے وہ اس عہدہ کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں۔ پارٹی سے وابستہ ڈاکٹر کیشوراؤ راجیہ سبھا میں ٹی آر ایس کے نمائندہ ہیں اور ان کا تعلق بھی بی سی طبقہ سے ہے۔ ایسے میں چیف منسٹر کیلئے ایک اور بی سی امیدوار کو ٹکٹ دینا دشوار ہوسکتا ہے۔ اقلیتی طبقہ کے قائدین کی جانب سے بھی راجیہ سبھا کے ٹکٹ کیلئے نمائندگیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ضلع میدک سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر محمد فرید الدین اور کاماریڈی سے تعلق رکھنے والے سینئر قائد یوسف علی بھی راجیہ سبھا کی نشست کیلئے اپنی دعویداری پیش کرچکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پارٹی میں دو نشستوں کیلئے زبردست مسابقت کو دیکھتے ہوئے چیف منسٹر نے امیدواروں کے انتخاب کے مسئلہ کو انتہائی راز میں رکھا ہے۔ چیف منسٹر اس معاملہ میں سفارشات سے زیادہ اپنے فیصلہ کو ترجیح دیں گے۔ دوسری طرف نامزد عہدوں پر تقررات کا عمل جولائی تک ٹال دیئے جانے کے سبب پارٹی قائدین اور کارکنوں میں مایوسی دیکھی جارہی ہے۔ شہر اور اضلاع سے تعلق رکھنے والے پارٹی قائدین اور کارکنوں کو امید تھی کہ چیف منسٹر اپنے وعدہ کے مطابق ریاست کے یوم تاسیس تک تمام نامزد عہدوں پر تقررات کا عمل مکمل کرلیں گے لیکن سوائے چند ایک عہدوں پر نامزدگی کے بعد اس عمل کو اچانک روک دیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT