Saturday , December 15 2018

تلنگانہ طلبہ کو ہی تعلیمی فیس ادا کرنے کا اعادہ : چیف منسٹر

آندھرا کے طلبہ کو سہولت نہیں رہے گی ، اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد کے چندرشیکھر راؤ کی وضاحت

آندھرا کے طلبہ کو سہولت نہیں رہے گی ، اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد کے چندرشیکھر راؤ کی وضاحت
حیدرآباد۔یکم اگسٹ، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے پھر ایک مرتبہ واضح کردیا کہ ان کی حکومت صرف تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو ہی تعلیمی فیس ادا کرے گی جبکہ پڑوسی ریاست آندھرا پردیش کے طلبہ کو یہ سہولت فراہم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیںہوتا۔ چیف منسٹر نے آج مادھا پور میں تلنگانہ میں گھر گھر سروے کے سلسلہ میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی۔ ریاستی وزراء، کلکٹرس، جوائنٹ کلکٹرس، آر ڈی اوز، ایم آر اوز اور محکمہ جات کے اعلیٰ عہدیداروں نے اس اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر تلنگانہ نے تعلیمی امداد سے متعلق حکومت کی نئی اسکیم پر عمل آوری کے سلسلہ میں موقف کی وضاحت کردی۔ انہوں نے کہا کہ فیس باز ادائیگی کے مسئلہ پر ریاستی حکومت پر زبردست دباؤ ہے اور ان کی حکومت صرف غریب اور مستحق طلبہ کو ہی تعلیمی فیس ادا کرے گی۔انہوں نے طلبہ کے مقامی ہونے سے متعلق حکومت کی شرط کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ سابق میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ نے بھی فیصلہ سنایا کہ طلبہ کے مقامی ہونے کے بارے میں طئے کرنے کا اختیار اُس ریاست کے عہدیداروں کو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی فیس کے مسئلہ پر طلبہ کو اُلجھن کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں، کسی بھی مستحق طالب علم کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جائے گی۔ چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ اس مسئلہ پر عہدیداروں کی معمولی غلطی بھی مستقبل کیلئے نقصاندہ ثابت ہوگی۔ انہوں نے عہدیداروں کو متنبہ کیا کہ وہ طلبہ کے مقامی ہونے سے متعلق بوگس سرٹیفکیٹس کی اجرائی سے گریز کریں ورنہ ایسے عہدیداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مقامی ہونے سے متعلق سرٹیفکیٹ کی اجرائی کے سلسلہ میں عہدیداروں کو انتہائی محتاط ہونا چاہیئے، ان کی بے قاعدگیوں پر حکومت خاموش نہیں رہے گی اور پھر بعد میں حکومت پر تنقید سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ طلبہ کو تعلیمی فیس سے متعلق نئی اسکیم کے سلسلہ میں حکومت نے 1956ء سے تلنگانہ میں قیام کی شرط عائد کی ہے اور مقامی ہونے سے متعلق سرٹیفکیٹ کی اجرائی کی ذمہ داری محکمہ مال کے عہدیداروں کو دی گئی ہے۔ انہوں نے ضلع کلکٹرس کو سرٹیفکیٹس کی اجرائی کے سلسلہ میں چوکسی کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی بھی ضلع میں بوگس سرٹیفکیٹس پائے گئے تو ان کی ذمہ داری ضلع کلکٹر پر عائد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں 20لاکھ سے زائد بوگس راشن کارڈز ہیں جن کے باعث عوام کو سرکاری مراعات کے حصول کے سلسلہ میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بوگس راشن کارڈز کے سبب حقیقی غریب اور مستحق خاندان نقصان اٹھارہے ہیں۔انہوں نے عہدیداروں سے کہا کہ وہ سرکاری خزانہ کے محافظ کا رول ادا کریں اور بے قاعدگیوں کے ذریعہ سرکاری خزانہ پر بوجھ عائد کرنے سے بچیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام سرکاری اسکیمات پر عمل آوری کو آن لائن کرتے ہوئے حقیقی مستحقین تک فوائد پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔ چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ حکومت نے عوام سے جو وعدے کئے تھے ان پر بہر صورت عمل کیا جائے گا اور ان کی حکومت تمام وعدوں کی تکمیل کو یقینی بنائے گی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کسانوں کے قرضہ جات کی معافی، غریبوں کو دو بیڈ روم پر مشتمل مکانات کی فراہمی جیسی فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کے اقدامات جلد شروع کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ فلاحی اسکیمات کے فوائد حقیقی مستحقین تک پہنچانا حکومت کی اولین ترجیح ہوگی۔ چندر شیکھر راؤ نے میڈیا کے بعض گوشوں پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا جو حکومت کے بارے میں بے بنیاد خبروں کی اشاعت کے ذریعہ عوام میں اُلجھن پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر ایک انگریزی روز نامہ میں شائع شدہ خبر پر اپنی برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مذکورہ اخبار اس بارے میں فوری وضاحت کرے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کو اپنے حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی بھی بعض میڈیا حکومت کے امیج کو نقصان پہنچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں جمہوریت کیلئے خوشگوار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بے بنیاد خبروں کی اشاعت ترک کرنا خود میڈیا کے حق میں بہتر ہوگا۔ چیف منسٹر نے اس بات کا اشارہ دیا کہ حکومت کی جانب سے بہت جلد ایک اخبار کی اشاعت کا آغاز ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کئی معاملات میں میڈیا عوام میں اُلجھن پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ انہوں نے میڈیا کو مشورہ دیا کہ وہ سرکاری اسکیمات کے بارے میں کچھ بھی لکھنے سے قبل حکومت سے ربط پیدا کریں۔

TOPPOPULARRECENT