Thursday , January 18 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ سے کانگریس کے 16 لوک سبھا و 110 اسمبلی امیدواروں کو قطعیت

تلنگانہ سے کانگریس کے 16 لوک سبھا و 110 اسمبلی امیدواروں کو قطعیت

تمام موجودہ ارکان پارلیمنٹ کو دوبارہ ٹکٹ : محبوب نگر سے جئے پال ریڈی اور حیدرآباد سے ایس کشن ریڈی امیدوار محمد علی شبیر کو کاما ریڈی ‘ عبیداللہ کوتوال کو محبوب نگر ‘ ہنمنت راؤ کو عنبر پیٹ اور وجئے شانتی کو میدک اسمبلی حلقہ سے ٹکٹ

تمام موجودہ ارکان پارلیمنٹ کو دوبارہ ٹکٹ : محبوب نگر سے جئے پال ریڈی اور حیدرآباد سے ایس کشن ریڈی امیدوار

محمد علی شبیر کو کاما ریڈی ‘ عبیداللہ کوتوال کو محبوب نگر ‘ ہنمنت راؤ کو عنبر پیٹ اور وجئے شانتی کو میدک اسمبلی حلقہ سے ٹکٹ
حیدرآباد ۔ 5 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : کانگریس ہائی کمان نے تلنگانہ کے 16 لوک سبھا اور اسمبلی کے 110 امیدواروں کو قطعیت دے دی ۔ لوک سبھا امیدواروں کی فہرست کی اجرائی کے بعد سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر احمد پٹیل کی فون پر دی گئی ہدایت کے بعد تاہم اسمبلی امیدواروں کی فہرست کی اجرائی کو روک دیا گیا ۔ پارٹی نے جن امیدواروں کا اعلان کیا ہے ان میں لوک سبھا حلقوں سے تمام موجودہ ارکان پارلیمنٹ کو ٹکٹ دیا ہے اور مرکزی وزیر مسٹر ایس جئے پال ریڈی کو چیوڑلہ کی بجائے محبوب نگر سے امیدوار بنایا گیا ہے ۔ مرکزی وزرا سروے ستیہ نارائنا اور بلرام نائک کو ملکاجگری اور محبوب آباد ہی سے ٹکٹ دیا گیا ہے ۔ پارٹی نے جی ویویک کو ‘ کانگریس میں واپسی کے بعد پیدا پلی سے ٹکٹ دیا ہے جبکہ چیوڑلہ سے سابق وزیر داخلہ سبیتااندرا ریڈی کے فرزند کارتک ریڈی کو امیدوار بنایا گیا ہے ۔ اسمبلی حلقوں میں محمد علی شبیر ( کاماریڈی ) ، عبید اللہ کوتوال ( محبوب نگر ) ، وی ہنمنت راؤ ( عنبر پیٹ ) ، وجئے شانتی ( میدک ) تمام ارکان پارلیمنٹ کو دوبارہ امیدوار بنایا گیا ۔ سی پی آئی کیلئے حلقہ لوک سبھا ( کھمم ) اور 9 اسمبلی حلقہ چھوڑ دئیے گئے ۔ کانگریس نے 5 اقلیتوں کو اہمیت دی جن میں 4 مسلم قائدین شامل ہیں ۔ کانگریس کی صدر مسز سونیا گاندھی کی قیام گاہ پر کانگریس الیکشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس کے بعد رات 10 بجے کانگریس کے سینئیر قائد سرجے والا نے تلنگانہ امیدواروں کی فہرست جاری کی ۔ اس موقع پر کانگریس کے قائد ٹام اُڈاکان بھی موجود تھے ۔ ٹی آر ایس سے کانگریس میں شامل ہونے والی رکن پارلیمنٹ مسز وجئے شانتی کو اس مرتبہ لوک سبھا کی بجائے اسمبلی حلقہ میدک سے امیدوار بنایا گیا ہے ۔ سابق وزیر مسز سبیتا اندرا ریڈی کے فرزند مسٹر کارتک ریڈی کو حلقہ لوک سبھا چیوڑلہ کا امیدوار بنایا گیا ہے ۔
اس حلقہ کی نمائندگی کرنے والے مرکزی وزیر مسٹر ایس جئے پال ریڈی کو حلقہ لوک سبھا محبوب نگر کا امیدوار بنایا گیا ہے ۔ کانگریس ایم ایل سی مسٹر نندی ایلیا کو حلقہ لوک سبھا ناگر کرنول کا امیدوار بنایا گیا ہے ۔ مسٹر مدھوگوڑ یشکی ( نظام آباد ) ، مسٹر سروے ستیہ نارائنا ( ملکاجگری ) ، مسٹر بلرام نائیک ( محبوب آباد ) ، مسٹر پونم پربھاکر ( کریم نگر ) ، مسٹر سریش شٹکار ( ظہیر آباد ) ، مسٹر انجن کمار یادو ( سکندرآباد ) ، مسٹر جی سکھیندر ریڈی ( نلگنڈہ ) ، مسٹر کے راج گوپال ریڈی ( بھونگیر ) ، ڈاکٹر نریش یادو ( عادل آباد ) ، ڈاکٹر شراون کمار ریڈی ( میدک ) ، سماکشن ریڈی ( حیدرآباد ) کو امیدوار بنایا گیا ہے ۔ جیسے ہی اسمبلی کی فہرست کا اعلان ہونے والا تھا سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر مسٹر احمد پٹیل کا پریس کانفرنس میں موجود ٹام اڈاکان کو ٹیلی فون آیا اور انہوں نے ارکان اسمبلی کی فہرست کو جاری نہ کرنے کی ہدایت دی ۔ جس پر سرجے والا نے کہا کہ تکنیکی مسائل کی وجہ سے انہیں اسمبلی ارکان کی فہرست وصول نہیں ہوئی ۔ میڈیا کو ای میل پر فہرست روانہ کردی جائے گی ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ کل تلنگانہ میں ایم پی ٹی سی اور زیڈ پی ٹی سی کے انتخابات منعقد ہورہے ہیں اس لیے اسمبلی کی فہرست کو روکنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ فہرست میں نام کی عدم موجودگی پر کانگریس کے دعویدار قائدین یا ان کے حامیوں سے نقصان پہونچنے کے ڈر سے فہرست کو روکا گیا ہے اور فہرست کے چند ناموں میں تبدیلی کے بھی امکانات ہیں ۔ اسمبلی کی فہرست میں کانگریس کے ایم ایل سی مسٹر محمد علی شبیر ( کاماریڈی ) ، مسٹر عبید اللہ کوتوال ( محبوب نگر ) ، کانگریس کے رکن راجیہ سبھا مسٹر وی ہنمنت راؤ ( عنبر پیٹ ) ، صدر اے پی مہیلا کانگریس کمیٹی مسز اے للیتا ( نظام آباد اربن ) ، ایم ایل سی مسٹر ڈی سرینواس نظام آباد ( رورل ) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس مسٹر پنالہ لکشمیا ( جنگاؤں ) سابق ڈپٹی چیف منسٹر دامودھر راج نرسمہا ( اندول ) ، ورکنگ پریسیڈنٹ تلنگانہ کانگریس مسٹر اتم کمار ریڈی ( حضور نگر ) ، سابق ڈپٹی اسپیکر مسٹر بٹی وکرامارک ( مدیرا ) مسٹر جگا ریڈی ( سنگاریڈی ) ، مسٹر کے وینکٹ ریڈی نلگنڈہ اسمبلی حلقہ کھمم سے جہاں سابق رکن اسمبلی مسٹر یونس سلطان کا نام لیا جارہا تھا اب مسٹر پی اجئے کا نام سنا جارہا ہے ۔ اس کے علاوہ کانگریس نے تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے 4 قائدین کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے جس میں عثمانیہ یونیورسٹی کے دو طلبہ بھی شامل ہے ۔ پارٹی نے کنٹونمنٹ بورڈ سے ڈاکٹر شنکر راؤ کو ٹکٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے تاہم اس بار میں وضاحت سے کچھ نہیں کہا گیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT