Sunday , August 19 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ طلبہ کی فیس ری ایمبرسمنٹ ، رہنمایانہ خطوط پر تنازعہ کا امکان

تلنگانہ طلبہ کی فیس ری ایمبرسمنٹ ، رہنمایانہ خطوط پر تنازعہ کا امکان

طالب علم اور والد کی تلنگانہ میں پیدائش ضروری، طلبہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے

طالب علم اور والد کی تلنگانہ میں پیدائش ضروری، طلبہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے
حیدرآباد۔/22جون، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے طلبہ کو فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم پر عمل آوری کا فیصلہ کیا لیکن اس سے استفادہ کیلئے جو رہنمایانہ خطوط طئے کئے جارہے ہیں اس سے طلبہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکومت نے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کی صدارت میں منعقدہ کُل جماعتی اجلاس میں فیصلہ کیا تھا کہ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو تعلیمی فیس ادا کی جائے گی اور آندھرا پردیش میں تعلیم حاصل کرنے والے تلنگانہ کے طلبہ بھی اس اسکیم سے استفادہ کے مستحق ہوں گے۔ حکومت نے آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو تعلیمی فیس ادا نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ اس اسکیم پر عمل آوری کے سلسلہ میں عہدیداروں کو رہنمایانہ خطوط طئے کرنے کی ہدایت دی گئی۔ اس کے مطابق یہ شرط رکھی جائے گی کہ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے علاوہ ان کے والدکا تلنگانہ میں پیدائش سے متعلق سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہوگا۔ سابق میں یہ شرط رکھی گئی تھی کہ استفادہ کرنے والے طلبہ تلنگانہ میں پیدائش سے متعلق اپنا سرٹیفکیٹ داخل کریں لیکن اب والد کی بھی تلنگانہ میں پیدائش کو لازمی قرار دیا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے اس شرط کو تقریباً منظوری دے دی ہے۔ اس نئی شرط سے کئی طلبہ جو تلنگانہ میں تعلیم حاصل کررہے ہیں وہ والدین کے غیر مقامی ہونے کے سبب اس اسکیم سے استفادہ سے محروم ہوسکتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کا کہنا ہے کہ اس شرط کے ذریعہ حقیقی تلنگانہ طلبہ کے ساتھ انصاف کیا جاسکتا ہے۔ رہنمایانہ خطوط توقع ہے کہ بہت جلد جاری کئے جائیں گے تاہم اس شرط کی شمولیت سے ایک نیا تنازعہ پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT