Wednesday , August 15 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ سے نا انصافی کو نیچا دکھانے کانگریس اور بی جے پی میں مسابقت

تلنگانہ سے نا انصافی کو نیچا دکھانے کانگریس اور بی جے پی میں مسابقت

دونوں جماعتوں پر ریاست کے مفادات کے خلاف کام کرنے کا الزام ، وزیر برقی جگدیش ریڈی کا بیان
حیدرآباد۔ 26 فبروری (سیاست نیوز) وزیر برقی جگدیش ریڈی نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ سے ناانصافی اور اسے نیچا دکھانے کیلئے کانگریس اور بی جے پی کے درمیان مسابقت جاری ہے ۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے جگدیش ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ سے ناانصافی کے خلاف جدوجہد کے بجائے دونوں قومی جماعتیں تلنگانہ کے مفادات کے برخلاف کام کر رہی ہے۔ ارکان مقننہ کے پربھاکر ریڈی ، پی شیکھر ریڈی اور کے جناردھن ریڈی کے ہمراہ وزیر برقی نے دونوں پارٹیوں پر الزام عائد کیا کہ وہ نئی ریاست کی ترقی کے بجائے اسے پسماندہ کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں پارٹیاں آندھراپردیش کے حق میں اظہار خیال کر رہی ہیں جبکہ تلنگانہ کا معاملہ آئے تو مخالفت کی جارہی ہے ۔ کانگریس کے سینئر قائد جئے رام رمیش کو مخالف تلنگانہ قرار دیتے ہوئے وزیر برقی نے کہا کہ جئے رام رمیش نے پھر ایک مرتبہ تلنگانہ سے اپنی دشمنی ظاہر کردی ہے ۔ آندھراپردیش کیلئے خصوصی موقف حاصل کرنے جئے رام رمیش جدوجہد کر رہے ہیں اور انہوں نے کانگریس برسر اقتدار آنے پر وعدہ کی تکمیل کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کانگریس پارٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ جئے رمیش کے بیان پر موقف کی وضاحت کریں ۔ وزیر برقی نے کہا کہ ایک طرف تلنگانہ کے کانگریس قائدین عوامی تائید حاصل کرنے کیلئے بس یاترا کا اہتمام کر رہے ہیں تو دوسری طرف وہ پراجکٹس کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے موجودہ قائدین نے تلنگانہ تحریک کے دوران آندھرائی حکمرانوں کا ساتھ دیا تھا ۔ وزیر نے مزید کہا کہ بس یاترا میں شامل کانگریس قائدین پر عوام بھروسہ نہیں کر یں گے ۔ مرکز میں کانگریس برسر اقتدار آنے پر آندھراپردیش کی ترقی کا وعدہ افسوسناک ہے۔ آندھراپردیش کے پولاورم پراجکٹ کو قومی پراجکٹ کا درجہ دیا گیا ۔ جبکہ تلنگانہ کے پراجکٹس کے بارے میں کانگریس قائدین خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ وزیر برقی نے ریمارک کیا کہ کانگریس کی بس یاترا دراصل پارٹی کی آخری یاترا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں کانگریس اور تلگو دیشم کا صفایا ہوجائے گا ۔ بی جے پی تلنگانہ میں اپنے قدم نہیں جما پائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کو 119 نشستوں میں بآسانی 100 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT